“یہ سسٹم اب نہیں چلے گا”

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک ملک تھا، جس کا نام استان تھا۔ اسکا ایک دارالحکومت تھا، 25 صوبے تھے اور سات خود مختار اکائیاں تھیں۔
ایک بہت ہی طاقتور وزیر نے مختلف وزارتیں اپنے زیرِ اثر رکھی تھیں۔ اس طاقتور وزیر نے بادشاہ کو مشورہ دیا ملک کے چاروں کونوں سے لوگ شکایات لے کر آتے ہیں کسی کو سکول چاہیے، کسی کو ہسپتال، اور کسی کو غربت نے مار ڈالا ہے۔ عرضیاں گھومتے گھومتے ہم تک پہنچتی ہیں تو دو تین ماہ گزر چکے ہوتے ہیں۔ “اور اب اس طرح تو یہ سسٹم نہیں چل سکتا”


بادشاہ نے دریافت کیا اس مسئلے کا حل کیا ہے وزیر نے بڑے کرٌوفر سے بتایا کہ ہمیں تین نئے صوبے یا ریاستیں بنا دینی چاہییں، ہر کسی کے مسئلے اپنے ہوں گے تو گورنر اور اسمبلی بھی اپنی ہوگی۔ بادشاہ بھی ستان کا تھا، تجویز فوراً مان لی، ہر صوبے / ریاست میں وفاق کے بجٹ سے گورنر ہاؤس اور اسمبلی تشکیل دے دی گئی۔ صوبے بننے کے بعد وفاق میں ایک دم مالی بہران آ گیا۔ ہر صوبے/ ریاست کے لیے نئے گورنرہاؤس، نئی اسمبلی، نئی ہائی کورٹ، 5 ہزار سے زیادہ نئے افسران کا بھرتی ہونا کوئی جوئے شیر کے مترادف تھا، خزانہ خالی ہو گیا، پرانے صوبوں کا بجٹ کٹ گیا، سڑکیں اور ترقیاتی کام رک گئے۔ دریا ؤں پر صوبوں میں لڑائی شروع ہو گئی، جن صوبوں میں معدنیات ذخائر تھے وہ کوئلا گیس اور زراعت کی تقسیم پر لڑائی کرنے لگے۔ یہاں تک کہ حالات خانہ جنگی تک پہنچ گئے۔ ان معاملات کو دیکھ کر بادشاہ کا پٌتہ پانی ہو گیا اسے اپنی کرسی ہلتی ہوئی نظر آئی۔ دنیا سے بڑے بڑے معاشی دان بلائے اور انہوں نےکئی ہفتوں کی محنت کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ مرض انتظامی تھا آپ کے وزیر نے مرہم سیاسی لگا دیاہے۔


جب کسی ملک میں انتظامی سہولت آبادی کے دباؤ یا نسلی / لسانی مطالبات کی وجہ سے نئے صوبے بنائے جاتے ہیں تو اس کے دورس نتائج ہوتے ہیں مثلا چھوٹی چھوٹی انتظامیہ اکائیاں بننے سے گورنرز آسان ہو جاتی ہے فیصلے جلدی ہوتے ہیں اور عوام تک سہولیات کی رسائی بہتر ہوتی ہے۔ پسماندہ علاقوں کو صوبہ/ریاست بنانے سے وہاں بجٹ، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر پر توجہ بڑھتی ہے، مقامی زبان ثقافت اور وسائل کی بہتر نمائندگی ہوتی ہے،

نیا صوبائی سیکریٹریٹ، اسمبلی اور محکمے بنتے ہیں جس سے مقامی سطح پر ہزاروں نوکریاں پیدا ہوتی ہیں البتہ کچھ منفی اثرات بھی مد نظر رکھنے چاہیے۔ ہر نئے صوبے کے لیے اسمبلی، ہائی کورٹ، گورنر ہاؤس، سیکٹریٹ اور ہزاروں سرکاری ملازمین ایک بہت بڑا بجٹ کھا سکتا ہے، اس سے قومی خزانے پر بوجھ پڑتا ہے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات وسائل اور این ایف سی ایوارڈ کی تقسیم پر جھگڑے پیدا ہو سکتے ہیں۔ جس سے قومی یکجہتی داؤ پر لگ سکتی ہے۔
وسائل کے بٹوارے پر صوبوں کا جھگڑنا فطری ہے دریا کے پانی سے لے کر معدنیات کے حقوق تک ہر صوبہ اپنے آپ کو کمتر سمجھ سکتا ہے۔

یہ قصہ جس ستان کا ہے وہ کوئی اور نہیں ہندوستان ہے جسے دور جدید میں بھارت کے نام سے جانتے ہیں۔ جس نے سن 2000 میں تین نئی ریاستوں کی سفارش پیش کی۔ اس وقت کے با اثر وزیرِ داخلہ، لال کرشن ایڈوانی نے کہا کہ “یہ سسٹم نہیں چل سکتا” اور وزیرِ اعظم، اٹل بہاری واجپائی، وہ بادشاہ تھا جس نے اسے منظور کیا۔ بھارت نے جو تین ریاستیں بنائیں اس میں نمبر ایک مدھیہ پردیش تھی جسے تقسیم کر کے چھتیس گڑھ بنایا گیا، اور یہ نئی ریاست بنانے کی وجہ قبائلی آبادی، معدنی وسائل اور پسماندگی بتائی گئی۔


دوسری ریاست اتر پردیش کو تقسیم کر کے اتراکھنڈ بنایا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ پہاڑی علاقہ تھا، الگ ثقافت تھی، انتظامی مشکلات تھیں وغیرہ وغیرہ۔
اور تیسری ریاست بہار کو تقسیم کر کے چہارکھنڈ بنایا یہاں کی تقسیم کی وجہ بھی قبائلی حقوق، معدنیاتی کی غیر منصفانہ تقسیم اور پسماندگی تھا۔


شروع شروع میں تینوں ریاستوں نے وفاق سے علیحدہ بجٹ لیا، سیکریٹریٹ اور ہائی کورٹ بنانے کے لیے مرکز سے بھاری گرانٹ لی اور آج 26 سال بعد تو تین میں سے دو ریاستیں 36 گڑھ اور اترا کھنڈ بس چل سو چل گزارہ کر رہی ہیں جبکہ چھار کھنڈ کو 26 سال بعد بھی سیاسی عدم استحکام کا سامنا ہے۔ اس وقت بھارت میں 28 صوبے اور آٹھ 8خود مختار اکائیاں موجود ہیں۔


نئے صوبے اس وقت کامیاب ہوتے ہیں جب ان کے پیچھے انتظامی ضرورت، مالی پلان، صوبے اور وسائل کی واضح تقسیم کی منصوبہ بندی ہو، نہ کہ صرف سیاسی مطالبہ ہو جس میں کہا جائے “یہ سسٹم اب نہیں چلے گا”۔