
ملک اس وقت جس معاشی بحران سے گزر رہا ہے، اس کی شدت کا اندازہ روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ آٹا، چینی، گھی، بجلی، گیس اور پیٹرول جیسی بنیادی ضروریات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ تنخواہیں وہیں کی وہیں ہیں، مگر اخراجات کئی گنا بڑھ چکے ہیں اس صورتحال نے نہ صرف گھریلو نظام کو متاثر کیا ہے بلکہ معاشرتی توازن کو بھی بری طرح ہلا کر رکھ دیا ہے جب ایک باپ دن بھر محنت کرنے کے باوجود اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری نہیں کر پاتا، تو اس کے اندر احساسِ محرومی، مایوسی اور غصہ جنم لیتا ہے۔ یہی احساسات بعض اوقات انسان کو ایسے راستوں کی طرف لے جاتے ہیں جن کا انتخاب وہ عام حالات میں کبھی نہیں کرتا۔
یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں چوری، ڈکیتی، اسٹریٹ کرائم اور لوٹ مار کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری نہ صرف اپنے گھروں میں بلکہ سڑکوں پر بھی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگے ہیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ جرائم میں اضافہ صرف غربت کی وجہ سے نہیں بلکہ بے روزگاری، عدم مساوات اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم بھی اس کی بڑی وجوہات ہیں۔
ایک طرف امیر طبقہ مزید امیر ہوتا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف غریب مزید غربت کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔ یہ فرق معاشرے میں نفرت، حسد اور بے چینی کو جنم دیتا ہے، جو بالآخر جرائم کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔مزید برآں، نوجوان نسل کا مستقبل بھی اس صورتحال سے شدید متاثر ہو رہا ہے۔ جب تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار نہ ملے، اور گھریلو دباو¿ بڑھتا جائے، تو نوجوان آسان راستوں کی تلاش میں جرائم کی دنیا کا رخ کر لیتے ہیں۔ منشیات، گینگ کلچر اور دیگر غیر قانونی سرگرمیاں اسی مایوسی کی پیداوار ہیں۔
یہ ایک ایسا خطرناک رجحان ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جگہ کوششیں کر رہے ہیں، مگر جب تک مسئلے کی جڑ یعنی مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو نہیں پایا جاتا، اس وقت تک جرائم کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ صرف گرفتاریوں اور سزاو¿ں سے وقتی طور پر حالات کو قابو میں تو لایا جا سکتا ہے، مگر دیرپا حل کے لیے جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیے
کہ وہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے مو¿ثر معاشی پالیسیاں اپنائے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے، چھوٹے کاروباروں کو سہارا دے اور عوام کو ریلیف فراہم کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ، تعلیم، ہنر مندی اور اخلاقی تربیت کو فروغ دینا بھی بے حد ضروری ہے تاکہ نوجوان نسل کو مثبت راستہ دکھایا جا سکے آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مہنگائی اور جرائم کا یہ تعلق محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تلخ حقیقت ہے۔ اگر آج اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو کل اس کے نتائج کہیں زیادہ بھیانک ہو سکتے ہیں۔ ایک محفوظ، پرامن اور خوشحال معاشرہ اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد کو بنیادی ضروریات زندگی میسر ہوں اور وہ باعزت طریقے سے اپنی زندگی گزار سکے