مخلص دوستی کا خوبصورت اظہار

میں اپنی کئی تحریروں میں عرض کر چکا ہوں، اللہ تعالیٰ کی کروڑوں نعمتوں میں سے ایک نعمت مخلص دوست ہے ، بلاشبہ خونی رشتوں کی اہمیت اپنی جگہ ہے ، والدین کے بعد سب سے زیادہ محبت کرنے والا رشتہ بہن اور بھائیوں کا ہے ، پھر میاں اور بیوی کا لازوال رشتہ ، پھر اولاد اور والدین کا رشتہ ، پھر اولاد کی اولادوں کے ساتھ رشتہ ، یہ سب لازوال رشتے ہیں ، زندگی کی ساری خوبصورتی ان رشتوں کے مرہون منت ہے ، بھائیوں اور بہنوں کے درمیان، بھائی اور بھائی کے درمیان اگر خونی رشتے کے ساتھ ساتھ دوستی کا رشتہ بن جائے تو یہ رشتے اور خوبصورت بن جائیں گے،

میاں اور بیوی کے درمیان محبت ، پیار اور دوستی کا رشتہ خوبصورت خاندان کی بنیاد بن جاتا ہے ، دوستی کے رشتے میں ، دیانت ، وفا ، سچائی، اور اللہ کا تقویٰ ہونا ضروری ہے ، ہمارے محترم بھائی جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی صاحب اور چوہدری شاہد مبارک مرحوم کے درمیان 57 سالوں سے یہ لازوال رشتہ قائم تھا ، دونوں کا بچپن راولپنڈی کالج روڈ پر گزرا ، دونوں ایک ساتھ پڑھتے رہے ، دونوں کے والدین ان دونوں کو اپنی حقیقی اولاد سمجھتے تھے، وقت گزرتا گیا، دونوں کو اللہ تعالیٰ اپنے اپنے میدان میں کامیابیاں عطا کئیں ، اللہ کے فیصلے ہیں ، چوہدری شاہد مبارک صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں،

محترم بھائی جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی صاحب نے اپنے بچپن کے مخلص دوست چوہدری شاہد مبارک مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے ایک تعزیتی ریفرنس اپنے گھر جاوا پر منعقد کروایا ، جس میں چوہدری شاہد مبارک مرحوم کے بچوں، اور خاندان کے افراد کے ساتھ اپنے بچپن کے دوستوں کو بھی مدعو کیا ، یہ ایصال ثواب کا پروگرام بھی تھا ، ایک تعزیتی ریفرنس بھی تھا ، بچپن کے دوستوں کا اکھٹ بھی تھا ،قاری صاحب نے ایک بچے سے تلاوت کروائی ، اس کے بعد دوسرے بچے نے خوبصورت انداز میں ہدیہ نعت پیش کی ، اس کے بعد قاری صاحب نے ابتدائی گفتگو کی ، انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث ہے اپنے محبت کرنے والوں کو یاد رکھا کریں ،

ان کے لئے دعائیں کیا کریں ، اس کے بعد انھوں نے ہمارے محترم بھائی جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی صاحب کو گفتگو کے لئے بلایا ، جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی صاحب نے فرمایا میرے بارے میں تاثر ہے کہ میں کھل کر بولتا ہوں ، لیکن آج مجھ سے بولا نہیں جارہا ہے ، چوہدری شاہد مبارک مرحوم کے ساتھ میرا 57 سالوں کا بھائیوں جیسا تعلق تھا ، ہم نے بچپن ، لڑکپن ، جوانی اگھٹے گزاری ، وہ بہت ہی سنجیدہ انسان تھا ، وہ ایک مخلص دوست اور مخلص بھائی تھا ، وہ کبھی اونچا نہیں بولا اور نہ وہ کبھی غصے آیا ، وہ سب سے محبت کرنے والا مخلص دوست تھا ،

اس کی کمی قدم قدم پر محسوس ہو رہی ہے ، اس کے بعد مرحوم کے بیٹے زین شاہد نے بات کی لیکن وہ مسلسل آنسوؤں میں اپنے مرحوم باپ کا ذکر کر رہا تھا میرے والد صاحب ہمارے مہربان باپ اور مخلص دوست تھے ، انھوں نے کبھی بھی ہمیں ڈانٹا نہیں تھا ، ان ان کی کمی قدم قدم پر محسوس ہو رہی ہے، ان کے بغیر زندگی ادھوری ہے ، اللہ تعالیٰ میرے والد صاحب کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے آمین ثم آمین،

اس کے بعد مرحوم کے بہنوئی خواجہ شاہد حسن نے بات کی انھوں نے فرمایا کہ ان کی بہن میرے گھر ہے لیکن ہمارے درمیان سالے اور بہنوئی کے بجائے ایک مخلص بھائی کا رشتہ تھا ، وہ میرے مخلص بھائی تھے ، اس کے بعد مرحوم کے دوستوں رضوان صادق اور رضوان بشیر نے اظہار خیال فرمایا، سب نے ان کی خوبصورت زندگی کی گواہی دی ، اس کے ممتاز مذہبی سکالر سابق ایم پی اے پروفیسر محمد وقاص خان فکر آخرت کے حوالے سے بہت ہی پر مغز گفتگو کی ، انھوں نے فرمایا کہ عقیدہ توحید، عقیدہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد عقیدہ آخرت وہ عقیدہ ہے، جو انسان کو صراط مستقیم پر گامزن رکھتا ہے ،

انسان اس دنیا کو مسافر خانہ سمجھ کر زندگی گزارے ، ، پروفیسر محمد وقاص خان نے کہا کہ دنیا کا وعدہ اللہ نے کیا ہے وہ ہمیں مل کر رہے گی ، لیکن آخرت کی کامیابی انسان کی کوشش سے ممکن ہوگی ، آج کے انسان نے الٹ کیا وہ دنیا کی دوڑ دھوپ کرتا ہے اور آخرت کو بھول چکا ہے ، ہمیں آخرت کی فکر کرنی چاہیے ، اس کے لئے کوش کرنی چاہیے، اپنا رخ درست سمت پر متعین کرنا ہو گا ، اللہ تعالیٰ کے احکامات اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق زندگی کو ڈھالنا ہو گا، ہمیں خیر کا سفیر بننا ہو گا ، جس طرح آج اس محفل چوہدری شاہد مبارک مرحوم کی زندگی کی گواہی ان کے بچپن کے دوست دے رہیں ہیں

اس طرح کل ہمارے جانے کے بعد لوگ ہماری زندگی کی اچھی گواہی دیں ، ہمارا سراپا خیر بننا ہو گا ، ہر طرح کی شرور سے بچ کر زندگی گزاریں اس کے بعد مرحوم کے لئے، محترم بھائی جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی صاحب کے والدین کے لئے، سینیٹر عرفان صدیقی صاحب کے لئے خصوصی دعائیں کروائی گئیں اس موقع پر ڈپٹی جنرل سیکریٹری جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی ثاقب صدیقی، نیشل لیبر فیڈریشن کے زمہ دار وحید حیدر شاہ ،راجہ شبیر احمد ، محترم بھائی راجہ شبیر احمد صاحب جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی صاحب کے گھر کے فرد ہیں

جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی صاحب کی والدہ راجہ شبیر احمد صاحب کو اپنا تیسرا بیٹا کہتی تھیں ، اس موقع پر گاؤں اور مرحوم کے خاندان کے معززین موجود تھے موجود تھے، اپنے دوستوں کو اور کلاس فیلوز کو ڈھونڈ کر ان سے رابطہ رکھیں ، ان کی اولادوں کے ساتھ رابطے میں رہیں ، اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کی بندگی میں گزاریں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق اپنی زندگی کو گزاریں ، خیر کے سفیر بن جائیں ، خوشیاں بانٹنے والے بن جائیں، اپنے بہن بھائیوں سے رابطے میں رہیں ، صلہ رحمی کریں ، مخلص دوستوں کے ساتھ جڑ کر رہیں لیکن ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔

منفی سوچوں سے بچیں اور منفی رویوں اور زہریلے اثرات سے بچ کر زندگی گزاریں ، اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے آمین ثم آمین، جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی صاحب کے والدین، ان کے کزن سینیٹر عرفان صدیقی صاحب کی کامل مغفرت فرمائے آمین ثم آمین، ہمارے والدین کی کامل مغفرت فرمائے آمین ثم آمین جن کے زندہ ہیں ان کو صحت و تندرستی والی زندگی عطا فرمائے آمین ثم آمین