طاقتوروں کے سامنے جھکنے کے بجائے انہوں نے ہمیشہ حق و سچائی کا ساتھ دیا
اٹک کے علمی و ادبی حلقوں کی معتبر شخصیت، استاد، اور سینئر کالم نگار فیاض احمد خان خٹک المعروف احمد خان ہمارے درمیان نہیں رہے۔ ان کا اچانک انتقال ایک نہ صرف ذاتی نقصان بلکہ تعلیمی، ادبی اور صحافتی دنیا کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔مرحوم نے کئی دہائیوں تک قلم کے ذریعے معاشرتی برائیوں، ظلم و ستم، سیاسی مفاد پرستی، اور افسر شاہی کی خامیوں کے خلاف بے باک آواز بلند کی۔

ان کے کالم نہ صرف خبروں اور واقعات کی عکاسی کرتے بلکہ معاشرتی شعور کو جگانے کا ذریعہ بھی بنے۔سرکاری ملازمت کی مجبوریاں انہیں اکثر اپنے اصل نام کے بجائے احمد خان کے قلمی نام سے لکھنے پر مجبور کرتی رہیں، مگر یہ نام کبھی ان کے اندر کے باغی کو خاموش نہ کر سکا۔ ہر تحریر میں ان کے اندر چھپی بے باکی اور انصاف کے لیے جوش واضح نظر آتا تھا۔ وہ مظلوم کی آواز، کمزور کی حمایت، اور ناانصافی کے خلاف احتجاج بن کر لکھتے رہے۔
ان کا قلم ایک تلوار کی مانند تھا خاموش مگر مؤثر۔ طاقتوروں کے سامنے جھکنے کے بجائے انہوں نے ہمیشہ حق و سچائی کا ساتھ دیا۔ ان کے کالموں میں معاشرے کے کمزور طبقات کی آواز، ظلم کے خلاف جرأت، اور انصاف کی ضرورت کی پکار سنائی دیتی تھی۔مرحوم کی وفات سے علمی اور ادبی حلقے ایک ایسا ستون کھو بیٹھے ہیں جو نہ صرف قلم کی طاقت بلکہ انسانی ہمدردی اور اصول پسندی کی بھی علامت تھا۔ نیو ٹاؤن قبرستان اٹک میں نماز جنازہ میں اہلِ علاقہ، طلبہ، محکمہ تعلیم،صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی اور مرحوم کو اشک بار آنکھوں سے سپردِ خاک کیا۔
فیاض احمد خان المعروف احمد خان ایک ایسے انسان تھے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ان کا قلم خاموش ہو گیا، مگر ان کے اصول، ان کی سوچ اور ان کا بے باک موقف ہمیشہ زندہ رہے گا۔ آج ہم ان کے جانے کا غم مناتے ہیں، لیکن ان کی خدمات اور تحریریں ہمارے دلوں میں ہمیشہ روشنی کا مینار بن کر رہیں گی۔ان کی زندگی ایک سبق ہے ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا کبھی ضائع نہیں جاتا، اور سچائی کا سفر ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرنا، انہیں سچ لکھنے کا حوصلہ دینا اور قلم کی حرمت کا احساس دلانا ان کا خاص وصف تھا۔ وہ اختلاف کو دشمنی میں بدلنے کے بجائے مکالمے کی روایت کے قائل تھے۔ادبی حلقوں میں ان کی گفتگو شائستگی، دلیل اور گہرے مطالعے کی عکاس ہوتی تھی۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بناتے تھے
بلکہ دلیل اور مکالمے کے ذریعے اپنی بات منوانا جانتے تھے۔ نوجوان لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کرتے‘ انہیں سچ لکھنے کا حوصلہ دیتے اور قلم کی حرمت کا درس دیتے رہے۔ان کی وفات سے اٹک کی علمی فضا سوگوار ہے۔ ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل اداس ہے۔ تاہم یہ امر باعثِ تسلی ہے کہ مرحوم نے ایک بامقصد، باوقار اور اصولوں پر مبنی زندگی گزاری۔ وہ چلے گئے، مگر اپنے پیچھے سچائی، جرأت اور انسان دوستی کی ایک روشن روایت چھوڑ گئے مرحوم کی نمازِ جنازہ میں اہلِ علاقہ، طلبہ، محکمہ تعلیم کے افسران، صحافیوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں اشک بار آنکھوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔
فیاض احمد خان خٹک کا انتقال علمی و ادبی حلقوں کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ اگرچہ ان کا قلم ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا، مگر ان کی سوچ، اصول پسندی اور بے باک مؤقف آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہے گا۔ ان کی زندگی اس بات کا ثبوت ہے کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف اٹھائی گئی آواز کبھی رائیگاں نہیں جاتی، اور سچائی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔
اقبال زرقاش