“موت کے سوداگر اور کلر سیداں کے اجڑے گھر”

تحصیل کلر سیداں کے گلی کوچوں میں پھیلی یہ گہری اور اداس خاموشی کوئی عام خاموشی نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا نوحہ ہے جو ان ماو¿ں کے چھلنی دلوں سے اٹھ رہا ہے جن کے لختِ جگر بہتر مستقبل کے سنہری خواب آنکھوں میں سجائے پردیس کی تلاش میں نکلے اور پھر کبھی لوٹ کر نہ آئے خطہ پوٹھوہار کی یہ مٹی ہمیشہ سے اپنے جفاکش غیرت مند اور جری نوجوانوں کی وجہ سے پوری دنیا میں جانی جاتی رہی ہے لیکن بدقسمتی سے گزشتہ چند برسوں میں غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانے کے مہلک رجحان نے اس زرخیز خطے کے لاتعداد گھروں کے چراغ ہمیشہ کے لیے گل کر دیے ہیں

حالیہ دنوں میں اٹلی اور یونان کے قریب پیش آنے والے بحری جہازوں کے المناک حادثات نے جہاں پوری قوم کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا وہی کلر سیداں کے دو ہر دلعزیز نوجوانوں میرے بہت پیارے بھائیوں جیسے دوست معروف ٹک ٹاکر منصور بھٹی جو “دارا” کے نام سے علاقہ بھر میں مشہور تھے اور ان کے چچا زاد بھائی اسامہ بھٹی کی کشتی ڈوبنے سے ناگہانی موت نے علاقے کے ہر گھر میں صفِ ماتم بچھا دی ہے اور ہر آنکھ کو اشکبار کر دیا ہے منصور بھٹی جو اپنی مختصر ویڈیوز کے ذریعے ٹک ٹاک اور فیس بک پر ہزاروں اداس لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے کا ہنر جانتا تھا

آج خود ایک ایسا دردناک سوال بن گیا ہے جس کا جواب ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کے بوڑھے والدین اور چاہنے والوں کی آنکھیں پتھرا گئی ہیں یہ محض دو نوجوانوں کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ ان سینکڑوں ادھورے خوابوں کی کرچیاں ہیں جو سمندر کی بے رحم اور تند و تیز لہروں کی نذر ہو گئیں۔اس پورے انسانی المیے کے پسِ پردہ وہ سفاک اور سنگدل موت کے سوداگر چھپے بیٹھے ہیں

جنہیں ہم اپنی عام زبان میں ٹریول ایجنٹ یا انسانی اسمگلر کہتے ہیں میں تو انہیں موت کے سوداگر کا ہی لقب دوں گا یہ ایجنٹ معصوم جذباتی اور حالات کے ستائے ہوئے نوجوانوں کو یورپ کی چکا چوند زندگی، پرتعیش بنگلوں اور غیر ملکی کرنسی کے سبز باغ دکھا کر ان کی قیمتی زندگیوں کا نہایت بے دردی سے سودا کرتے ہیں

یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ جن شکستہ اور گنجائش سے زیادہ بھری ہوئی کشتیوں میں یہ نوجوان سوار ہو رہے ہیں وہ کاغذ کی ناو¿ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں یہ ایجنٹ محض چند لاکھ روپوں کی ہوس میں ہنستی کھیلتی انسانی جانوں کو موت کے جبڑوں میں دھکیل دیتے ہیں کلر سیداں جیسے نیم شہری علاقوں میں ان ایجنٹوں کا ایک باقاعدہ منظم نیٹ ورک موجود ہے جو گلی محلوں میں بیٹھ کر سادہ لوح خاندانوں کو ورغلاتے ہیں انہیں قرض لینے یا زمینیں بیچنے پر مجبور کرتے ہیں اور جب کوئی حادثہ پیش آ جائے تو یہی ایجنٹ چوہوں کی طرح زیرِ زمین چلے جاتے ہیں یا اپنی شناخت بدل کر کسی اور علاقے میں نیا جال بچھا لیتے ہیں

یہ نہایت افسوسناک اور شرمناک امر ہے کہ نہ ان قاتلوں کو لگام دینے والا کوئی مو¿ثر قانون موجود ہے اور نہ ہی کوئی گرفت کرنے والا ادارہ سرگرم نظر آتا ہےجب تک ان ایجنٹوں کو سرِعام نشانِ عبرت نہیں بنایا جائے گا جب تک ان پر انسانی قتل کے مقدمات درج نہیں ہوں گے اور جب تک ان کی ناجائز جائیدادیں ضبط کر کے انہیں سرِ بازار کڑی سزا نہیں دی جائے گی تب تک یہ خونی کاروبار یوں ہی پھلتا پھولتا رہے گا اور مائیں اپنے جوان بیٹوں کے لاشے اٹھاتی رہیں گی حقیقت یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی غربت کمر توڑ مہنگائی اور بے روزگاری کے سائے نوجوانوں کو ان خطرناک اور تاریک راستوں پر چلنے پر مجبور کر دیتے ہیں لیکن یہاں یہ سوال اٹھانا ضروری ہے کہ کیا ایک نام نہاد بہتر زندگی کی قیمت اتنی زیادہ ہونی چاہیے کہ انسان اپنی متاعِ حیات، یعنی اپنی جان ہی سے ہاتھ دھو بیٹھے؟ سمندر کے بیچوں بیچ جب طغیانی آتی ہے لہریں دیوار بن کر سامنے کھڑی ہوتی ہیں

اور موت کا سایہ سر پر منڈلانے لگتا ہے تب ان بے بس نوجوانوں کو احساس ہوتا ہے کہ ان کا فیصلہ کتنا بھیانک اور خودکش تھا مگر تب تک واپسی کے تمام دروازے بند ہو چکے ہوتے ہیں اور پچھتاوے کے سوا کچھ باقی نہیں بچتا اسامہ بھٹی اور منصور بھٹی جیسے سینکڑوں باصلاحیت نوجوان آج سمندر کی تاریک گہرائیوں میں ابدی نیند سو چکے ہیں ان کے پیچھے رہ جانے والے کمر خمیدہ باپ اور ممتا کی ماری غمزدہ مائیں اب کس سے اپنے جگر گوشوں کی خیرات مانگیں؟ یہ دکھ موت سے ہزار درجہ زیادہ تکلیف دہ اور روح فرسا ہے اور اس ناقابلِ بیان تکلیف کا ذمہ دار ہر وہ شخص ہے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ اس غیر قانونی اور غلیظ کاروبار کا حصہ ہے

اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ریاست اپنی مجرمانہ خاموشی توڑے اور اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) اور مقامی پولیس کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ وہ کلر سیداں، دھمیال، بیول،سر سوبہ شاہ۔ چوہا۔بھلاکھر۔ گف۔ چوکپنڈوڑی، روات، اور گردونواح کے ان تمام ایجنٹوں کے خلاف ایک بھرپور اور فیصلہ کن گرینڈ آپریشن شروع کریں جنہوں نے اس پورے خطے کو ماتم کدہ بنا کر رکھ دیا ہے محض چند گرفتاریاں کافی نہیں بلکہ ان کی جڑوں تک پہنچنا ضروری ہے عوام کو بھی اب شعور کا مظاہرہ کرنا ہوگا انہیں چاہیے کہ وہ ان ایجنٹوں کا سماجی بائیکاٹ کریں اور اپنے جگر گوشوں کو ان موت کے سوداگروں کے حوالے کرنے کے بجائے انہیں اپنے ہی وطن میں اپنی ہی مٹی پر محنت کر کے باعزت روزگار کمانے کی ترغیب دیں ہمیں یہ تلخ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ یورپ کی مصنوعی چمک دمک ہماری بیش قیمت جانوں اور ہمارے اپنوں کی حقیقی خوشیوں سے ہرگز قیمتی نہیں ہے اس المیے کا ایک پہلو وہ تلخ حقیقت بھی ہے

جس پر بات کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے اور وہ ہے والدین اور خود ان نوجوانوں کا اپنا انتخاب اس میں کوئی شک نہیں کہ ایجنٹ جھوٹ بولتے ہیں لیکن والدین بھی اکثر حالات کی سنگینی سے آنکھیں موند لیتے ہیں کئی بار یہ دیکھا گیا ہے کہ گھر والے اپنے بچوں کو دوسرے ملک بھیجنے کے جنون میں اس قدر مبتلا ہوتے ہیں کہ وہ ایجنٹ کی باتوں کی تصدیق کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے مائیں اپنے زیور بیچ دیتی ہیں باپ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اور آبائی زمینیں داو¿ پر لگا دیتے ہیں صرف اس ایک امید میں کہ بیٹا باہر جا کر ڈالروں اور یورو کی بارش کر دے گا یہ دباو¿ اکثر نوجوانوں کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی جان خطرے میں ڈال دیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ اگر وہ گھر پر رہے تو شاید کبھی اپنے خاندان کی غربت دور نہیں کر سکیں گے والدین کا یہ خواب جب حد سے بڑھ کر اندھی تقلید بن جائے تو وہ خود اپنے ہاتھوں سے اپنے بچوں کو موت کے کنویں میں دھکیلنے کے مترادف ہوتا ہے دوسری طرف ان نوجوانوں کا اپنا قصور بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا آج کے ڈیجیٹل دور میں جہاں ہر معلومات ایک کلک کی دوری پر ہے یہ ماننا مشکل ہے

کہ کوئی بھی نوجوان ان راستوں کے خطرات سے بالکل لاعلم ہو سوشل میڈیا پر آئے روز ڈوبتی کشتیوں اور لاشوں کی تصویریں دیکھنے کے باوجود یہ نوجوان “شارٹ کٹ” کے چکر میں اپنی زندگی کا جوا کھیلتے ہیں وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ راستہ غیر قانونی ہے اور اس میں جان جانے کا نوے فیصد خطرہ ہے محض دوسروں کی دیکھا دیکھی یا راتوں رات امیر بننے کی خواہش میں ان خونی کشتیوں میں سوار ہو جاتے ہیں جب تک ہمارے نوجوان اور ان کے گھر والے یہ نہیں سمجھیں گے کہ جان سے بڑھ کر کوئی مال و دولت نہیں اور جب تک وہ ان ایجنٹوں کو لاکھوں روپے دینے کے بجائے وہی رقم اپنے ملک میں کسی چھوٹے کاروبار میں لگانے کی ہمت نہیں کریں گے تب تک یہ اجڑے گھروں کی داستانیں ختم نہیں ہوں گی والدین کی بے جا خواہشات اور نوجوانوں کی جلد بازی ہی وہ ایندھن ہے جس پر ان انسانی اسمگلروں کا کاروبار چل رہا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت اسامہ بھٹی ،منصور بھٹی اور سمندر برد ہونے والے تمام نوجوانوں کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے لواحقین کو اس کٹھن اور جان لیوا گھڑی میں صبرِ جمیل عطا کرے آمین۔ لیکن یاد رکھیے یہ دعائیں اور تمنائیں تبھی بارآور ثابت ہوں گی جب ہم ان ظالم ایجنٹوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوں گے اور انسانی جانوں کے اس خونی کھیل کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔