الماری میں رکھی ڈگریاں، دل میں دفن خواب

گھر کے ایک کمرے کی الماری میں فائلوں کا ایک ڈھیر رکھا تھا۔ ان فائلوں میں رنگین کور والی ڈگریاں، اسناد، تعریفی اسناد اور کامیابیوں کے سرٹیفکیٹس بڑی احتیاط سے سنبھال کر رکھے گئے تھے۔ کبھی ان کاغذوں کو دیکھ کر والدین کی آنکھوں میں فخر چمکتا تھا، اور ان کا مالک بھی یقین رکھتا تھا کہ یہ ڈگریاں اس کی زندگی بدل دیں گی۔ مگر آج انہی ڈگریوں پر گرد جمی ہوئی ہے، اور ان کے ساتھ کئی خواب بھی خاموش پڑے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں بچوں کو شروع سے یہی سکھایا جاتا ہے کہ خوب پڑھو، اچھی ڈگری حاصل کرو، پھر زندگی آسان ہو جائے گی۔ اسی یقین کے ساتھ نوجوان اپنی خواہشات قربان کرتے ہیں، دوستوں کی محفلیں چھوڑتے ہیں، راتوں کی نیند قربان کرتے ہیں اور امتحانوں کی تیاری میں برسوں لگا دیتے ہیں۔ انہیں امید ہوتی ہے کہ ایک دن ان کی محنت ضرور رنگ لائے گی۔

مگر تعلیم مکمل ہونے کے بعد جب روزگار کی تلاش شروع ہوتی ہے تو حقیقت اکثر توقعات سے مختلف ہوتی ہے۔ ایک درخواست، پھر دوسری، پھر تیسری… انٹرویوز، انتظار، خاموش فون، اور ہر بار یہی جواب: “ہم آپ سے رابطہ کریں گے۔” وقت گزرتا رہتا ہے، مگر وہ رابطہ اکثر نہیں آتا۔

یہ صرف ایک فرد کی کہانی نہیں، بلکہ ہزاروں نوجوانوں کی مشترکہ داستان ہے۔ ان کے پاس ڈگریاں ہیں، صلاحیت ہے، محنت ہے، مگر مواقع محدود ہیں۔ کچھ لوگ قسمت آزما کر کامیاب ہو جاتے ہیں، جبکہ بہت سے نوجوان انتظار اور غیر یقینی کی کیفیت میں رہ جاتے ہیں۔

اس سفر میں سب سے زیادہ تکلیف صرف بے روزگاری نہیں دیتی، بلکہ وہ احساس دیتا ہے کہ کہیں برسوں کی محنت بے معنی تو نہیں ہو گئی۔ جب رشتے دار ہر ملاقات میں پوچھتے ہیں، “نوکری ملی؟” تو یہ ایک عام سوال نہیں رہتا، بلکہ دل پر ایک اور بوجھ بن جاتا ہے۔ والدین اگرچہ حوصلہ دیتے ہیں، لیکن ان کی خاموش دعائیں اور فکر مند چہرے بھی بہت کچھ بیان کر دیتے ہیں۔

تاہم، ڈگری کبھی ناکام نہیں ہوتی۔ ناکامی اس نظام کی ہو سکتی ہے جو ہر قابل نوجوان کو یکساں موقع فراہم نہیں کر پاتا۔ تعلیم انسان کے علم، کردار، سوچ اور صلاحیت کو نکھارتی ہے، لیکن ان صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے کے لیے منصفانہ مواقع بھی ضروری ہوتے ہیں۔

مایوسی اگرچہ فطری احساس ہے، مگر اسے مستقل منزل نہیں بننا چاہیے۔ بہت سے لوگوں کو اپنی منزل دیر سے ملی، مگر ملی ضرور۔ کچھ نے ملازمت کے بجائے اپنا راستہ خود بنایا، کچھ نے نئی مہارتیں سیکھیں، اور کچھ نے بار بار ناکامی کے باوجود کوشش جاری رکھی۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو صرف ڈگری لینے کا نہیں، بلکہ نئی مہارتیں سیکھنے، خود اعتمادی پیدا کرنے اور بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا حوصلہ بھی دیں۔ اسی کے ساتھ معاشرے اور ریاست کی ذمہ داری بھی ہے کہ وہ میرٹ، شفافیت اور بہتر روزگار کے مواقع پیدا کریں تاکہ کسی نوجوان کی برسوں کی محنت صرف الماری کی زینت بن کر نہ رہ جائے۔

الماری میں رکھی ڈگریاں صرف کاغذ کے چند ٹکڑے نہیں ہوتیں۔ ان میں کسی ماں کی دعائیں، کسی باپ کی محنت کی کمائی، اور ایک نوجوان کے ان گنت خواب محفوظ ہوتے ہیں۔ ان خوابوں کو دفن ہونے کے لیے نہیں، بلکہ حقیقت بننے کے لیے زندہ رکھا جانا چاہیے۔