
دنیا میں وہی لوگ حقیقی معنوں میں اچھے ہوتے ہیں جو دوسروں کے کام آتے ہیں۔ انہی لوگوں میں ایک نام جناب حاجی محمد بنارس (مؤذن و خادم جامع مسجد حویلیاں) کا بھی ہے، جو مین بازار میں رزقِ حلال کے لیے اپنی دکان پر محنت و مشقت کرتے ہیں۔ سادگی، صبر اور شکر ان کی شخصیت کا نمایاں پہلو ہے۔
آج کی تحریر ان کے ایک خوبصورت اور قابلِ تقلید عمل کی وجہ سے لکھی جا رہی ہے۔ میں نے بازار میں دکانوں کی دیواروں پر نصب خوبصورت برڈ بکس دیکھے، جن میں چڑیوں نے اپنے گھونسلے بنا رکھے تھے۔ تجسس ہوا تو معلوم ہوا کہ یہ کارِ خیر حاجی محمد بنارس صاحب نے انجام دیا ہے۔
مزید معلومات کے لیے میں ان کی دکان پر حاضر ہوا، جہاں ان سے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چڑیاں اکثر دکانوں کے شٹر کے اندر گھونسلے بناتی ہیں، لیکن جب دکانیں کھلتی ہیں تو ان کے انڈے ٹوٹ جاتے ہیں اور بچے ضائع ہو جاتے ہیں۔ چڑیا ایک انسان دوست پرندہ ہے جو آہستہ آہستہ ہماری بستیوں سے غائب ہو رہا ہے۔ یہ کیڑے مکوڑے کھا کر ماحول کو صاف رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اسی احساس کے تحت انہوں نے اپنے ہاتھوں سے لکڑی کے خوبصورت اور محفوظ برڈ بکس تیار کیے اور انہیں دکانوں کی دیواروں پر نصب کر دیا۔ اس وقت آٹھ برڈ بکس نصب ہیں، جن میں چڑیوں کے گھونسلے آباد ہیں اور ان کے بچے پرورش پا رہے ہیں۔
حاجی صاحب نے مزید بتایا کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر ان پرندوں کے لیے خوراک بھی فراہم کرتے ہیں، اور اس خدمت سے انہیں دلی سکون حاصل ہوتا ہے۔
میں ان کے اس بے لوث جذبے کو سلام پیش کرتا ہوں اور سب کو دعوت دیتا ہوں کہ اس نیکی کے کام کو اپنائیں، تاکہ ایک چراغ سے دوسرا چراغ جلتا رہے اور ہمارا ماحول بھی خوشگوار اور متوازن بن سکے۔ اس کام کے لیے کسی بڑے سرمائے کی ضرورت نہیں، صرف نیت اور جذبہ درکار ہے۔