آجاو گے جو اک روز حالات کی زد میں

آج صبح اچانک میرے دماغ میں راجہ شمس آزاد منہاس کی شخصیت نمودار ہوئی اور پھر میں حلوہ پوری لینے نکل گیا مگر ہر دو منٹ بعد میرے سامنے راجہ شمس آزاد، راجہ عادل آزاد اور راجہ خرم آزاد منہاس ابھرتے چلے گئے اور پھر ناشتہ ختم کرنے کے بعد میں نے شمس آزاد کو وائیس فون کیا مگر شمس نے کہا پروفیسر صاحب میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں لہذا وڈیو کال کرتے ہیں اور پھر وڈیو کال پر زندگی کے سارے معاملات ڈسکس ہوےء اور میں بھی دھنگ رہ گیا۔

میری عادت ہے کہ جب میرے دماغ میں کوئی پہلو سما جائے تو پھر میں ایک لفظ کو سو الفاظ بنا دیتا ہوں اور پھر جب الفاظ میرے دل و دماغ میں گھس جائیں تو پھر کیء صفحوں پر انسان کے کردار کو نمایاں کر دیتا ہوں۔ یاد رکھیں گناہ مجھ سے بھی ہوےء ہیں اور ہر انسان سے زندگی میں غلط فیصلے اور گناہ بھی ہوےء ہیں کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ مگر اچھے فیصلے بہترین کام اور نیکیاں لوگوں کے سامنے رکھنا بہترین عمل ہے۔آج صبح اچانک میرے دماغ میں راجہ شمس آزاد منہاس کی شخصیت نمودار ہوئی اور پھر میں حلوہ پوری لینے نکل گیا مگر ہر دو منٹ بعد میرے سامنے راجہ شمس آزاد، راجہ عادل آزاد اور راجہ خرم آزاد منہاس ابھرتے چلے گئے اور پھر ناشتہ ختم کرنے کے بعد میں نے شمس آزاد کو وائیس فون کیا مگر شمس نے کہا پروفیسر صاحب میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں لہذا وڈیو کال کرتے ہیں اور پھر وڈیو کال پر زندگی کے سارے معاملات ڈسکس ہوےء اور میں بھی دھنگ رہ گیا۔

راجہ شمس جب والد کا زکر کر رہے تھے تو بایر سے مسکرا رہے تھے مگر والد کی اپنی اولاد اور گاؤں والے افراد کیلئے کی گئی محنت و مشقت کو سوچ کر دل و دماغ کو الگ الگ محسوس کر رہے تھے اور کبھی نیچے دیکھتے تو کبھی اوپر اور پھر میں نے محسوس کیا کہ ہر دو منٹ کے بعد وہ کبھی بائیں جانب تو کبھی دائیں جانب دیکھتے اور پھر میں نے محسوس کیا کہ وہ اپنے والد گرامی کو تلاش کر رہے ہیں۔ یار شمس کبھی کوئی فرد اس دُنیا سے جانے کے بعد میں لوٹ کر آیا ہے؟؟؟؟؟ بس یاد رکھیں کہ والدین وہ ہستیاں ہوتی ہیں جو قبرستان میں بھی صاف شفاف نظر آ رہے ہوتے ہیں اور میں نے ہہ سب شمس آزاد کی آنکھوں اور چہرے کو دیکھ کر بھانپ لیا تھا۔

جس طرح شمس آزاد اور انکے بھائی اپنے علاقے میں عزیزوں، رشتے داروں اور دوسرے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں اس سے کیء درجے بہتر ان کے والد گرامی ہر مایوس انسان کا سہارا بنے رہے اور ساری زندگی یتیم بیواؤں غریب لوگوں کی خدمت میں گزار دی۔ آپ فوج میں ملازم رہے اور پھر ریٹائرڈ ہو گئے۔ اسکے بعد دبئی شفٹ ہوگئے۔ پھر کیا ہوا کہ زندگی یکسر بدل گئی۔ آپ کے والد نے بےشمار مشکلات برداشت کیں مگر ڈٹے رہے حسین کے انکار کی طرح۔ آپ کے والد گرامی نے گاؤں میں ایک جنازہ گاہ بنوائی اور اسکے بعد قبرستان کی دیوار بنوائی مگر ساری زندگی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف رہے۔ گاؤں کی سڑکوں کا کام بہترین انداز میں سر انجام دیا اور جب بھی دبیء سے واپس آتے تو بے بہا کام کر کے چلے جاتے۔

بہت سے افراد کو پاکستان سے دبئی شفٹ کیا اور اگر کسی کے پاس دبیء جانے کیلئے پیسے نہ ہوتے تو وہ خود دے دیتے۔ ایک فرد کو جب وہ اپنے ساتھ لے جاتے تو اس فرد کا سارا خاندان خوشحال ہو جاتا۔ لہذا انہوں نے بےشمار خاندانوں کو تقویت دی۔ سکون سے زندگی گزاری اور بہترین انداز میں اللہ کو پیارے ہو گئے۔ اللہ پاک مغفرت فرمائے آمین۔

آپ کے والد گرامی کی تاریخ پیدائش 1943 ہے اور وہ دبئی میں سپرد خاک ہیں۔ اللہ پاک کرم فرمائے اور قبر میں ایک خوبصورت باغ عطا فرمائے آمین۔ آپکی والدہ ابھی تک زندہ ہیں۔ اللہ پاک انکا سایہ سلامت رکھے آمین۔ آپ کے والد کے تین بھائی تھے۔ ایک بھائی ملٹری پولیس میں تھا اور دو بھائی صوبیدار میجر ریٹائرڈ ہوئے۔ اس وقت شمس آزاد منہاس کی دبیء تین کاروبار ہیں ٹرانسپورٹ کے اور بہترین انداز میں رواں دواں ہیں۔ راجہ شمس آزاد کے چار بھائی ہیں جنکے نام ملاحظ فرمائیں۔ راجہ راجہ محمد حنیف منہاس, راجہ جاوید اقبال منہاس, راجہ عادل آزاد منہاس اور راجہ خرم آزاد منہاس اور اپکا سارا خاندان دبیء میں مقیم ہے۔

راجہ شمس انکے بھائی اور ساری فیملی مہمان نوازی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ گاؤں میں بہترین فارم ہاؤس بنا رکھا ہے اور جس شخص کو کوئی بھی مسئلہ ہو وہ بغیر پوچھے اندر آ جاتا ہے۔ اور جو ان سے ہو سکے کر دیتے ہیں کیونکہ انکے والد نے بھی اپنی زندگی میں بہت سی مشکلات دیکھیں جو ہر وقت انکے والد کے سامنے رہتیں اور اب انکی اولاد کے سامنے رواں دواں رہتی ہیں اور مرتے دم تک رہے گی انشاء اللہ۔

شمس جب بھی مجھے ملا بہترین انداز میں ملا جیسے کوئی شاگرد اپنے استاد سے ملتا ہے حالانکہ میں شمس اور انکے بھائیوں کا پروفیسر یر گز نہیں رہا۔ انسان جتنا مرضی تعلیم یافتہ ہو جائے تربیت اس کو اپنی گھر سے ملتی ہے۔ آج کل کے بیشمار تعلیم یافتہ لوگ معلوم نہیں کن کن غلط سرگرمیوں میں مبتلا ہیں۔ مگر یاد رکھیں کہ ہماری نانی دادی نانا دادا نے سکول کا منہ تک نہیں دیکھا تھا مگر تربیت انکی بہترین تھی۔ لہذا شمس آزاد منہاس اور انکے بھائیوں میں بہترین انداز میں تربیت موجود ہے۔ اور یہ نسلی ہونے کی نشانی ہوا کرتی ہے۔ میں جب شمس آزاد کے چہرے کی طرف دیکھتا ہوں مجھے انکے دماغ اور دل میں یہ الفاظ دکھائی دیتے ہیں۔ اور شمس آزاد ہر وقت اسی سوچ میں مبتلا رہتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ انسان کسی بھی وقت یہ فانی دنیا چھوڑ جاےء گا۔

آ جاؤ گے اک روز جو حالات کی زد میں
ہو جائے گا معلوم خدا ہے کہ نہیں ہے