وفاقی محکموں میں بلوچستان کے لیے 6 ہزار آسامیاں مشتہر، تربیت حاصل کرنے والوں کو 50 ہزار روپے ماہانہ وظیفہ بھی ملے

وزیر اعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ہدایت پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) کے چیئرمین انجینئر قمر الاسلام راجہ کی آج سہہ پہر تفصیلی ملاقات ۔ نامزد ایگزیکٹو ڈائریکٹر نادیہ کریم بھی ملاقات میں موجود تھیں جنھوں نے وزیر اعلی کو نیفٹیک کے تحت جاری اور مجوزہ پروگراموں سے آگاہ کیا ۔

وزیر اعلی نے اس یقین کا اظہار کیا کہ نیفٹیک انجینیئر قمرالاسلام راجہ کی سربراہی میں کارکردگی کے نئے معیار قائم کرے گا۔ انھوں نے مختصر ترین وقت میں ایک جامع پروگرام ترتیب دینے پر نامزد ایگزیکٹو ڈائریخٹر نیفٹیک کی تعریف کی۔ جنوبی بلوچستان کے پسماندہ اضلاع سمیت صوبے بھر کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے جاری یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی ۔

ملاقات کے دوران وزیر اعلیٰ بلوچستان کو بتایا گیا کہ پروگرام کے تحت صوبے کے 25 ہزار نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری ہیں، وفاقی حکومت کے مختلف محکموں میں بلوچستان کے لئے 6 ہزار آسامیاں مشتہر کی جاچکی ہیں جبکہ مزید آسامیاں بھی مرحلہ وار مشتہر کی جارہی ہیں۔ بریفنگ میں وزیر اعلی کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے 10 ہزار نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں فنی و تکنیکی تربیت فراہم کی جائے گی،

جس کا مقصد انہیں ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ ہنر سے آراستہ کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ کو مزید بتایا گیا کہ رواں سال دسمبر تک 2 ہزار نوجوانوں کو تربیت دینے کا عمل شروع ہو جائے گا جنہیں دیگر ممالک میں روزگار کے مواقع فراہم کرنے اور بین الاقوامی لیبر مارکیٹ تک رسائی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انجینیئر قمرالاسلام نے وزیر اعلی کو آگاہ کیا کہ وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل کی خصوصی دلچسپی سے تمام زیر تربیت نوجوانوں کو اسلام آباد سمیت ملک کے مختلف حصوں میں خصوصی تربیت کے ساتھ ساتھ پچاس ہزار ماہانہ وظیفہ بھی دیا جائے گا جس کے لئے فنڈز کی فراہمی یقینی بنا دی گئی ہے۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی اور جدید فنی مہارتوں سے آراستہ کرنا صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل ہے، نوجوان صوبے کا قیمتی اثاثہ ہیں اور ان کی صلاحیتوں کو مثبت اور تعمیری انداز میں بروئے کار لانے کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ نوجوانوں کو محض ڈگریاں دینے کے بجائے ایسے فنی اور تکنیکی ہنر فراہم کرنے کی ضرورت ہے جو انہیں عملی زندگی میں باعزت روزگار کے حصول کے قابل بنا سکیں۔

تربیتی پروگراموں کو مارکیٹ کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جائے تاکہ تربیت مکمل کرنے والے نوجوانوں کے لیے روزگار کے پائیدار مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ کاری کے ذریعے یوتھ ایمپلائمنٹ پروگرام پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور بالخصوص جنوبی بلوچستان کے فوکسڈ اضلاع کے نوجوانوں کو اس پروگرام سے بھرپور استفادے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع سے منسلک کرنے کے لیے بھی مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے۔

وزیر اعلیٰ نے اس امر پر زور دیا کہ فنی تربیت اور روزگار کے منصوبوں کے ثمرات حقیقی معنوں میں مستحق نوجوانوں تک پہنچنے چاہئیں اور ان پروگراموں کی پیش رفت، شفافیت اور نتائج کو باقاعدگی سے مانیٹر کیا جائے۔ ملاقات میں سیکرٹری لیبر اینڈ مین پاور بلوچستان صالح محمد ناصر، سربراہ بی ٹیوٹا میجر (ریٹائرڈ) عبدالکبیر ذرّغوں اور دیگر اعلی افسران بھی موجود تھے ۔
دو کالمی سرخی نکال دیں