
قاضیانِ بھنگالی کھینگر کے جد اعلیٰ قاضی فضل احمدولد حافظ اللہ جوایا عرصہ اڑھائی سو سال قبل بھنگالی گوجر سے متصل گاؤں بھنگالی کھینگر میں ہجرت کر کے آئے،آپکا آبائی تعلق بھیرہ شریف سے تھا۔قاضی فضل احمد،دربار حسینی فیض رساں بھنگالی شریف کے بانی پیر سید امام علی شاہ ہمدانی کے قرات میں استاد تھے۔آپکا نمایاں کام قرآن پاک کی ہاتھ سے کتابت تھی۔آپکے پڑپوتے،شاعر،فاضل بھیرہ شریف اورعرصہ 30سال سے خطیب جامع مسجد مخدوم عباس بھنگالی شریف قاضی شفیق الرحمن قادری کے پاس موجودقرآن پاک کے قلمی نسخہ کے آخر میں سورۃ الناس کے نیچے ایک مہر لگی ہے جس پر”عبدالاحد فضل احمد1281ہجری“ لکھا ہے۔ قاضی شفیق الرحمن قادری کا دعویٰ ہے کہ یہ قرآن پاک اس وقت سے ہمارے خاندان کے پاس محفوظ ہے اور ہمارے پڑدادا قاضی فضل احمد کا ہی1281ہجری بمطابق 1864ء کا کتابت کردہ ہے۔قاضی فضل احمد نے طویل عمر پائی اور بھنگالی کھینگر کے مرکزی قبرستان میں آپ کی تربت پر وصال کا سن 1911 ء درج ہے۔ آپ کے وصال کے بعد آپ کے فرزند قاضی حسن دین دینی تعلیم کی خدمات انجام دیتے رہے اور تقریباً ڈیڑھ سو سال کی عمر میں 1985ء میں آپ کا انتقال ہوا، قاضی حسن دین کے انتقال کے بعد انکے فرزند قاضی فضل حق دینی تعلیمات عام کرتے ہوئے 95 سال کی عمر میں 2007ء میں وفات پا گئے۔آج کل اس خاندان کی علمی،ادبی و دینی میراث کے وارث قاضی فضل حق کے فرزندقاضی شفیق الرحمن قادری ہیں جو دارالعلوم بھیرہ شریف میں دوران تعلیم جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہری کے شاگرد بھی رہے ہیں۔قاضی شفیق الرحمن قادری کودربار حسینی فیض رساں بھنگالی شریف کے موجودہ سجادہ نشین پیر سید جابر علی شاہ ہمدانی کااستاد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔قاضی شفیق الرحمن قادری کے تین بھائی قاضی مشتاق الاسلام، قاضی رفیق الاسلام، قاضی شفقت مرتاض قادری اور بھتیجا قاضی حسیب احمد بھی دینی خدمات میں پیش پیش ہیں۔(1)
حوالہ جات
1:قاضی شفیق الرحمن قادری،راقم کیساتھ تحریری گفتگو،دولتالہ،18اکتوبر2026