گرین ٹیم بیول کے نوجوانوں کی شجرکاری مہم ۔۔قابل تعریف لائق تحسین

ہم برسوں سے بے خوابی کے دہکتے عذاب میں مبتلا ہیں جاگتی اور جلتی آنکھوں سے اپنی تباہی کو دیکھ رہے ہیں ۔اور ہم سب ملکر اس تباہی کے اسباب پیدا کرتے ہیں ایک شائستہ ترین انسان گیر معاشرے کے وجود کی آرزو ہمارے ذہنوں کا سب سے پیش بہا سرمایہ ہے لیکن ہم ایسے معاشرے کی تشکیل میں اس لیے ناکام ہیں کہ ہم کسی معاملے مین سنجیدہ نہیں ہم۔برسوں سے دل برداشتگی کی کیفیت میں اپنے دن رات تیر کررہے ہیں ہمارے وطن کو دیمک لگ چکی ہے ہم اس وقت خوف اور سفاک خدشوں کے سبب بری طرح نڈھال ہیں ہماری غیر سنجیدگی ہمارے لیے اور ہمارے نسل۔نو کے لیے بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے ۔ہم ذاتی مفادات کے لیے ہر وہ کام کررہے ہیں جو نہ ہمارے لیے اور نہ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے کوئی اچھی نوید ہے

ہمارے چاروں اطراف وحشتوں کابہاؤ ہے ۔ہماری فضآ الودہ اور ہماری ہوا علیل ہوچکی ہے کیونکہ ہم نے جس بے دردی سے درختوں کو قتل کیا ہے اس سے ہمارے ہمارے موسم تبدیل ہوچکے ۔ہوا اور فضا الودہ ہوئی ۔سرکاری سرپرستی ٹمبر مافیا نے پورے ملک میں درختوں کو اس طرح کاٹا کہ جنگل کے جنگل خالی کردئیے گئے ۔اس پر ستم نوازے۔


نئے درخت لگانے پر توجہ نہیں دی گئ بلین ٹری جیسے جعلی منصوبے لانچ کرکے سرکاری خزانوں مین ڈاکے ڈالے گئے لیکن گرونڈ پر سوائے تباہی کے کچھ دیکھائی نہیں دیتا ۔ایسے میں اگر کوئی مخلصانہ طور پر پودے لگاتا نظر آتا ہے تو حیرانی کے ساتھ ساتھ بہت خوشی بھی محسوس ہوتی ہے ۔بیول میں کچھ نوجوانوں نے گرین ٹیم بیول کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس میں شامل نوجوان درختوں کے بےدریغ کٹائی کے پس منظر میں مستقبل کی تباہی کا ادراک کرچکے ان نوجوانوں نے باہمی مشاورت سے اپنے علاقے میں ہر سال ساون کے مہینے میں شجر کاری مہم شروع کرنے کا ایک پلان مرتب کیا ۔

نوجوانوں نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک. میکنزم بنایا اور گذشتہ چند برسوں سے وہ ہر سال اس موسم میں شجرہ کاری مہم کے تحت علاقے میں منتخب کردہ مقامات پر پودے لگا کر انسان دوستی اور وطن پرستی کا ثبوت دیتے ہیں یہ نوجوان صرف نمائشی کام نہیں کرتے بلکہ اپنے لگائے پودوں کی حفاظت اور دیکھ بھی کرتے ہیں ۔اس موقع پر ان نوجوانوں کی سپورٹ اور سرپرستی کرنے والے بیول کے رہائشی معروف بزنس مین و سیاسی وسماجی شخصیت چوہدری وسیم آف فرانس کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جو ان نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کو ہرسال لگ بھگ سو پودے فراہم کرتے ہیں۔

بیول کے ان نوجوانوں نے جو مشن شروع کیا ہے علاقے کے صاحب حیثیت لوگ اس میں اپنا حصہ ڈالیں ان نوجوانوں کو سپورٹ کریں ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان کی تعریف و توصیف کریں کیونکہ یہ نوجوان ایک سنگین مسلے پر ایکٹو ہیں جو حکومتی سرپرستی میں پیدا کیا جاتا ہے ۔درختوں کی کٹائی سرکاری اداروں کی مرضی منشاء اور باہمی لین دین کے تحت ہی ممکن ہوتی ہے بیول کے یہ نوجوان اور ان کی سوچ دیگر علاقوں کے لیے رول ماڈل ہونا ہیں ہمارے ملک کے نوجوان بڑے باصلاحیت ہیں انہیں مخلص ریبر اور بہتر وسائل ملیں تو یہ ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں ۔گرین ٹیم بیول کے نوجوان کی جذبہ قابل تعریف اور لائق تحسین ہے ۔۔دعا ہے رب کائنات انہیں کامیابیاں و کامرانیوں سے نوازے۔