ولیمہ کی خوبصورت تقریب

شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک سنت ہے ، پھر شادی میں دو بنیادی سنتیں ہیں ، ایک نکاح کی مبارک سنت، پھر ولیمہ کی مبارک سنت، آج ہم نے شادی کو بہت مشکل بنا دیا ہے ، بے شمار غلط رسومات کو ہم نے شادی میں داخل کر دیا ہے ، جس کی وجہ سے آج شادی کی مبارک سنت ایک مشکل عمل بن چکا ہے ، مہندی کے نام پر ایک بڑی تقریب منعقد کی جاتی ہے ، جس کا سنت سے کوئی تعلق ہی نہیں، پھر ایک بڑی بارات تیار کی جاتی ہے ، جو بچی کے والدین پر ایک بڑا بوجھ بن جاتی ہے ، بارات کا سنت سے کوئی تعلق نہیں، شادی کے اندر نکاح کی سنت اور ولیمہ کی مبارک سنت ہیں ، آج ہم نے ولیمہ کو بھی ایک نمائشی رسم بنا دی ہے ، بڑے بڑے ہال اور مارکیاں بک کی جاتی ہیں ،

اب جس تقریب کا ذکر کرنے چلا ہوں، ولیمہ کی وہ تقریب ، بہت سادہ ، بہت منظم ، بہت ہی پروقار تقریب تھی، یہ ولیمہ کی مبارک تقریب، رنوترہ سے ہمارے محترم بھائی ماسٹر نوید صاحب کے فرزند، ہم سب کے لاڈلے اسامہ نوید کے ولیمہ کی تقریب تھی ، 19 جولائی 2026 اسامہ نوید کے ولیمہ کی تعریف رنوترہ چوک میں ایک شادی ہال میں منعقد ہوئی ، میں نے روپڑ کلاں سے اپنے بھائی خورشید محمود ملک امیر جماعت اسلامی گگن ، ملک نثار احمد گگن ، ملک حق نواز روپڑ کلاں کے ساتھ طے کیا کہ نماز ظہر چک بیلی خان ادا کریں گے پھر وہاں سے شادی ہال میں پہنچ جائیں گے ،

ہم شادی ہال میں پہنچے میں پہنچے تو ہال مکمل طور پر بھر چکا تھا ماسٹر نوید صاحب نے فرمایا کہ مرزا صاحب آپ دعا کروائیں ، تاکہ کھانا شروع کروائیں ، اس طرح کھانا ٹھیک دو بجے شروع کر دیا گیا ، سخت گرمی کے موسم ہال مکمل طور ٹھنڈا تھا ، 1250 مہمان موجود تھے ، کھانا سنگل ڈش تھا ، لیکن کھانا چونکہ انھوں نے خود تیار کروایا تھا بہت ہی مزے دار کھانا تھا ، ماسٹر نوید صاحب کے چچا صوبیدار محمد ریاض صاحب مرحوم جو جنرل افتخار صاحب کے پی اے تھے ،

ان کی اپنے گاؤں کے لئے بڑی خدمات تھیں ان شاءاللہ ان کے حوالے سے ایک تحریر بھی لکھوں گا ، نوید اختر صاحب کے کزنز ماسٹر اشتیاق احمد، تنویر اختر اسٹنٹ اکاؤنٹ آفیسر ملٹری اکاونٹس، محمد سرفراز، محمد امتیاز ، حوالدار عمر وقاص ، ناصر محمود، مہمانوں کی خدمت میں موجود تھے ، ولیمہ میں دولہن بیٹی کے والد علی محمد اور ان کے خاندان کے لوگ موجود تھے ، رنوترہ ویلفیئر کمیٹی کے تمام دوست خدمت میں مصروف تھے ،

صوبیدار عبدالعزیز ، تصور حسین نمل یونیورسٹی، قاضی خالد محمود، رنوترہ کا خادم قاضی عزیز الرحمن، میرا ویر ثاقب متیال، خورشید محمود ملک، ملک حق نواز ، ملک نثار احمد، ڈھوک بدھال سے محمد یوسف ، چونترہ سے ماسٹر جاوید صاحب ,کامران یوسف صاحب، رانا مسعود احمد ، ملک مسعود صاحب، جاوید خورشید ، ملک مبشر ، ملک مختار ، ملک سجاد ، قاضی خرم ، ملک مظہر ، تنویر خالق ، راجہ توقیر اکبر قاضی نعیم ، انور بیگ صاحب، اور بڑی تعداد میں شعبہ تدریس سے وابستہ، معزز مہمان موجود تھے، ایک تو یہ ولیمہ کی تقریب بہت ہی منظم تقریب تھی ، کھانا ٹھیک دو بجے شروع ہو گیا ، نوجوان لڑکے تمام ٹیبلز پر ہر چیز مہیا کر رہے تھے ،

کھانا مزے دار تھا اور پھر مکھڈی حلوہ کا ٹیسٹ تو بالکل نرالہ تھا ، بڑی تعداد دوستوں سے ملاقات ہوئی، تمام معزز مہمان اور خاندان کے تمام لوگ بڑے پرتپاک انداز میں ملے ، اللہ تعالیٰ ہمارے بھائی ماسٹر نوید اختر صاحب کے گھر پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے آمین ثم آمین، ان کے بیٹے اثامہ نوید کی زندگی میں اور ہماری دولہن بیٹی کی زندگی میں خوشیاں اور سکون نصیب فرمائے آمین ثم آمین ، پیغام ایک ہی ہے ہمیں اپنی زندگی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق گزارنا چاہیے اور تمام غیر شرعی اور رسومات سے بچ کر زندگی گزارنی چاہیے، اس سے ہماری دنیا کی زندگی آسان ہوگی ، اور آخرت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ساتھ نصیب ہو گا ، آج ضرورت اس بات کی ہے

ہم خوشی کے موقع پر اور دکھ کے موقع پر اپنے آپ کو شطان کے حوالے نہ کریں ، ہم بچ کر زندگی گزاریں ، سیدھے راستے پر چلیں اور اولاد کو بھی صراط مستقیم پر چلتے رہنے کی تلقین کریں ، اپنے آپ کو اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچائیں، آج ہم نے شادی کے موقع پر اور موت کے موقع پر اپنے آپ کو بہت مشکل میں پھنسا دیا ہے ، کئی ہمارے بھائی بہن بڑے بڑے قرضے لیکر بڑی بڑی رسومات ادا کرتے ہیں پھر کئی کئی سالوں تک اس قرضے سے ان کی جان نہیں چھوٹتی ، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے

ہم ہر موقع پر اپنی آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن کو تھام کر رکھیں اپنے آپ کو ہر طرح کی گمراہیوں سے بچائیں ، سیدھے راستے پر چلتے جائیں، اپنی اولادوں کوبھی سیدھے راستے پر چلنے کی تلقین کریں ، ہر طرح غیر شرعی اور غیر اسلامی رسومات سے بچیں ، اپنے آپ کو قرضوں سے بچائیں، اللہ تعالیٰ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین