ہم ایک ایسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں لوگوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، شہر پھیل رہے ہیں، رابطے کے ذرائع پہلے سے زیادہ تیز ہو چکے ہیں، لیکن انسان ایک دوسرے سے اندر ہی اندر دور ہوتا جا رہا ہے۔ ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل فون نے دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک رابطہ آسان کر دیا ہے، مگر ہمارے آس پاس موجود انسان کے دکھ کو سمجھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ کسی کے گھر میں فاقہ ہو، کوئی بیماری سے لڑ رہا ہو، کوئی نوکری سے محروم ہو، کوئی ذہنی دباؤ کا شکار ہو یا کوئی اپنے مستقبل کی فکر میں رات بھر جاگتا رہے، اکثر اوقات ہمیں اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا۔ ہم اس کے پاس سے گزرتے ہیں، چند لمحے دیکھتے ہیں، شاید ایک تبصرہ کرتے ہیں اور پھر اپنی مصروف زندگی میں واپس چلے جاتے ہیں۔ یہی رویہ رفتہ رفتہ ہمارے معاشرے میں بے حسی کو جنم دے رہا ہے۔
بے حسی صرف یہ نہیں کہ ہم کسی ضرورت مند کی مدد نہ کریں، بلکہ بے حسی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمیں دوسرے انسان کے احساسات، مشکلات اور تکلیف کی اہمیت محسوس ہونا کم ہو جائے۔ جب کسی شخص کی پریشانی ہمیں پریشان نہ کرے، کسی کی بھوک ہمیں بے چین نہ کرے، کسی کے آنسو ہمیں روکنے پر مجبور نہ کریں اور کسی کی ناانصافی پر ہمارا ضمیر خاموش رہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف معاشرے کا نہیں بلکہ ہماری اپنی ذات کا بھی ہے۔
آج ہمارے اردگرد ایسے بے شمار لوگ موجود ہیں جو بظاہر بالکل معمول کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، لیکن اندر سے مختلف مشکلات کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں۔ کوئی گھر کے معاشی حالات سے پریشان ہے، کوئی والدین کے علاج کے اخراجات پورے نہیں کر پا رہا، کوئی ملازمت کھونے کے خوف میں مبتلا ہے، کوئی تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار کی تلاش میں دربدر ہے اور کوئی اپنے رشتوں میں پیدا ہونے والی دوریوں سے خاموشی سے لڑ رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم اکثر انسان کو اس کے ظاہری چہرے سے دیکھتے ہیں۔ اگر وہ مسکرا رہا ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ خوش ہے، اگر وہ خاموش ہے تو ہمیں لگتا ہے کہ وہ مصروف ہے اور اگر وہ کسی مسئلے کا ذکر نہیں کر رہا تو ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اسے کوئی مسئلہ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اپنی ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے جس کا ہمیں مکمل علم نہیں ہوتا۔ کسی کے پاس مہنگا لباس ہو سکتا ہے مگر وہ قرض میں ڈوبا ہوا ہو، کسی کے پاس اچھی ملازمت ہو سکتی ہے مگر وہ اپنے گھر کے حالات سے پریشان ہو، کوئی سوشل میڈیا پر خوش نظر آ سکتا ہے مگر حقیقت میں تنہائی کا شکار ہو۔ ہم نے دوسروں کی زندگیوں کو ان کے ظاہری حالات سے پرکھنے کی عادت بنا لی ہے اور یہی عادت ہمیں ان کے اصل مسائل سے دور کر رہی ہے۔
سوشل میڈیا نے بھی ہماری اجتماعی نفسیات کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پہلے کسی شخص کے دکھ کو دیکھ کر ہم اس کے قریب جاتے تھے، اس سے بات کرتے تھے اور اس کی مدد کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ آج کسی کے حادثے، غربت، بیماری یا پریشانی کی ویڈیو ہمارے سامنے آتی ہے تو ہم اسے چند سیکنڈ دیکھتے ہیں، شاید افسوس کا ایک جملہ لکھتے ہیں اور پھر اگلی ویڈیو کی طرف بڑھ جاتے ہیں۔ دکھ بھی اب ہماری روزمرہ اسکرولنگ کا حصہ بن گیا ہے۔ ہم دوسروں کی تکلیف کو دیکھنے کے عادی تو ہو گئے ہیں لیکن اسے محسوس کرنے کی صلاحیت شاید کم ہوتی جا رہی ہے۔
اس صورتحال کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ مسلسل مشکلات اور منفی خبروں نے ہمارے اندر ایک قسم کی جذباتی تھکن پیدا کر دی ہے۔ روزانہ قتل، حادثات، مہنگائی، بے روزگاری، غربت، جنگ، سیاسی کشیدگی اور دیگر مسائل کی خبریں دیکھتے دیکھتے انسان بعض اوقات ان سب سے لاتعلق ہونے لگتا ہے۔ ایک خبر کچھ دیر کے لیے ہمیں پریشان کرتی ہے اور پھر دوسری خبر آ جاتی ہے۔ چند گھنٹوں بعد پہلی خبر ہمارے ذہن سے نکل جاتی ہے۔ یوں دوسروں کا دکھ ہمارے لیے ایک لمحاتی خبر بن جاتا ہے، جبکہ متاثرہ شخص کے لیے وہ پوری زندگی کا المیہ ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہماری معاشی مشکلات نے بھی معاشرے میں بے حسی کو بڑھایا ہے۔ جب ایک شخص خود اپنے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہو تو اس کے لیے دوسروں کی مدد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ مہنگائی نے صرف اشیائے ضروریہ کی قیمتیں نہیں بڑھائیں بلکہ لوگوں کے ذہنی دباؤ میں بھی اضافہ کیا ہے۔ محدود آمدنی، بڑھتے اخراجات، بچوں کی تعلیم، گھر کا کرایہ، بجلی اور گیس کے بل، علاج کے اخراجات اور روزگار کا عدم تحفظ انسان کو مسلسل اپنی ذات اور اپنے خاندان کے مسائل میں الجھائے رکھتے ہیں۔ نتیجتاً وہ دوسروں کے مسائل کے لیے وقت اور توانائی نہیں نکال پاتا۔
لیکن ہر بے حسی کی وجہ معاشی مشکلات نہیں۔ بعض اوقات ہم صرف اس لیے کسی کی مدد نہیں کرتے کہ ہمیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں ہم خود مشکل میں نہ پڑ جائیں۔ ہم سڑک پر کسی حادثے کا شکار شخص کو دیکھ کر رکنے سے گھبراتے ہیں، کسی غریب کو دیکھ کر نظریں چرا لیتے ہیں، کسی پریشان دوست کا فون آنے پر مصروف ہونے کا بہانہ کر لیتے ہیں اور کسی ضرورت مند رشتہ دار کی مدد کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتے ہیں کہ اس کا فائدہ ہمیں کیا ہوگا۔ ہم نے انسانی تعلقات میں بھی فائدے اور نقصان کا حساب شامل کر دیا ہے۔
یہ سوچ صرف دوسروں کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ ہمارے اپنے لیے بھی خطرناک ہے۔ انسان بنیادی طور پر ایک سماجی مخلوق ہے۔ اسے دوسروں کے ساتھ تعلق، تعاون اور ہمدردی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر معاشرے میں ہر شخص صرف اپنے فائدے کے بارے میں سوچنے لگے تو اجتماعی زندگی کا تصور کمزور ہو جاتا ہے۔ سڑک پر حادثے کا شکار شخص صرف اس لیے ہمارا مسئلہ نہیں کہ وہ ہمارا رشتہ دار نہیں۔ کسی غریب بچے کی تعلیم صرف اس لیے غیر اہم نہیں کہ وہ ہمارے گھر کا بچہ نہیں۔ کسی بزرگ کی تنہائی صرف اس لیے معمولی نہیں کہ وہ ہمارے خاندان سے تعلق نہیں رکھتا۔ معاشرہ اسی وقت مضبوط بنتا ہے جب ہم دوسروں کے مسائل کو بھی کسی حد تک اپنا مسئلہ سمجھیں۔
ہماری تربیت میں بھی اس معاملے کا بڑا کردار ہے۔ بچے اپنے اردگرد کے بڑوں سے سیکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے والدین کو ضرورت مندوں کی مدد کرتے دیکھیں گے، بزرگوں کا احترام کرتے دیکھیں گے، ملازمین کے ساتھ عزت سے پیش آتے دیکھیں گے اور دوسروں کے دکھ پر ردعمل دیتے دیکھیں گے تو ان کے اندر بھی ہمدردی پیدا ہوگی۔ لیکن اگر وہ گھر میں یہ دیکھیں کہ غریب شخص کو حقیر سمجھا جاتا ہے، کمزور کی آواز کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور صرف طاقتور کے سامنے جھکا جاتا ہے تو وہ بھی یہی رویہ سیکھیں گے۔
ہمیں اپنے گھروں میں بچوں کو صرف کامیابی، اچھے نمبرز اور اچھی نوکری کی تعلیم نہیں دینی چاہیے بلکہ انہیں اچھا انسان بننے کی تعلیم بھی دینی چاہیے۔ انہیں یہ بتانا ضروری ہے کہ کسی کی مدد کرنا کمزوری نہیں، کسی کے دکھ کو سمجھنا وقت کا ضیاع نہیں اور کسی کی عزت کرنا ہمارے مقام کو کم نہیں کرتا۔ معاشرے کی اصل ترقی صرف بلند عمارتوں، بڑی سڑکوں اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں ہوتی بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہاں رہنے والے انسان ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح پیش آتے ہیں۔
ہماری بے حسی کا ایک اور سبب طبقاتی تقسیم بھی ہے۔ معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ ایک شخص کے لیے چند ہزار روپے معمولی رقم ہو سکتی ہے، جبکہ دوسرے کے لیے یہی رقم پورے مہینے کے گھر کا خرچ ہو سکتی ہے۔ ایک گھر میں کھانے کی میز پر ضرورت سے زیادہ کھانا موجود ہوتا ہے، جبکہ اسی شہر میں کوئی خاندان رات کا کھانا سوچ کر سوتا ہے۔ ایک شخص کے لیے بجلی کا بل صرف ایک بل ہے، جبکہ دوسرے کے لیے وہ گھر کے بجٹ کو ہلا دینے والا مسئلہ ہے۔ جب ہم دوسروں کی زندگی کے حالات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے تو ہمیں ان کے مسائل معمولی محسوس ہونے لگتے ہیں۔
یہاں سوال صرف دولت تقسیم کرنے کا نہیں بلکہ احساس تقسیم کرنے کا بھی ہے۔ ہر شخص لاکھوں روپے کی مدد نہیں کر سکتا، لیکن ہر شخص کسی پریشان انسان کے ساتھ چند منٹ بیٹھ سکتا ہے۔ ہر شخص کسی غریب خاندان کے تمام اخراجات نہیں اٹھا سکتا، لیکن کسی ضرورت مند کے لیے راشن کا ایک پیکٹ خرید سکتا ہے۔ ہر شخص کسی بے روزگار کو ملازمت نہیں دے سکتا، لیکن اس کے لیے کسی موقع کی اطلاع ضرور شیئر کر سکتا ہے۔ ہر شخص کسی بیمار شخص کا علاج نہیں کروا سکتا، لیکن اس کے لیے دعا اور حوصلے کے چند الفاظ ضرور کہہ سکتا ہے۔
بعض اوقات ہمیں لگتا ہے کہ ہماری چھوٹی سی مدد سے کیا فرق پڑے گا، لیکن حقیقت میں انسان کی زندگی میں چھوٹی چھوٹی مہربانیاں بھی بہت بڑا اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایک طالب علم کے لیے کسی استاد کا حوصلہ بڑھانے والا جملہ اس کی پوری زندگی بدل سکتا ہے۔ کسی بے روزگار شخص کے لیے کسی دوست کا بھیجا ہوا ایک موقع امید پیدا کر سکتا ہے۔ کسی غمزدہ انسان کے لیے کسی کا خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ جانا اس کے دکھ کو کچھ کم کر سکتا ہے۔ انسان کو ہمیشہ بڑی مدد کی ضرورت نہیں ہوتی، کبھی کبھی اسے صرف یہ یقین چاہیے ہوتا ہے کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ ہمدردی کا مطلب ہر مسئلے کا حل اپنے ذمے لینا نہیں۔ ہمدردی کا مطلب ہے کہ ہم دوسرے کے احساسات کو تسلیم کریں۔ اگر ہم کسی شخص کی مشکل حل نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کا مذاق نہ اڑائیں۔ اگر ہم مالی مدد نہیں کر سکتے تو اسے حقیر نہ سمجھیں۔ اگر ہم کسی کی بیماری کا علاج نہیں کر سکتے تو اس کی تکلیف کو ڈرامہ قرار نہ دیں۔ اگر ہم کسی کے فیصلے سے متفق نہیں تو بھی اس کی عزت برقرار رکھ سکتے ہیں۔
آج معاشرے میں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کے مسائل کو ان کی اپنی غلطی قرار دینے میں بہت جلدی کرتے ہیں۔ کوئی غریب ہے تو ہم کہتے ہیں اس نے محنت نہیں کی۔ کوئی بے روزگار ہے تو کہتے ہیں اس میں قابلیت نہیں۔ کوئی قرض میں ہے تو کہتے ہیں اس نے خرچ زیادہ کیا ہوگا۔ کوئی ذہنی دباؤ میں ہے تو کہتے ہیں یہ سب بہانے ہیں۔ ہم یہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ہر انسان کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔
کسی انسان کی موجودہ حالت کو دیکھ کر اس کی پوری کہانی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں یہ حق نہیں کہ کسی شخص کی چند مشکلات دیکھ کر اسے ناکام قرار دے دیں۔ زندگی میں مواقع، حالات، خاندان، معاشی پس منظر، صحت، تعلیم اور کئی دوسرے عوامل انسان کے سفر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسی لیے فیصلہ سنانے کے بجائے سمجھنے کی کوشش زیادہ ضروری ہے۔
معاشرے میں ہمدردی پیدا کرنے کے لیے ہمیں اپنے رویوں میں چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے اپنے اردگرد کے لوگوں کو انسان سمجھنا ہوگا، صرف اپنے کام کے راستے میں آنے والی رکاوٹ نہیں۔ کسی دکان کے ملازم سے بات کرتے ہوئے اس کے وقت اور عزت کا خیال رکھنا ہوگا۔ دفتر میں جونیئر ملازم کی غلطی پر اسے ذلیل کرنے کے بجائے سمجھانا ہوگا۔ کسی بزرگ کو سڑک پار کرنے میں مشکل ہو تو چند لمحے رکنا ہوگا۔ کسی طالب علم کو رہنمائی چاہیے تو اپنی مصروفیت میں سے تھوڑا وقت نکالنا ہوگا۔
ہمیں اپنے الفاظ کے اثر کو بھی سمجھنا چاہیے۔ ایک جملہ کسی شخص کو توڑ سکتا ہے اور ایک جملہ اسے دوبارہ کھڑا کر سکتا ہے۔ ہم اکثر مذاق کے نام پر دوسروں کی کمزوریوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کسی کے لباس، رنگ، جسمانی ساخت، مالی حالات، نوکری یا تعلیمی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ ہم تو مذاق کر رہے تھے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جو بات ہمیں مذاق لگتی ہے وہ دوسرے شخص کے لیے تکلیف دہ یاد بن سکتی ہے۔
ہمدردی کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اس کے لیے کسی خاص عہدے، دولت یا اختیار کی ضرورت نہیں۔ ایک عام انسان بھی اپنے رویے سے معاشرے کو بہتر بنا سکتا ہے۔ کسی کو راستہ دے دینا، کسی کی بات توجہ سے سن لینا، کسی ضرورت مند کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر مدد کرنا، کسی غمزدہ شخص کو تنہا نہ چھوڑنا اور کسی غلط فہمی کی وجہ سے رشتہ ختم کرنے کے بجائے بات کر لینا، یہ سب وہ چھوٹے اقدامات ہیں جو معاشرے میں انسانیت کو زندہ رکھتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ آج جو شخص مضبوط ہے وہ کل کمزور ہو سکتا ہے، آج جو شخص دوسروں کی مدد کر رہا ہے اسے کل خود کسی کے سہارے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ آج جس شخص کو ہم نظر انداز کر رہے ہیں، ممکن ہے کل ہمیں اسی کے تعاون کی ضرورت پڑ جائے۔ اس لیے دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ صرف اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی زندگی کی ایک بنیادی ضرورت بھی ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ بہتر ہو تو ہمیں صرف حکومت، اداروں یا قوانین سے تبدیلی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ قانون جرائم کو روک سکتا ہے، ادارے سہولتیں فراہم کر سکتے ہیں اور حکومت پالیسیاں بنا سکتی ہے، لیکن انسان کے اندر انسان کے لیے احساس صرف معاشرہ خود پیدا کرتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہوں، وہاں مشکلات کے باوجود زندگی نسبتاً آسان محسوس ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ایک ایسا معاشرہ جہاں ہر شخص صرف اپنی ذات کے بارے میں سوچتا ہو، وہاں سہولتیں موجود ہونے کے باوجود لوگ تنہا محسوس کرتے ہیں۔
ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس قسم کا معاشرہ چاہتے ہیں۔ ایسا معاشرہ جہاں کسی کے گرنے پر لوگ ویڈیو بنائیں یا ایسا معاشرہ جہاں لوگ اسے اٹھانے کے لیے آگے بڑھیں؟ ایسا معاشرہ جہاں کسی غریب کی تصویر بنا کر اسے سوشل میڈیا پر دکھایا جائے یا ایسا معاشرہ جہاں اس کی عزتِ نفس محفوظ رکھتے ہوئے مدد کی جائے؟ ایسا معاشرہ جہاں کسی کی ناکامی مذاق بنے یا ایسا معاشرہ جہاں اسے دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ دیا جائے؟
دنیا کو آج صرف ذہین لوگوں کی نہیں بلکہ حساس لوگوں کی بھی ضرورت ہے۔ ترقی یافتہ معاشرہ وہ نہیں جہاں صرف ٹیکنالوجی جدید ہو، بلکہ وہ ہے جہاں انسان کا دل بھی زندہ ہو۔ ہمیں اپنے بچوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ کامیابی صرف اس بات کا نام نہیں کہ آپ دوسروں سے آگے نکل جائیں، بلکہ کامیابی یہ بھی ہے کہ آپ آگے بڑھتے ہوئے کسی کو پیچھے نہ چھوڑیں۔ آپ کے پاس اختیار ہو تو کمزور کے لیے استعمال کریں، دولت ہو تو ضرورت مند کو یاد رکھیں، علم ہو تو دوسروں تک پہنچائیں اور اگر کچھ بھی نہ ہو تو کم از کم کسی کے ساتھ اچھا سلوک ضرور کریں۔
بے حسی اچانک پیدا نہیں ہوتی۔ یہ چھوٹے چھوٹے رویوں سے جنم لیتی ہے۔ پہلے ہم کسی کی تکلیف کو نظر انداز کرتے ہیں، پھر کسی کی مدد سے گریز کرتے ہیں، پھر دوسروں کے دکھ کو معمول سمجھنے لگتے ہیں اور آخرکار ہمیں کسی چیز سے فرق پڑنا ہی بند ہو جاتا ہے۔ اسی طرح حساسیت بھی چھوٹے چھوٹے اعمال سے پیدا ہوتی ہے۔ کسی کی بات سننا، کسی کے دکھ کو تسلیم کرنا، کسی کی مدد کرنا اور کسی انسان کو اس کی کمزوری کے باوجود عزت دینا ہمیں دوبارہ انسان بناتا ہے۔
آج ہمیں دوسروں سے پہلے خود سے سوال کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے کتنے حساس ہیں۔ کیا ہم اپنے دفتر کے چوکیدار کا حال پوچھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے گھر میں کام کرنے والے شخص کی مشکلات سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ہم کسی ایسے دوست کو فون کرتے ہیں جس سے کافی عرصے سے بات نہیں ہوئی؟ کیا ہم اپنے والدین کی خاموشی کو سمجھتے ہیں؟ کیا ہم اپنے بچوں کے چہروں کے پیچھے چھپی پریشانی کو محسوس کرتے ہیں؟ کیا ہم اپنے ساتھی کی خاموشی کو صرف اس کی عادت سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں؟
اگر ان سوالات کا جواب اکثر نفی میں ہے تو شاید ہمیں معاشرے کی بے حسی پر بات کرنے سے پہلے اپنی ذات سے آغاز کرنا چاہیے۔
دنیا کو بدلنے کے لیے ہمیشہ بڑے اقدامات ضروری نہیں ہوتے۔ کبھی ایک چھوٹا سا اچھا رویہ بھی تبدیلی کی ابتدا بن جاتا ہے۔ کسی پریشان شخص کو یہ کہنا کہ “میں تمہاری بات سن رہا ہوں”، کسی ضرورت مند کو یہ احساس دلانا کہ “تم اکیلے نہیں ہو”، کسی ناکام شخص کو یہ کہنا کہ “دوبارہ کوشش کرو” اور کسی غمزدہ انسان کے ساتھ خاموشی سے بیٹھ جانا بھی انسانیت ہے۔
ہم ایک دوسرے کے مسائل سے بے حس اس لیے ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ ہم نے اپنی زندگی کی رفتار اتنی تیز کر دی ہے کہ دوسرے انسان کے لیے رکنا بھول گئے ہیں۔ ہمیں دوبارہ رکنا ہوگا، دیکھنا ہوگا، سننا ہوگا اور محسوس کرنا ہوگا۔ شاید ہمیں ہر مسئلے کا حل معلوم نہ ہو، شاید ہم ہر شخص کی مدد نہ کر سکیں، لیکن اگر ہم کسی کے دکھ کو سمجھنے کی کوشش کریں تو یہ بھی ایک بڑی انسانی خدمت ہے۔
آخرکار معاشرے کی اصل پہچان اس کی عمارتیں، سڑکیں، مارکیٹیں یا ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کے لوگوں کا رویہ ہوتا ہے۔ اگر ہمارے پاس سب کچھ ہو لیکن ایک دوسرے کے لیے احساس نہ ہو تو ہماری ترقی ادھوری ہے۔ ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہوگا جہاں انسان صرف اپنی کامیابی پر خوش نہ ہو بلکہ دوسرے کی خوشی میں بھی شریک ہو، جہاں کسی کی پریشانی مذاق نہ بنے، جہاں کمزور کو نظر انداز نہ کیا جائے اور جہاں کسی کے آنسو تماشہ نہ بنیں۔
انسان ہونے کا سب سے بڑا ثبوت شاید یہی ہے کہ ہمیں دوسرے انسان کا درد محسوس ہو۔ اگر کسی اجنبی کی تکلیف ہمیں چند لمحوں کے لیے روک دیتی ہے، کسی غریب کی بھوک ہمیں بے چین کرتی ہے، کسی بوڑھے کی تنہائی ہمیں اداس کرتی ہے اور کسی مظلوم کی آواز پر ہمارا ضمیر جاگ اٹھتا ہے تو ہمارے اندر انسانیت ابھی زندہ ہے۔ ضرورت صرف اس انسانیت کو زندہ رکھنے کی ہے، کیونکہ معاشرے اس وقت نہیں ٹوٹتے جب ان کے پاس وسائل کم ہو جائیں، معاشرے اس وقت ٹوٹتے ہیں جب ان کے لوگوں کے دل ایک دوسرے کے دکھ سے خالی ہو جائیں۔