
اللّٰہ تعالٰی نے انسان کو بے شمار صلاحیتوں کے ساتھ دنیا میں بھیجا ہے۔ کسی کے حصے میں علم و حکمت کا خزانہ زیادہ آتا ہے، کسی کو فن و ہنر میں کمال عطا ہوتا ہے اور کسی کو ایسی فکری بصیرت نصیب ہوتی ہے جو زمانے کے دھارے کا رخ بدل دیتی ہے۔ بعض انسان اپنی ذات تک محدود رہتے ہیں، بعض اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے باعثِ خیر بنتے ہیں، لیکن کچھ ایسی نابغۂ روزگار شخصیات بھی ہوتی ہیں جن کی فکر، علم، قلم اور کردار زمان و مکان کی حدود سے بلند ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر علامہ محمد اقبال بھی ایسی ہی تاریخ ساز شخصیت تھے۔ اُن کے بارے میں بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اقبال اقبال ہے۔
ڈاکٹر سر محمد اقبال بن شیخ نور محمد 9 نومبر 1877ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ اُس وقت کسی کو کیا معلوم تھا کہ سیالکوٹ کی گلیوں میں آنکھ کھولنے والا یہ بچہ آگے چل کر مشرق کا عظیم شاعر، مفکر، فلسفی اور مسلمانوں کے فکری احیا کا ترجمان بنے گا۔ محمد اقبال اپنے نام کی معنویت کے بھی سچے مصداق ثابت ہوئے؛ اُنہوں نے اپنی فکر، شاعری اور کردار سے ایسی بلند مقام حاصل کیا کہ اُن کا نام خود ایک عہد، ایک فکر اور ایک تحریک کی علامت بن گیا۔
اقبال کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ اُن کے اندر علم، ادب، فلسفہ، مذہب اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں تھے۔ اُنہوں نے اردو، فارسی اور انگریزی میں اظہارِ خیال کیا۔ اُن کی نثر اردو اور انگریزی میں ہے، جب کہ شاعری کا بڑا حصہ فارسی اور اردو میں ہے۔ اُن کی مطبوعہ شعری تصانیف میں فارسی کی سات اور اردو کی چار کتابیں شمار کی جاتی ہیں، جب کہ نثر میں اردو کی ایک اور انگریزی کی دو اہم کتابیں شامل ہیں۔ فارسی شعری مجموعوں میں ’’اسرارِ خودی‘‘، ’’رموزِ بےخودی‘‘، ’’پیامِ مشرق‘‘، ’’زبورِ عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’پس چہ باید کرد اے اقوامِ مشرق‘‘ اور ’’ارمغانِ حجاز‘‘ شامل ہیں، جب کہ اردو شاعری کے معروف مجموعوں میں ’’بانگِ درا‘‘، ’’بالِ جبریل‘‘، ’’ضربِ کلیم‘‘ اور ’’ارمغانِ حجاز‘‘ شامل ہیں۔
اقبال کی انگریزی نثر میں ’’The Development of Metaphysics in Persia‘‘ اور ’’The Reconstruction of Religious Thought in Islam‘‘ خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے خطبات، مقالات، خط و کتابت، بیانات اور دیگر تحریری لوازمہ بعد میں مختلف مجموعوں کی صورت میں مرتب ہوا۔ اقبال کی تحریری میراث اس قدر وسیع ہے کہ اُن کے افکار و نظریات پر آج بھی دنیا بھر میں تحقیقی کام جاری ہے۔ اقبال کے مکتوبات، خطبات اور نثری تحریروں کے متعدد مستند مجموعے بھی مرتب کیے گئے ہیں۔
علامہ اقبال کی شاعری کو جو مقبولیت حاصل ہوئی، وہ محض الفاظ کی خوب صورتی یا تشبیہ و استعارے کی دل کشی کا نتیجہ نہیں۔ اُن کے کلام میں فکر بھی ہے، فلسفہ بھی، عشق بھی، درد بھی، عمل کی دعوت بھی اور انسان کی تعمیرِ شخصیت کا پیغام بھی۔ اقبال نے شعر کو محض تفریحِ طبع کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے بیداری، تعمیر اور انقلابِ فکر کا وسیلہ بنا دیا۔
اقبال اُس دین کے ترجمان تھے جس پر وہ ایمان رکھتے تھے۔ اُن کی فکر کی بنیاد قرآنِ مجید، سیرتِ محسن انسانیت محمد ﷺ اور اسلامی تہذیب و روحانیت سے گہری وابستگی پر قائم تھی۔ اُنہوں نے مغرب کے علوم اور فلسفوں کا مطالعہ کیا، جدید دنیا کو قریب سے دیکھا، یورپ میں تعلیم حاصل کی، مگر اپنی فکری شناخت کھوئی نہیں۔ یہی اُن کا امتیاز تھا۔ وہ جدید علم سے فرار کے قائل نہیں تھے، بلکہ علم و عقل کو ایمان اور اخلاق کے ساتھ ہم آہنگ دیکھنا چاہتے تھے۔
اقبال کے نزدیک دین اسلام محض چند رسوم و عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو غور و فکر، علم، عدل، عمل اور اخلاق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
ترجمہ: ”اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مذید علم عطا کر۔“( سورة طٰہٰ آیت 114 )، ترجمہ قرآن مجید مع مختصر حواشی از مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ادارہ ترجمان القرآن پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور اشاعت مارچ 1998ء ، صفحہ 817
یہ مختصر قرآنی دُعا ’’اور دعا کرو کہ اے میرے رب! مجھے علم میں اور زیادہ ترقی عطا فرما۔‘‘علم کی عظمت کو واضح کرتی ہے۔ اقبال نے دین اسلام کی ترجمانی کرتے ہوئے انسان کو علم، بصیرت اور مسلسل جدوجہد کی طرف متوجہ کیا۔ اُن کے نزدیک زندہ قوم وہ ہے جو اپنے ماضی سے سبق لے، حال کو سنوارے اور مستقبل کی تعمیر کے لیے علم و عمل کا راستہ اختیار کرے۔
اقبال کی فکر میں انسان محض گوشت پوست کا پیکر نہیں؛ وہ شعور، ارادے، کردار اور مقصد رکھنے والی ہستی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللّٰہ تعالٰی انسان کی عظمت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے:ترجمہ:” یہ تو ہماری(اللّہ) عنایت ہے کہ ہم (اللّه) نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی ۔“ (سورة بنی اسرئیل آیت 70 )، ایضاً صفحہ 741اقبال نے اسی انسانی عظمت کو اپنی شاعری میں ایک نئی قوت کے ساتھ پیش کیا۔ وہ انسان کو پست ہمتی، غلامی، خوف، مایوسی اور بے عملی سے نکال کر خود اعتمادی، خود شناسی، بلند نظری اور عمل کی طرف بلاتے ہیں۔ اُن کا فلسفۂ ’’خودی‘‘ دراصل انسان کو اپنی حقیقت پہچاننے، اپنی صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور اپنے کردار کو مضبوط بنانے کی دعوت ہے۔وہ کہتے ہیں:
؎خودی کو کر بُلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے !
(کلیاتِ اقبال اُردُو ازعلامہ محمد اقبال ، غ ع ، تاریخ اشاعت فروری 1973ء ، صفحہ 347 )
یہاں ’’خودی‘‘ سے مراد غرور و تکبر نہیں، بلکہ ایسی مضبوط اور بیدار شخصیت ہے جو ایمان، عشق، علم، کردار اور عمل کے ذریعے اپنے آپ کو سنوارتی ہے۔ اقبال کا مردِ مومن اپنی ذات کا غلام نہیں ہوتا بلکہ اللّٰہ تعالٰی کا بندہ ہوتا ہے۔ وہ دنیا کے طاغوت اور باطل قوتوں کے خوف سے آزاد اور حق کے سامنے جھکنے والا انسان ہوتا ہے۔
اقبال نے فرد اور قوم کے تعلق کو بھی بڑی خوب صورتی سے بیان کیا:
؎افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے مِلّت کے مقدر کا ستارہ
ایضاً صفحہ 657
یہ شعر آج بھی ہمارے لیے ایک آئینہ ہے۔ قومیں صرف حکومتوں، اداروں یا عمارتوں سے ترقی نہیں کرتیں؛ قوموں کی اصل قوت اُن کے افراد ہوتے ہیں۔ اگر افراد دیانت دار، محنتی، باکردار، صاحبِ علم اور ذمہ دار ہوں تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے، اور اگر افراد بددیانت، سست، خود غرض اور بے عمل ہو جائیں تو بڑی سے بڑی عمارت بھی قوم کو ترقی نہیں دے سکتی۔
اقبال کے ہاں حرکت و عمل کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ وہ انسان کو بیٹھ کر حالات کا ماتم کرنے کے بجائے راستہ بنانے کا سبق دیتے ہیں۔ اُن کے نزدیک زندگی مسلسل جدوجہد کا نام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی شاعری نوجوان کو پکارتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ وہ اسے کہتی ہے کہ تمہاری منزل ابھی دور ہے، تمہارے سامنے امکانات کے نئے دروازے موجود ہیں۔
اقبال کا یہ پیغام دیکھیے:
؎ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
ایضاً صفحہ 353
اور پھر:
؎تو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں
ایضاً صفحہ 353
یہ اشعار محض شعری حسن نہیں رکھتے بلکہ نوجوان نسل کے لیے ایک مکمل پیغام ہیں۔ شاہین اقبال کے ہاں بلند پروازی، خودداری، آزادی، جرأت اور بلند مقصد کی علامت ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ نوجوان اپنی زندگی کو معمولی خواہشات کی نذر نہ کرے بلکہ بڑے مقاصد اختیار کرے اور اپنی صلاحیتوں کو قوم و انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرے۔
اقبال کی فکر میں علم اور عمل ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ ایسا علم جو انسان کے کردار میں روشنی پیدا نہ کرے، ایسا علم جو اسے حق و باطل میں امتیاز نہ سکھائے اور ایسا علم جو اسے انسانیت کی خدمت پر آمادہ نہ کرے، اقبال کی مطلوبہ منزل تک نہیں پہنچاتا۔ اُن کے نزدیک علم کا حقیقی حسن اُس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ کردار، عمل اور خدمت بن جائے۔
اسی لیے اقبال کی شاعری میں سکون بھی ہے اور حرکت بھی؛ فکر بھی ہے اور عمل بھی؛ عشق بھی ہے اور عقل بھی۔ اُن کا قلم کبھی دل کو تسکین دیتا ہے اور کبھی سوئی ہوئی قوم کو جھنجھوڑ کر بیدار کرتا ہے۔اقبال کی فکر کا ایک اہم پہلو انسانیت بھی ہے۔ اسلام جس دین کی وہ ترجمانی کرتے ہیں، وہ کسی مخصوص نسل، رنگ یا جغرافیے تک محدود نہیں۔ قرآنِ مجید میں اللّٰہ تعالٰی نے رسولِ رحمت ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ
’’اے محمدؐ! ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔‘‘
(سورۃ الأنبیاء، 21:107، ترجمہ: تفہیم القرآن)
رسولِ اکرم ﷺ کی یہ عالم گیر رحمت اسلام کے پیغام کو انسانی حدود سے بلند کر دیتی ہے۔ اقبال اسی آفاقی اور فطرتی اسلامی فکر کو اپنے انداز میں پیش کرتے ہیں۔ اسی لیے اُن کا کلام صرف برصغیر کے مسلمانوں تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے مختلف حصوں میں پڑھا، سمجھا، ترجمہ کیا اور تحقیق کا موضوع بنایا گیا۔
یہ بھی اقبال کے کلام کا ایک اعجاز ہے کہ وہ فارسی اور اردو دونوں زبانوں کے دائرے کو وسیع کرتے ہیں۔ فارسی سے واقف لوگ اُن کے فارسی کلام سے فیض یاب ہوتے ہیں اور اردو جاننے والے اُن کے اردو کلام سے۔ مزید یہ کہ اقبال کی تخلیقات مختلف زبانوں میں منتقل ہوئی ہیں۔ اُن کی شاعری اور فلسفے نے عالمی سطح پر اہلِ علم کو متوجہ کیا اور اُن کے افکار پر مسلسل تحقیقی کام ہوتا رہا ہے۔ اقبال کے فارسی و اردو کلام کے مستند متون بھی بعد میں مرتب اور شائع کیے گئے۔
اقبال نے مسلمانوں کو اُن کا ماضی یاد دلایا، لیکن صرف ماضی کے قصے سنانے کے لیے نہیں۔ وہ ماضی سے قوت لے کر حال کو بدلنے اور مستقبل تعمیر کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اُن کی نظر میں زندہ قوم وہ نہیں جو صرف اپنے اسلاف کے کارنامے گنواتی رہے؛ زندہ قوم وہ ہے جو اپنے اسلاف کی روحِ عمل کو اپنے کردار میں پیدا کرے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال کے کلام میں شاہین ہے، مردِ مومن ہے، خودی ہے، عشق ہے، فقر ہے، علم ہے، عمل ہے، آزادی ہے، خودداری ہے اور ملت کی اجتماعی زندگی کا تصور ہے۔ اُن کا ’’فقر‘‘ دنیا سے فرار نہیں بلکہ دنیا کی غلامی سے آزادی ہے۔ وہ انسان کو دولت کا بھکاری، اقتدار کا محتاج اور دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے والا نہیں دیکھنا چاہتے۔ اُن کا انسان عزتِ نفس رکھنے والا، محنت کرنے والا اور اللّٰہ تعالٰی کا بندہ ہوتا ہے۔
اقبال کے نزدیک انسان کی شخصیت اُس وقت مکمل ہوتی ہے جب اُس کے قول اور فعل میں مطابقت پیدا ہو۔ صرف زبان سے بلند دعوے کرنا کافی نہیں؛ زندگی کو بھی اُن دعووں کی گواہی دینا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کی شاعری پڑھنے کے بعد اصل سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم نے اس شاعری سے کیا حاصل کیا؟ کیا ہمارے اندر محنت پیدا ہوئی؟ کیا ہمارے کردار میں دیانت آئی؟ کیا ہمارے اندر خود اعتمادی پیدا ہوئی؟ کیا ہم نے علم کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا؟ کیا ہم نے اپنے معاشرے اور ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کیا؟ یا صرف اپنے شاندار ماضی کو یاد کر کے خوش ہو جاتے ہیں۔کاہلی اور بے عملی کے شکار ہوٸے بیٹھے ہیں۔علامہ فرماتے ہیں:
؎خبر نہیں کیا ہے نام اس کا، خدا فریبی کہ خُود فریبی؟
عمل سے فارغ ہُوا مسلماں بنا کے تقدیر کا بہانہ
ایضاً صفحہ 687
آج کے دور میں اقبال کی ضرورت شاید پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ دنیا علم، سائنس، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، تحقیق اور صنعتی ترقی کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ جو قومیں نئے علوم اور ہنر سیکھ رہی ہیں وہ مستقبل کی تشکیل کر رہی ہیں، جبکہ جو قومیں صرف شکایت، تقلید اور ماضی کے فخر میں گرفتار ہیں، وہ دوسروں کی محتاج ہوتی جا رہی ہیں۔
اس لیے اقبال کو پڑھنے کا مطلب صرف اُن کے اشعار یاد کرنا نہیں، بلکہ اُن کے پیغام کو سمجھنا اور اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہے۔ آج ہمیں جدید علم بھی حاصل کرنا ہے، تحقیق بھی کرنی ہے، سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بھی بڑھنا ہے، لیکن اس کے ساتھ ایمان، اخلاق، دیانت، عدل، خودداری اور انسان دوستی کو بھی زندہ رکھنا ہے۔ یہی علم اور کردار کا امتزاج ایک مضبوط فرد اور مضبوط قوم پیدا کر سکتا ہے۔
علامہ اقبال نے 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں وفات پائی اور جاوید منزل لاہور سے متصل بادشاہی مسجد کے احاطے میں سپردِ خاک ہوئے۔ اُن کی زندگی کا سفر اختتام پذیر ہوا، مگر اُن کی فکر کا سفر آج بھی جاری ہے۔ اُن کا جسم مٹی میں آسودہ ہوا، مگر اُن کا قلم آج بھی نوجوانوں کو پکار رہا ہے، اُن کا فلسفہ آج بھی اہلِ فکر کو سوچنے پر مجبور کر رہا ہے اور اُن کی شاعری آج بھی سوئے ہوئے ضمیروں کو جگا رہی ہے۔
ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ جس دور میں ہم زندہ ہیں، اس کے علوم و فنون سے واقف ہونا، نئی ٹیکنالوجی سیکھنا، تحقیق کرنا اور زمانے کی رفتار کو سمجھنا ہماری ضرورت ہے۔ مگر اس کے ساتھ اپنی تہذیبی شناخت، دینی اقدار، اخلاقی کردار اور فکری خودمختاری کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ اقبال ہمیں یہی توازن سکھاتے ہیں: علم حاصل کرو، مگر علم کے غلام نہ بنو؛ دنیا کو سمجھو، مگر اپنی شناخت نہ کھوؤ؛ زمانے کے ساتھ چلو، مگر اپنے اصولوں کو قربان نہ کرو۔اقبال کی عظمت صرف اس بات میں نہیں کہ وہ عظیم شاعر تھے؛ اُن کی عظمت اس بات میں بھی ہے کہ اُنہوں نے شاعری کو زندگی سے جوڑ دیا۔ اُنہوں نے الفاظ کو فکر بنایا، فکر کو پیغام بنایا، پیغام کو عمل کی دعوت بنایا اور عمل کو قوم کی بیداری سے وابستہ کر دیا۔