ماسٹر فضل حسین موتیوں اور خوشبو کی طرح بکھرتا کردار

کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو خاموشی سے معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط کرتی ہیں، نہ انہیں شہرت کی طلب ہوتی ہے اور نہ ہی نمود و نمائش کی خواہش، مگر ان کا کردار، گفتار اور عمل خود ایک روشن مثال بن جاتا ہے،

ضلع راولپنڈی کے نواحی گاؤں بنگلہ پاپین سے تعلق رکھنے والے ماسٹر فضل حسین بھی ایسی ہی باوقار اور قابلِ احترام شخصیت ہیں، بنگلہ پاپین ایک خوبصورت اور تاریخی گاؤں ہے جو دریائے سواں کے کنارے چک بیلی خان اور جوڑیاں کے درمیان مین روڈ پر واقع ہے، ماسٹر فضل حسین نے اپنی زندگی کے بیش تر سال علم و اخلاق کی شمع روشن کرنے میں گزار دیے، شعبہ تعلیم و تدریس ان کے لیے محض روزگار نہیں بلکہ ایک مقدس مشن رہا، گورنمنٹ ہائی سکول بندہ، گورنمنٹ ہائی سکول بسالی اور گورنمنٹ ہائی سکول ادھوال میں ان کی تدریسی خدمات آج بھی سینکڑوں شاگردوں کی صورت میں بولتی ہیں جو مختلف اعلیٰ عہدوں اور باعزت پیشوں سے وابستہ ہو کر اپنے استاد کے لگائے ہوئے پودوں کی طرح خوشبو بکھیر رہے ہیں،

سادگی، وقار، خلوص اور دیانت ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف ہیں، دین سے گہرا تعلق ‘عشقِ رسول ﷺ اور روحانی وابستگی ان کی زندگی کا اہم حصہ ہے، استانہ عالیہ سخی سلطان باہوؒ اور استانہ عالیہ گولڑہ شریف سے عقیدت و وابستگی نے ان کے کردار میں تقویٰ، صبر اور خدمتِ خلق کو راسخ کر دیا ہے یہی اعلیٰ اقدار انہوں نے اپنی اولاد میں منتقل کیں، ان کے بڑے صاحبزادے محمد حسین پاکستان آرمی سے باعزت ریٹائرمنٹ کے بعد کاروبار سے وابستہ ہیں، دوسرے صاحبزادے انصر محمود حکومتِ پاکستان کے ایک اعلیٰ ادارے میں اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں

جبکہ چھوٹے صاحبزادے محمد نعمان سعودی عرب میں محنت و دیانت کے ساتھ روزگار سے وابستہ ہیں، ان کی بیٹیاں بھی جن گھروں میں بیاہی گئیں وہاں محنت، وفاداری اور اعلیٰ کردار کی روشن مثال بن کر اپنے خاندان کی نیک نامی کا باعث ہیں، ماسٹر فضل حسین اپنے گاؤں اور علاقے میں ایک معتبر، منصف مزاج اور بصیرت رکھنے والی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں، دینی معاملات ہوں یا گھریلو تنازعات، لوگ انہیں ثالث اور رہنما کے طور پر قبول کرتے ہیں ان کی دانش مندی اور انصاف پسندی سے کئی پیچیدہ مسائل حل ہوتے ہیں، ذاتی طور پر بھی وہ غم اور مشکل کی گھڑی میں دوسروں کے کام آنے والے انسان ہیں، میرے والد مرحوم کی وفات کے موقع پر غسلِ میت کے دوران ان کی رہنمائی اور معاونت میرے لیے ناقابلِ فراموش ہے،

ان کا بھائی جناب جاوید صاحب جو حال ہی میں فوجی فاؤنڈیشن ہسپتال سے ریٹائر ہوئے، وہ بھی خدمتِ خلق کا روشن نمونہ رہے، بلاشبہ ماسٹر فضل حسین جیسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں جو موتیوں کی طرح قیمتی اور خوشبو کی طرح دیرپا اثر رکھنے والا کردار چھوڑ جاتی ہیں، دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ماسٹر فضل حسین، ان کے صاحبزادگان محمد حسین، انصر محمود، محمد نعمان اور تمام اہلِ خانہ کو صحتِ کاملہ، عزت، استقامت اور مزید توفیقات سے نوازے اور ان کے کردار کی یہ خوشبو معاشرے میں یونہی بکھرتی رہے۔

محمد سرفراز