اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے پہلے عرب کے اس معاشرے میں سب سے بدترین مقام عورت کا تھا ، عورت ایک کم تر مخلوق تھی ، وہ کتنا برا معاشرہ تھا جس میں بچیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا تھا ، گھر سے لیکر پورے عرب کے معاشرے میں عورت بدتر مخلوق سمجھی جاتی تھی ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس کمزور مخلوق پر احسان کیا کہ اپنے آخری نبی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو معاشرہ تشکیل دیا ، اس معاشرے میں عورت کو ماں کی حیثیت سے ، بہن کی حیثیت سے ، بیٹی کی حیثیت سے اور بیوی کی حیثیت سے جو مقام ملا ، زمانہ جاہلیت میں اس کی نظیر نہیں ملتی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹیاں عطا کئیں ، پھر اس نے ان کی صحیح تربیت کی ،

ان کی شادیاں کئیں وہ میرے ساتھ جنت میں اس طرح ہو گا جس طرح شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے ، بیوی کا مقام کا تعین فرمایا ، آپ کی زبان مبارک سے جو آخری الفاظ امت کی ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضہ کے کانوں تک پہنچے ، انھوں نے وہ الفاظ امت تک پہنچائے کہ اپنی عورتوں کے حوالے سے اللہ سے ڈرو ، بہن کے حوالے سے بھائی کے خوشخبری دی گئی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق جو معاشرہ تشکیل پایا ،

اس میں بیٹی باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ، بہن کی حیثیت سے بھائی کے دل کا سکون ، بیوی کی حیثیت سے خاوند کا لباس ، ماں کی حیثیت سے جہنم سے نجات اور جنت کے حصول کا ذریعہ بنی ، باپ تھکا ہوا گھر آتا ہے معصوم بیٹی دوڑ کر باپ کے سینے سے لگ جاتی ہے ، باپ اپنی بیٹی کی آنکھوں کو چومتا ہے وہ ساری تھکاوٹ بھول جاتا ہے ،

بھائی اپنے بہن کو گلے لگاتا ہے وقت تھم جاتا ہے ، اگر بھائی کو پریشانی لاحق ہو وہ بہن کا ماتھا چومتا ہے ، بہن اپنے بھائی کے ہاتھوں پر بوسہ دیتی ہے ، بہن اور بھائی ساری تکلیف بھول جاتے ہیں ، خاوند تھکا ہوا گھر داخل ہوتا ہے بیوی مسکراہٹ ظکے ساتھ استقبال کرتی ہے ، ایک گلاس پانی پیش کرتی ہے ، حال احوال پوچھتی ہے ، چند منٹ میں خاوند ساری تھکاوٹ بھول جاتا ہے ، تھکا ہوا مسافر ماں کی گود میں سر رکھتا ہے ،

ماں اپنے تیس سالہ اور پینتیس سالہ معصوم بچے کے ہونٹوں کو ، گالو کو چومتی ہے ، تھکا ہوا مسافر تڑپ اٹھتا ہے ، ماں بیٹے کی جدائی میں تڑپ رہی تھی ، اس کی آنکھوں سے آنسوں کے دو قطرے گرتے ، وہ اپنے دوپٹے سے صاف کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن بیٹا ان کے آنسوں کے دو قطروں کو اپنی زبان سے چوس لیتا ہے ، یہ عورت ہے بیٹی کی حیثیت سے ، بہن کی حیثیت سے ، بیوی کی حیثیت سے اور ماں کی حیثیت سے ، ہر حیثیت سے محترم ہے ، بیٹی کی باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک ، بہن کی حیثیت بھائی کے دل کا سکون اور بھائی اپنی بہن کا مان ہے ، بیوی کی حیثیت سے خاوند کا لباس ، ماں کی حیثیت دنیا اور آخرت کی بھلائی اور نجات کا ذریعہ ہے ، جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے ، تھکے ہوئے مسافر کے لئے سکون اور خوشی ماں کی گود ہے ، لیکن ہمیں کیا ہو گیا ہے ، اس معاشرے میں سات سالہ منتہا کو درندے اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں ، پھر اس کو ذبح کردیتے ہیں ، کبھی وہ قصور میں درندوں کے ظلم کا نشانہ بنتی ہے، کبھی مردان اور کراچی ، جھنگ ، اسلام آباد میں ظلم کا نشانہ بنتی ہے ، کلمہ طیبہ کی بنیاد پر بننے والے اس ملک میں آج عورت کا گھر سے نکلنا مشکل ہو گیا ہے ، وہ پڑھی لکھی ، سوجھ بوجھ رکھتی ، وہ اپنے ماں باپ کا سہارا بننا چاہتی ہے ،

وہ اپنے خاوند کا سہارا بننا چاہتی ہے ، وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کی خاطر اپنے خاوند کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنا چاہتی ہے ، لیکن عجیب المیہ ہے اس کے لیے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا ہے مشکل ہے ، اکیلے مارکیٹ سے خریداری کرنا مشکل ہے ، وہ اگر سروس کرتی ہے تو سروس کی پلیس پر اس کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، وہ اگر بچوں کو سکول چھوڑنے جاتی ہے اور ان کو لینے جاتی ہے ہر جگہ ہوس بھری نظریں اس کا پیچھا کرتی ہیں ، آج عورت کی زندگی بہت مشکل ہے ، عورت گھر سے باہر نہ نکلے تو گھر کیسے چلے گا ، اکیلے خاوند کے لئے گھر چلانا مشکل ہو گیا ہے ، پاکستان کی پچاس فیصد ابادی عورتوں پر مشتمل ہے ، عورت پڑھی لکھی ہے ، باشعور ہے ، ہم اس کو گھر میں کیسے بٹھا سکتے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے عورت کو تحفظ دیا جائے ، اس کی عزت کی حفاظت کی جائے ، وہ بے دھڑک ہو کر گھر سے نکلے ، وہ خاوند کے کندھے سے کندھا ملا کر چلے، وہ تدریس کے شعبے میں اور صحت کے شعبے میں گراں قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے ، اب عورت کو عزت اور احترام کے ساتھ تمام شعبوں میں کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے ، لیکن شرط ایک ہی ہے اس کو تحفظ ہو ، اس کی عزت کی حفاظت ہو ، اس کی جان کی حفاظت ہو ، وہ گھر سے دفتر جائے اس کے لیے مناسب ٹرانسپورٹ ہو ، وہ کنڈکٹر اور ڈرائیور کی ہوس بھی نظروں سے محفوظ رہ سکے ، اس کے بعد دفتروں میں اس کے ساتھ عزت و احترام پیش ایا جائے ،

دفاتر کے اندر خواتین کے لئے علحیدہ ہر بنیادی سہولت ہونی چاہیئے ، اگر وہ کسی ادارے کی سربراہ ہے تو اس کے ادارے میں مرد حضرات کا عمل دخل کم سے کم ہونا چاہئے ، تاکہ وہ آزادی سے اپنی زمہ داریاں ادا کر سکے ، غرضیکہ ہر جگہ عورت کے ساتھ عزت و تکریم کے ساتھ پیش اجایا، عورت پارک میں اپنے بچوں کے ساتھ جاتی ہے ، تو سنگل مرد حضرات کا داخلہ ان پارکوں میں نہیں ہونا چاہئے تاکہ خواتین اور بچے اپنی مرضی سے گھوم سکیں ، خواتین اپنے بچوں کے ساتھ کھیل سکیں ، اپنی فیملی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا سکیں ، اگر کوئی عورت کسی دفتر میں اپنے کسی ذاتی یا محکمہ کے کام لئے جاتی ہیں ان کو پوری عزت و احترام کے ساتھ بٹھا کر ان کا مسئلہ سنا جائے

اور حل کیا جائے ، یہ بات بھی نوٹ کرلیں جو عورت کی عزت پر ، اس کی حرمت پر اس کی جان پر ، اس کے مال پر حملہ کرتا ہے ، اس ناسور کو عبرت ناک سزا دی جانی چاہئے ،جب تک اس ناسور کو قانون کے شکنجے میں نہیں کسا جاتا اس وقت کسی کی عزت و آبرو محفوظ نہیں رہ سکتی ، آخر میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں سے دستہ بدستہ گزارش کروں گا میری بہنوں اور بیٹیوں سنبھل کر چلو ، اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرو ، اپنے باپ اور بھائیوں کو زندہ درگور ہونے سے بچاؤ ، باپ ،بھائی ، خاوند ، بیٹا ، چچا اور ماموں کے علاؤہ کسی پر بھروسہ نہ کرو ، تمہاری چھوٹی سی غلطی سے بڑی تباہی ہو سکتی ، تمہاری چھوٹی سی غلطی سے تمہارے باپ اور تمہارے خاوند کا چمن اجڑ سکتا ہے ،

کتنی بڑی حماقت ہے تم ایک اجنبی پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ موٹر سائیکل پر سفر کرو ، اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کرو ، باپ اور بھائیوں کو جیتے جی دفن نہ کرو ، تمہاری عزت و آبرو سب سے زیادہ مقدم ہے ، گھر کے بڑوں سے گزارش ہے خدا راہ اپنی بچیوں کو اکیلے گھر سے باہر نہ نکلنے دیں ان کے ساتھ ساتھ رہیں ، ماں اور باپ اپنی بیٹیوں کے ساتھ دوستی کریں ان کو ہر معاملے میں شریک کریں ان سے مشورہ کریں ، ان کے مشورے کو اہمیت دیں ، ان کے اندر اعتماد پیدا ہونے دیں ، ریاست اپنی زمہ داریاں ادا کرے عورت کو مکمل تحفظ دے ، تاکہ ایک عورت آزادی سے اپنا کردار ادا کر سکے ، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی زمہ داریاں احسن انداز میں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین ، اگر ہم چاہتے ہیں پاکستان آگئے بڑے تو ہمیں عورت کو تحفظ دینا پڑے گا ، اس کو مواقع ملنے چاہئیں تاکہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکے ، اللہ تعالیٰ ہماری بچیوں کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین