
نوجوان استاد کی بے بسی اور بزرگ استاد کی خاموش فریاد,وہ رات بھر جاگ کر پڑھتا رہا۔ کبھی بجلی نہ ہوتی تو لالٹین کی روشنی میں کتابیں کھول لیتا۔ والد اپنی ضرورتیں قربان کرتے اور ماں اپنی خواہشات دبا کر یہی دعا کرتی کہ بیٹا پڑھ لکھ جائے تو گھر کے حالات بدل جائیں گے۔
وقت گزرتا گیا۔ اس نوجوان نے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی تک کا سفر طے کیا۔ والدین کی آنکھوں میں امید تھی کہ اب ان کی قربانیوں کا صلہ ملے گا، گھر میں خوش حالی آئے گی اور بیٹا عزت سے زندگی گزار سکے گا۔مگر تعلیم مکمل ہوئی تو ایک تلخ حقیقت سامنے کھڑی تھی: ڈگری تو ہاتھ میں تھی، مگر روزگار اور مستقبل کی ضمانت کہیں دکھائی نہیں دیتی تھی۔
کسی طرح اسے اسکول ٹیچر انٹرن (STI) کی ملازمت مل گئی۔ ماہانہ تقریباً 45 سے 60 ہزار روپے کی آمدن، وہ بھی غیر یقینی مستقبل کے ساتھ۔ گھر کے اخراجات، والدین کی دوائیں، سفر اور بہن بھائیوں کی ضروریات پوری کرتے کرتے تنخواہ ختم ہو جاتی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں تنخواہ ملنے یا نہ ملنے کی بے یقینی اس کی پریشانی مزید بڑھا دیتی۔
وہ روزانہ اسکول میں بچوں کو امید، محنت اور کامیابی کا درس دیتا، لیکن شام کو گھر لوٹتے ہوئے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچ کر خاموش ہو جاتا۔ ایک دن ماں نے پوچھا، ’’بیٹا! اب تمہاری زندگی کب سنورے گی؟‘‘ وہ مسکرا کر بولا، ’’امی! سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے چھپی بے بسی صرف وہی جانتا تھا۔
یہ صرف ایک نوجوان کی کہانی نہیں۔ اسکولوں کے STI اور کالجوں کے انٹرن اساتذہ میں ایسے بہت سے نوجوان ہیں جو دوسروں کے بچوں کا مستقبل سنوار رہے ہیں، مگر اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ ان کے پاس ڈگریاں ہیں، صلاحیتیں ہیں اور خدمت کا جذبہ بھی، لیکن انہیں مستقل اور باوقار روزگار کی تلاش ہے۔اس کہانی کا دوسرا کردار ایک بزرگ استاد ہے، جس نے اپنی زندگی کے 35 یا 40 سال درس و تدریس کے لیے وقف کر دیے۔
اس نے جوانی کلاس روم میں گزاری۔ شدید گرمی ہو یا سردی اور بارش، وہ اپنے شاگردوں کے مستقبل کے لیے حاضر ہوتا رہا۔ اپنی گھریلو پریشانیاں چھپا کر بچوں کو حوصلہ دیتا، انہیں منزل کا راستہ دکھاتا اور قوم کے معمار تیار کرتا رہا۔ اس کے شاگرد ترقی کرتے گئے اور وہ اس امید پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی نسبتاً پُرسکون ہو جائے گی۔
اس نے سوچ رکھا تھا کہ ملازمت کے بعد ملنے والی پنشن، کمیوٹیشن اور لیو اِن کیشمنٹ سے بچوں کی شادیاں کرے گا، گھر کی ضروریات پوری کرے گا اور بڑھاپے میں کچھ سکون کے دن گزارے گا۔ لیکن آج مہنگائی، گھریلو ذمہ داریوں اور مالی واجبات کے انتظار نے اس کی امیدوں پر بوجھ ڈال دیا ہے۔ بچوں کی شادیاں ہیں، مکان کی ضرورت ہے اور عمر ایسی کہ اب نئے سرے سے روزگار تلاش کرنا آسان نہیں۔
جس استاد نے عمر بھر دوسروں کو حوصلہ دیا، وہ آج اپنے بچوں کے سامنے اپنی پریشانی چھپانے پر مجبور ہے۔ اس کی خاموشی میں برسوں کی محنت، قربانیاں اور ادھورے خواب بولتے ہیں۔ زندگی کے 35 یا 40 سال قوم کے بچوں کو دینے والے استاد کو بڑھاپے میں اپنے جائز مالی حقوق کے لیے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
استاد کی عزت محض تقریروں، تعریفی اسناد اور خراجِ تحسین کے الفاظ سے قائم نہیں رہتی۔ اس کے لیے بروقت تنخواہ، واضح ملازمتی شرائط، مالی واجبات کی ادائیگی اور باعزت ریٹائرمنٹ بھی ضروری ہیں۔ جو حقوق ملازمت کے دوران طے کیے جائیں، ان کے بارے میں شفافیت اور بروقت عمل درآمد اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
ساتھ ہی، تعلیمی نظام کو بھی نوجوانوں کو عملی زندگی کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ کتابی علم کے ساتھ کردار سازی، خود اعتمادی اور ہنر مندی کو اہمیت دی جائے۔ کمپیوٹر، ڈیجیٹل کام اور فنی تربیت جیسی مہارتیں نوجوانوں کو روزگار کے اضافی راستے فراہم کر سکتی ہیں۔ لیکن یہ ذمہ داری صرف نوجوانوں پر نہیں ڈالی جا سکتی؛ حکومت اور متعلقہ اداروں کو شفاف بھرتی، مناسب روزگار اور عارضی ملازمین کے حقوق کے لیے واضح پالیسی بنانا ہوگی۔
یہ کہانی ہمیں ایک ہی حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے: تعلیم کا مقصد صرف ڈگری دینا نہیں، بلکہ انسان کو باوقار زندگی کے قابل بنانا بھی ہے۔ نوجوان کی محنت کو غیر یقینی ملازمت میں ضائع نہیں ہونا چاہیے، اور بزرگ استاد کی عمر بھر کی خدمت کو ریٹائرمنٹ کے بعد پریشانی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
قومیں تب ترقی کرتی ہیں جب نوجوان کو مستقبل کی امید، محنت کش کو اس کی محنت کا صلہ اور استاد کو اس کی خدمت کا احترام ملتا ہے۔کیونکہ جو معاشرہ اپنے مستقبل کے معماروں کو ہی معاشی بے یقینی میں چھوڑ دے، اسے اپنے تعلیمی نظام کی کامیابیوں کے ساتھ اس کی کمزوریوں کا جائزہ بھی ضرور لینا چاہیے۔