
یونین کونسل سطح پر مقامی حکومتوں کے قیام سے مقامی قیادت اور عوام میں رابطوں کے فروغ سے مسائل کو براہ راست حل کرنے میں مدد ملتی ہے تاہم حالات اور وقت کے تناظر میں یونین کونسلوں کی بار بار اکھاڑ بچھاڑ اور نئی حلقہ بندیوں کی وجہ سے مقامی حکومتوں کے نظام میں عوامی نمائندگی کو غیر یقینی بنا دیا ہے ہمارے ملک میں بھی اکثر صوبائی حکومتیں بلدیاتی نظام کو خودمختار اور مضبوط نہیں دیکھنا چاہتی یہی وجہ ہے کہ یونین کونسلز کی جغرافیائی حیثیت حکمران سیاسی جماعت کی ضرورت کے تحت تبدیل ہوتی رہتی ہے کبھی یونین کونسلیں ختم کی جاتی ہیں
کبھی ان کی تعداد بڑھا دی جاتی ہے اور کبھی نئی حد بندیاں کر دی جاتی ہیں کیونکہ مرکز اور صوبائی حکومت اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی حامی نہیں ہوتیں کیونکہ صوبائی حکومتیں اکثر اختیارات اپنے پاس رکھنا چاہتی ہیں اس لیے بلدیاتی اداروں میں اکھاڑ بچھاڑ کے زریعے وقت کو طول دیتی ہیں ،اگر یونین کونسلوں کو مستقل بنیادوں پر آئینی تحفظ مالی خودمختاری اور اختیارات دیے جائیں تو مقامی مسائل جیسے صفائی پانی سڑکیں صحت اور تعلیم زیادہ مؤثر انداز میں حل ہو سکتے ہیں الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے تحصیل کلرسیداں کی دس یوسیز کو تحلیل کر کے تین کے اضافے کے ساتھ نئی تیرہ یوسیز کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
یوسی گف کی حدبندی میں مواضعات چنام،گنگھوٹھی برہمناں،اراضی بھائی صاحب،میانہ موہڑہ، نوتھیہ،رکھ چنام،سلجور، نندنہ منگرال اور گف پر مشتمل ہو گی۔یوسی غزن آباد میں گنگھوٹھی، تریل،غزن اباد،موہڑہ بختاں،چھپری اکو،گراٹہ سیداں،سدیوٹ،ترکھی چمبہ کرپال،ادمال،تھلہ اور بھونی شامل ہوں گےپنڈوری کے نام سے نئی یوسی قائم کی گئی جس میں بھکڑال،موہڑہ روپیال،پنڈوری اور ڈیرہ خالصہ کو ضم کیا گیا ہے جبکہ اراضی خاص کے نام سے نئی یوسی چنالی،بسنتہ،عزیزپور گجراں،اراضی خاص،نندنہ جٹال اور چھپر پر مشتمل ہوگی جبکہ یوسی بشندوٹ میں بشندوٹ،اراضی وانڈی، صاحب دھمیال، موہڑہ نجار اور چھجیالہ پر مشتمل ہو گی
یونین کونسلوں کی تقسیم مستقل طور پر عمل میں لائی گئی تو نئی تشکیل پانے والی یونین کونسلوں میں امیدواروں کے مابین کانٹے دار مقابلے ہونگے کیونکہ کوئی بھی دھڑا الیکشن کمپین میں عوامی اجتماع کے سامنے واضح اکثریت یا مدمقابل امیدوار کو کلین سویپ کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکے گا الیکشن کمیشن کیجانب سےکلرسیداں کی یوسیز کی تقسیم کے حوالے سے دستاویزات تو جاری کر دی گئی ہیں تاہم فی الحال نئے یوسیز کے نام ابھی تک سامنے نہیں آئے ہیں بعض حلقے اس تقسیم کو حکمران جماعت کی بلدیاتی انتخابات میں اپنے امیدواروں کیلیے میدان بنانے کی عارضی تجویز قرار دے رہے ہیں
جو آنے والے بلدیاتی انتخابات تک مؤثر ہوگی اس سے قبل ماضی میں اس طرح کی تبدیلی ہوتی رہی ہیں یہ دستاویزات فی الحال نئی یوسی کے قیام میں کوئی مستقل قانونی جواز فراہم نہیں کرتی جب تک نئی یوسیز کے نام عملہ اور الگ دفاتر قائم نہیں کیے جاتے دوسرا اہم نقطہ الیکشن کمیشن کیجانب کلرسیداں میں یوسیز کی جغرافیائی حدبندی کی دستاویزات کو پبلک کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اہلیان علاقہ یا سیاست دانوں کو کوئی اعتراض نہ ہو تو یہ حتمی ہوگا ہو سکتا بعض سیاسی حضرات ان حدبندیوں کے خلاف الیکشن کمیشن سے رجوع کریں کیونکہ دستاویزات میں یونین کونسل کے قیام اور نام کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا ہے
کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل ان نئی یوسیز میں باقاعدہ طور پر دفتر اور متعلقہ عملہ کی تقرری وغیرہ ہوگی ہا نہیں؟ فی الحال یہ ایک ڈرافٹ (عارضی) تجویز ہے جسکی اپروول ہونا باقی ہے، اگر باقاعدہ یونین کونسل ہوجائے تو بہت اچھی بات ہے یونین کونسلوں کی جغرافیائی تقسیم اگر آبادی، رقبے عوامی پہنچ اور مقامی ضروریات کو سامنے رکھ کر کی جائے تو اس سے عوام کو فوائد حاصل ہو سکتے ہیں
چھوٹے اور جغرافیائی طور پر محدود علاقوں میں منتخب بلدیاتی علاقے کے مسائل جیسے سڑکیں، پانی، سیوریج کا نظام صحت و صفائی سکول وغیرہ کی بہتری کیلیے اقدامات کر سکتے ہیں اگر آبادی اور رقبے کے مطابق تقسیم ہو تو ترقیاتی فنڈز چند بڑے دیہات تک محدود نہیں رہتے بلکہ چھوٹے علاقوں کو بھی حصہ ملتا ہے کیونکہ ترقیاتی فنڈز متعلقہ یونین کونسلوں کے الگ الگ جاری کیے جائیں گے البتہ اگر یہ تقسیم سیاسی مفادات انتخابی فائدے یا صوبائی حکومت کے دباؤ کے تحت کی جائے تو پھرعوام کے اندر بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے،وسائل یکساں عوامی ترقی پر خرچ نہیں کیے جاتے
بلکہ صوبائی حکومت کی منشا کے مطابق پارٹی کے وفادار جھتے کو نوازا جاتا ہے عام آدمی وسائل سے محروم رہتا ہےاور انتظامی مسائل بڑھ سکتے ہیں اسی لیے نئی یوسیز کی کامیاب جغرافیائی تقسیم کے حوالے سے اہم نکات کو مدنظر رکھا جانا ضروری ہے جن میں آبادی فاصلہ تاریخی و سماجی وابستگی اور سب سے بڑھ کر عوامی مشاورت کو بنیادی اہمیت دی جائے تو تب ہی نئی یوسیز کے قیام کے مطلوبہ ہدف حاصل کیے جا سکتے ہیں ورنہ یہ تقسیم عام طبقات کو فائدہ پہنچانے کے برعکس حکمران جماعت کیلئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگی