
جدید دنیا نے انسان کو بے شمار سہولتیں عطا کی ہیں، مگر سکون اور خوشی کی ضمانت نہیں دی۔ آج کا انسان پہلے سے زیادہ تعلیم یافتہ، زیادہ باخبر اور زیادہ مربوط ہے، لیکن اس کے باوجود اضطراب، بے چینی اور مایوسی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا المیہ ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر خوشی کا گمشدہ پتہ کہاں ہے؟ کیا ہم نے اسے ترقی کی دوڑ میں کہیں کھو دیا ہے یا ہم غلط سمت میں اس کی تلاش کر رہے ہیں؟
انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ اس نے اپنی خوشی کا اختیار دوسروں کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔ وہ اپنی کامیابی کو دوسروں کی تعریف سے ناپتا ہے، اپنی عزت کو لوگوں کی رائے سے وابستہ کرتا ہے اور اپنی شخصیت کا معیار معاشرے کی قبولیت کو سمجھ لیتا ہے۔ نتیجتاً جب تعریف ملتی ہے تو خوشی محسوس ہوتی ہے، اور جب تنقید یا نظراندازی کا سامنا ہوتا ہے تو انسان اندر سے ٹوٹنے لگتا ہے۔ ایسی خوشی کبھی مستقل نہیں ہو سکتی، کیونکہ دوسروں کے خیالات اور رویے ہمیشہ ہمارے اختیار میں نہیں ہوتے۔
سوشل میڈیا نے اس رویے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ آج لوگ اپنی حقیقی زندگی سے زیادہ اپنی مجازی زندگی کو خوبصورت بنانے میں مصروف ہیں۔ تصاویر، پسندیدگیاں اور تبصرے کامیابی کا پیمانہ بن گئے ہیں۔ نوجوان اپنی صلاحیتوں کے بجائے دوسروں کی زندگیوں سے اپنا موازنہ کرتے ہیں۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر چمکتی ہوئی تصویر کے پیچھے ایک ایسی حقیقت بھی ہوتی ہے جو دنیا کو دکھائی نہیں دیتی۔ مسلسل موازنہ انسان سے اس کا اعتماد، اس کی خودی اور اس کی خوشی چھین لیتا ہے۔
قوموں کی ترقی بھی اسی اصول سے جڑی ہوئی ہے۔ جو قومیں اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھتی ہیں، وہ تاریخ بدل دیتی ہیں۔ لیکن جو قومیں دوسروں کی منظوری کی منتظر رہتی ہیں، وہ کبھی حقیقی ترقی حاصل نہیں کرتیں۔ ترقی کا آغاز خود اعتمادی، علم، تحقیق، محنت اور مثبت سوچ سے ہوتا ہے۔ یہی اصول فرد پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ جو انسان اپنی طاقت کو پہچان لیتا ہے، وہ مشکلات کو رکاوٹ نہیں بلکہ مواقع سمجھتا ہے۔
اسلام ہمیں خوشی کا ایک منفرد تصور دیتا ہے۔ قرآن کریم بار بار شکر، صبر، امید اور توکل کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک مومن کی خوشی اس کے رب سے تعلق میں ہوتی ہے، نہ کہ صرف دنیاوی آسائشوں میں۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں ایسے بے شمار لوگ گزرے ہیں جن کے پاس وسائل کم تھے، مگر دل مطمئن تھے؛ اور ایسے بھی جن کے پاس سب کچھ تھا، مگر سکون نہیں تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ خوشی کا تعلق دولت سے کم اور دل کی کیفیت سے زیادہ ہے۔
ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ زندگی کا مقصد صرف کامیاب ہونا نہیں بلکہ باکردار انسان بننا ہے۔ اگر تعلیم صرف ڈگری تک محدود ہو جائے اور کردار سازی کو نظر انداز کر دیا جائے تو معاشرہ ترقی کے باوجود بے سکون رہے گا۔ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کو اپنی ذات پر اعتماد، دوسروں کے لیے احترام اور معاشرے کے لیے ذمہ داری کا احساس دے۔
خوشی کا ایک اہم ذریعہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا بھی ہے۔ جب انسان کسی ضرورت مند کی مدد کرتا ہے، کسی طالب علم کی رہنمائی کرتا ہے، کسی غم زدہ دل کو حوصلہ دیتا ہے یا معاشرے کی بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرتا ہے تو اسے ایسی روحانی خوشی نصیب ہوتی ہے جو کسی مادی کامیابی سے کہیں زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔ یہی وہ خوشی ہے جو انسان کو اندر سے مضبوط بناتی ہے۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی خوشی کا پتہ دوبارہ تلاش کریں۔ یہ پتہ نہ کسی بینک اکاؤنٹ میں ہے، نہ کسی عہدے میں، نہ دوسروں کی تعریف میں اور نہ ہی سوشل میڈیا کی مقبولیت میں۔ یہ ہمارے ایمان، ہمارے کردار، ہماری محنت، ہماری خود اعتمادی اور ہمارے رب پر کامل یقین میں پوشیدہ ہے۔
اگر ہم اپنی خوشی کو دوسروں کی رائے سے آزاد کر کے اپنی اقدار، اپنے مقصد اور اپنی ذمہ داری سے وابستہ کر لیں تو نہ صرف ہماری ذاتی زندگی میں سکون آئے گا بلکہ ایک مضبوط، پُرامید اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد بھی رکھی جا سکے گی۔ خوشی کا گمشدہ پتہ کہیں باہر نہیں، وہ ہمارے اپنے اندر ہے۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ ہم خود کو پہچانیں، اپنے رب سے تعلق مضبوط کریں اور اپنی زندگی کو مثبت مقصد کے ساتھ گزاریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو وقتی مسکراہٹ نہیں بلکہ دائمی اطمینان عطا کرتا ہے۔