کبھی کبھی میں بیٹھ کر اپنے بچپن اور آج کے دور کا موازنہ کرتا ہوں تو بہت سے سوالات ذہن میں آتے ہیں۔ آخر ایسا کیا بدل گیا کہ ہم وہ نسل تھے جو اپنے والدین کی ناراضگی سے ڈرتے تھے، لیکن آج ہماری نسل اپنی اولاد کی ناراضگی سے خوفزدہ رہتے ہے ہم نے اپنے والدین کے سامنے اپنی خواہشات خاموش کر لیں، مگر آج ہم اپنی اولاد کے سامنے اپنی بات کہتے ہوئے بھی کئی مرتبہ سوچتے ہیں۔
مجھے آج بھی اپنا وہ زمانہ یاد آتا ہے جب والدین کی معمولی سی ناراضی بھی دل پر اثر کرتی تھی۔ اگر والد صاحب کسی بات پر منع کر دیتے تو خواہ دل کتنا ہی چاہتا، ہم خاموشی سے ان کی بات مان لیتے تھے۔ ہمارے لیے ان کا فیصلہ اہم تھا اور ان کی خوشی اپنی خواہشات سے بڑھ کر تھی۔
ہم نے اپنے والدین کے سامنے کبھی اپنی بات منوانے کو اپنی جیت نہیں سمجھا۔ اگر اختلاف ہوتا بھی تو کوشش کرتے کہ ہماری وجہ سے ان کا دل نہ دکھے۔ ہمارے والدین کے پاس آج جیسی آسائشیں نہیں تھیں۔ نہ مہنگے موبائل فون تھے، نہ ہر بچے کے پاس اپنی الگ دنیا تھی، لیکن گھروں میں ایک دوسرے کے لیے وقت، رشتوں کا احترام اور بڑوں کی بات ماننے کا ایک خوبصورت ماحول ضرور تھا۔
وہ ہماری غلطیوں پر ڈانٹتے تھے، کبھی سختی بھی کرتے تھے اور کبھی ہماری پسند کے خلاف فیصلہ بھی سنا دیتے تھے۔ اس وقت شاید ہمیں ان کی بات سمجھ نہیں آتی تھی، لیکن آج جب خود زندگی کی ذمہ داریاں اٹھا رہے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ان کے بہت سے فیصلوں میں ہماری بھلائی چھپی ہوئی تھی۔پھر وقت بدلا، ہم بڑے ہوئے، اپنی زندگیوں میں مصروف ہو گئے اور خود والدین بن گئے۔ ہم نے دل میں یہ خواہش رکھی کہ ہماری اولاد کو وہ مشکلات نہ دیکھنی پڑیں جو شاید ہم نے اپنے زمانے میں برداشت کی تھیں۔
ہم نے اپنی استطاعت سے بڑھ کر بچوں کی خواہشات پوری کیں۔ ان کی تعلیم، لباس، خوراک، موبائل فون، تفریح اور بہتر مستقبل کے لیے دن رات محنت کی۔ بعض اوقات اپنی خواہشات قربان کر دیں، صرف اس لیے کہ ہمارے بچے خوش رہیں۔لیکن کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ کیا ہم نے انہیں خوشیاں دیتے دیتے انکار سننے کی عادت ہی ختم کر دی؟ کیا ہم نے ان کی ہر خواہش پوری کرنے کی کوشش میں انہیں صبر اور برداشت سکھانا بھلا دیا؟
آج صورت حال یہ ہے کہ بعض اوقات والدین اپنی اولاد سے کوئی بات کہتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں بچہ ناراض نہ ہو جائے، بات کرنا بند نہ کر دے یا یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ والدین اس کی زندگی میں مداخلت کر رہے ہیں۔یہ تبدیلی مجھے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ جن والدین نے اپنی پوری زندگی بچوں کی خوشیوں کے لیے وقف کر دی، اگر وہی بڑھاپے میں اپنی اولاد کے سامنے اپنی بات کہنے سے ڈرنے لگیں تو یقیناً یہ صرف ایک گھر کا نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کا بھی مسئلہ ہے۔
میرے نظر میں والدین کی محبت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اپنی اولاد کی ہر بات مانیں۔ بعض اوقات انکار کرنا، غلطی پر روکنا اور صحیح راستہ دکھانا بھی محبت ہی ہوتی ہے۔ والدین اگر ہر بات پر خاموش رہیں گے تو پھر بچوں کو اپنی غلطیوں کا احساس کون دلائے گا؟کیا ہم نے انہیں بتایا ہے کہ ماں باپ کی خدمت صرف ان کی مالی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں؟ کبھی ان کے پاس بیٹھنا، ان کی بات سننا، ان کا حال پوچھنا اور ان کے ساتھ چند لمحے گزارنا بھی بہت بڑی خوشی ہوتی ہے۔
آج کے بچے پہلے سے زیادہ باخبر ہیں، ان کے پاس معلومات اور سہولتوں کی کمی نہیں۔ لیکن معلومات اور تربیت دو مختلف چیزیں ہیں۔ تعلیم انسان کو کامیابی کے راستے دکھاتی ہے، جبکہ تربیت اسے انسانوں کی قدر کرنا سکھاتی ہے۔میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ صرف اولاد کو قصوروار ٹھہرانا درست نہیں۔ والدین کو بھی وقت کے ساتھ اپنی سوچ میں لچک پیدا کرنی چاہیے۔ بچوں کی بات سننی چاہیے، ان کے مسائل سمجھنے چاہئیں اور ان کے ساتھ ایسا تعلق قائم کرنا چاہیے جہاں وہ بغیر خوف کے اپنے دل کی بات کر سکیں۔
لیکن آزادی کا مطلب بے ادبی نہیں اور اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا مطلب والدین کے جذبات کو نظر انداز کرنا بھی نہیں۔ اختلاف ہر انسان کا حق ہے، مگر اختلاف کے دوران احترام قائم رکھنا اچھی تربیت کی نشانی ہے۔ایک بات جو میں اکثر سوچتا ہوں وہ یہ ہے کہ بچے ہمارے الفاظ سے زیادہ ہمارے رویوں کو یاد رکھتے ہیں۔ اگر ہم اپنے والدین کی عزت کریں گے تو ہماری اولاد بھی یہی سیکھے گی۔ اگر ہم اپنے بڑوں کو نظر انداز کریں گے تو پھر بچوں سے احترام کی توقع کیسے رکھ سکتے ہیں؟
زندگی میں ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب والدین ہمارے درمیان موجود نہیں رہتے۔ پھر ان کی آواز، ان کی نصیحتیں، ان کی ڈانٹ اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے معمولی لمحات بھی یاد آتے ہیں۔ اس وقت انسان کو احساس ہوتا ہے کہ جن باتوں کو کبھی پابندی سمجھتا تھا، وہ دراصل محبت، فکر اور حفاظت کا ایک خوبصورت انداز تھیں۔
میں نہیں چاہتا کہ ہماری آنے والی نسل صرف دولت، جائیداد اور آسائشوں کے پیچھے بھاگے۔ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے بچے کامیاب بھی ہوں، خودمختار بھی بنیں، لیکن اپنے رشتوں کی قدر کرنا بھی نہ بھولیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ والدین کی موجودگی کتنی بڑی نعمت ہے۔
ہمیں اپنی اولاد کو اتنی محبت ضرور دینی چاہیے کہ وہ ہم سے اپنے دل کی ہر بات کر سکے، لیکن اتنی تربیت بھی دینی چاہیے کہ وہ ہماری آنکھوں میں دکھ اور ناراضی کو محسوس کر سکے۔ والدین کا احترام کسی خوف سے نہیں بلکہ محبت اور احساس سے پیدا ہونا چاہیے۔شاید ہم واقعی والدین سے ڈرنے والی آخری نسل اور اولاد سے ڈرنے والی پہلی نسل ہیں۔ لیکن ابھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔ ہم اپنی اولاد کی تربیت میں محبت کے ساتھ ادب، آزادی کے ساتھ ذمہ داری اور خوشیوں کے ساتھ صبر و برداشت بھی شامل کر سکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے والدین کو صحت و سلامتی عطا فرمائے، جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی مغفرت فرمائے، اور ہماری اولاد کو نیک، بااخلاق اور والدین کی قدر کرنے والا بنائے۔ دعا ہے کہ ہماری اولاد ہماری محبت کو کمزوری نہ سمجھے، ہماری خاموشی کو بے بسی نہ سمجھے اور ہمارے احترام کو مجبوری نہیں بلکہ محبت کا خوبصورت رشتہ سمجھے۔ آمین۔