!ہمیں اختلاف نہیں،صرف تائید چاہیے

کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان صرف اس کی بلند و بالا عمارتیں، تعلیمی ادارے یا ترقیاتی منصوبے نہیں ہوتے بلکہ اس کا اصل معیار یہ ہوتا ہے کہ وہاں مختلف خیالات رکھنے والے افراد کو کس حد تک برداشت کیا جاتا ہے۔ اختلافِ رائے انسانی معاشرے کا ایک فطری حصہ ہے، کیونکہ ہر شخص کی سوچ، تجربات، ترجیحات اور نقطۂ نظر دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے کا ایک تلخ المیہ یہ ہے کہ ہم اختلاف کو دلیل کے بجائے دشمنی سمجھنے لگے ہیں۔ کسی کی بات سے اتفاق نہ ہو تو اسے سمجھنے یا اس کا جواب دینے کے بجائے اس کی ذات، کردار اور نیت پر حملے شروع کر دیے جاتے ہیں۔

پاکستان میں اس رویے کی نمایاں مثال سیاسی گفتگو میں دیکھی جا سکتی ہے۔ سیاسی وابستگیاں اس حد تک جذباتی شکل اختیار کر چکی ہیں کہ بعض افراد اپنے پسندیدہ رہنما کی ہر بات کو درست اور مخالف کی ہر بات کو غلط سمجھتے ہیں۔ کسی سیاسی جماعت یا رہنما پر تنقید کرنے والے کو فوراً مخالف، غدار یا کسی مخصوص ایجنڈے کا حصہ قرار دے دیا جاتا ہے۔ یوں سیاسی اختلاف پالیسیوں اور کارکردگی پر بحث کے بجائے ذاتی مخالفت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جمہوریت کا بنیادی حسن ہی یہ ہے کہ شہری حکمرانوں سے سوال کر سکیں، ان کی پالیسیوں پر تنقید کر سکیں اور متبادل رائے پیش کر سکیں۔ اگر اختلاف کرنے والے کو خاموش کرانا ہی مقصد بن جائے تو پھر جمہوری اقدار محض نعروں تک محدود رہ جاتی ہیں۔

یہ رویہ صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی اداروں، گھروں، دفاتر اور سماجی حلقوں میں بھی موجود ہے۔ ایک طالب علم اگر استاد کی رائے سے مختلف مؤقف اختیار کرے تو اسے بعض اوقات بدتمیز یا نافرمان سمجھ لیا جاتا ہے۔ گھروں میں نوجوانوں کے خیالات کو نسلوں کا فرق قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، جبکہ دفاتر میں کسی فیصلے پر سوال اٹھانے والے ملازم کو غیر تعاون کرنے والا تصور کیا جاتا ہے۔ نتیجتاً لوگ اپنی اصل رائے دینے کے بجائے خاموش رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ جہاں سوال کرنے کی حوصلہ شکنی ہو، وہاں نئی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

سوشل میڈیا نے اس مسئلے کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ فیس بک، ایکس، ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر اختلاف کرنے والوں کو تنقید کے بجائے تضحیک، گالم گلوچ اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات کسی کی ایک تحریر یا چند سیکنڈ کی ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک شخص کو عوامی تنقید کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم دلیل سے زیادہ ردعمل، تحقیق سے زیادہ جذبات اور مکالمے سے زیادہ الزام تراشی کو اہمیت دینے لگے ہیں۔ یوں سوشل میڈیا اظہارِ رائے کا پلیٹ فارم ہونے کے بجائے بعض اوقات دوسروں کی تذلیل کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

اس رویے کی ایک بڑی وجہ ہماری تربیت اور معاشرتی سوچ بھی ہے۔ ہم نے بچپن سے اکثر یہ سیکھا ہے کہ بڑوں، بااثر افراد یا اکثریت کی بات سے اختلاف کرنا بے ادبی ہے۔ نتیجتاً ہم نے احترام اور اتفاق کو ایک ہی چیز سمجھ لیا ہے، حالانکہ کسی کی عزت کرتے ہوئے اس کی رائے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح تنقید کو ذاتی حملہ سمجھنے کی عادت بھی مکالمے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کرنے والا ہر شخص ہمارا مخالف نہیں ہوتا اور ہر تنقید کرنے والا ہماری ناکامی کا خواہش مند نہیں ہوتا۔ بعض اوقات وہی شخص ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے جو ہماری بہتری چاہتا ہے۔

اسلامی تعلیمات بھی حکمت، دلیل اور اچھے انداز میں گفتگو کی اہمیت پر زور دیتی ہیں۔ قرآن مجید میں دعوت دینے کے لیے حکمت اور اچھی نصیحت کا طریقہ اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اختلاف اور گفتگو میں اخلاقی حدود برقرار رکھنا ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ کسی کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے اس کی عزتِ نفس مجروح کرنا نہ دانش مندی ہے اور نہ ہی معاشرتی اخلاقیات کے مطابق۔

ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے لیے ضروری ہے کہ گھروں میں بچوں کو سوال کرنے اور اپنی رائے پیش کرنے کا موقع دیا جائے، تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ اور مکالمے کو فروغ دیا جائے اور سیاسی و سماجی سطح پر مخالف نقطۂ نظر کو سننے کا حوصلہ پیدا کیا جائے۔ میڈیا کو بھی سنجیدہ مکالمے کی روایت مضبوط کرنی چاہیے، جہاں شور اور الزام تراشی کے بجائے حقائق اور دلائل کو اہمیت دی جائے۔

آخرکار اختلافِ رائے کسی معاشرے کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی فکری زندگی کی علامت ہے۔ اصل مسئلہ مختلف سوچ رکھنے والے افراد کا وجود نہیں بلکہ ہماری وہ ذہنیت ہے جو اپنی رائے کو آخری سچ اور دوسروں کی رائے کو ناقابلِ قبول سمجھتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی شخص سے اختلاف کرنے کے لیے اسے دشمن بنانا ضروری نہیں۔ معاشرے اس وقت ترقی کرتے ہیں جب وہاں سوال اٹھانے کی آزادی، جواب دینے کا حوصلہ اور دوسروں کو سننے کا ظرف موجود ہو۔ کیونکہ جہاں اختلاف برداشت نہیں کیا جاتا، وہاں مکالمہ ختم ہو جاتا ہے، اور جہاں مکالمہ ختم ہو جائے، وہاں سوچ کی ترقی بھی رک جاتی ہے۔