پیشہ ور گداگر ،ایک معاشرتی ناسور

اپنے آس پاس نگاہ دوڑائیں تو آپ کو پیشہ ور گداگروں کا ایک جم غفیر دکھائی دے گا، کوئی گھر پر دستک دے گا کہ مجبور ہوں لاچار ہوں،مدد کردیں، کوئی راہ چلتے راستہ روک کر اپنی بے بسی ظاہر کرے گا کہ بے روزگار ہوں،کوئی کام کاج نہیں، بچوں نے تین دن سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا، مدد کر دیں تاکہ ان کے لیے کھانے کا بندوست کر سکوں، اگر غور فرمائیں تو ایسے افراد جسمانی صحت کے لحاظ سے بالکل تندرست نظر آتے ہیں اگر انہیں کہیں کہ ہٹے کٹے ہو،کام کاج کیوں نہیں کرتے تو جواب پہلے سے تیار رکھتے ہیں اور کئی وجوہات بیان کرتے ہیں کہ سادہ لوح لوگ ان کی باتوں کو سچ مان کر کچھ نہ کچھ رقم دے دیتے ہیں .
بعض خواتین چھوٹے بچے کے ساتھ مساجد کے احاطے میں نمازیوں کے راستے میں ہی بیٹھ جاتی ہیں اور فریاد کرتی ہیں کہ بیوہ ہوں چھوٹے چھوٹے بچے ہیں دو دن سے بھوکے ہیں، مدد کردیں.


بھیک مانگنے کے ان کے پاس بہت سے ڈھنگ ہوتے ہیں، کئی بھکاری اپنے پاس میڈیکل رپورٹ اٹھائے ہوتے ہیں کہ میرے بچے کو یا بیوی کو فلاں بیماری ہے علاج کے لیے رقم نہیں ہے، میری مدد کردیں تاکہ اس کا علاج کروا سکوں، حالانکہ اس میں کوئی صداقت نہیں ہوتی، اسی طرح ایک عورت راولپنڈی صدر میں واران بس اسٹاپ پر مانگا کرتی تھی،میں نے اسے بے شمار دفعہ اسی طرح مانگتے دیکھا،ایک بار میں نے اسے سواں اڈے پر مانگتے دیکھا اس بار وہ کوئی اور بیماری کے کاغذات دکھا رہی تھی، میں مسافر گاڑی میں بیٹھا تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ صدر میں تو آپ کے پاس دوسری بیماری کے کاغذات ہوتے تھے تو اس نے ڈھٹائی سے جواب دیا کہ آپ پیسے نہ دیں دوسروں کو تو نہ بتائیں .


میں پیشہ ور گداگروں کی بجائے اصل ضرورت مند کی مدد کا قائل ہوں، کراچی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے قریب گزری میں میں نے ایک نوجوان مرد اور خاتون کو دیکھا کہ سات آٹھ سال کی ایک بچی کے ساتھ میرے سامنے سے آ رہے تھے، وہ بچی آ ئس کریم کھا رہی تھی، نوجوان مرد مجھے روک کر یوں گویا ہوا کہ ہم ملتان سے ریل گاڑی میں آ رہے تھے کہ راستے میں سارے پیسے اور سامان چوری ہوگیا اب واپسی کا کرایہ نہیں ہے کچھ رقم دے دیں تاکہ واپس گھر جا سکیں، میں نے سوچا کہ ان کو واقعی مدد کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ پیشہ ور بھکاری نہیں لگتے، میں نے ان کو کچھ رقم دے دی، ابھی محض چند قدم ہی چلا تھا کہ بالکل اسی عمر اور حلیے کے نوجوان مرد اور خاتون، اسی عمر کی بچی کے ساتھ سامنے سے آئے اور بالکل انہیں کی طرح کے حالات بیان کئے تو میں بڑا حیران ہوا کہ یہ بھکاریوں کا نیا روپ سامنے آیا ہے.


چک بیلی خان،گرد ونواح، راولپنڈی اور دیگر شہروں میں پیشہ ور گداگر ایک ریڑھی پر کسی بچے یا بڑی عمر کے فرد کو معذور ظاہر کر کے اونچی آواز سے مخصوص الفاظ سے بھیک مانگتے دکھائی دیتے ہیں ان کی آواز سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ انہیں اس طرح مانگنے کی خصوصی تربیت دی گئی ہے، چک بیلی خان میں اسی طرح مانگنے والے موجودہ حبیب بینک کے سامنے مخصوص آ واز میں راگ الاپتے جا رہے تھے کہ ان کے بالکل سامنے سے ایک سوزوکی ڈرائیور نے گاڑی اسٹارٹ کی اور جلدی سے ان کی جانب روانہ ہوا، بھکاری یہ سمجھے کہ یہ گاڑی ہمیں کچل دے گی، چنانچہ معذور بنا ریڑھی پر بیٹھا شخص فورآ ریڑھی سے اتر کر بھاگ نکلا،مجھ سمیت وہاں موجود افراد حیران رہ گئے اور سب نے انہیں برا بھلا کہا مگر انہیں ذرا بھر اثر نہیں ہوا.


اب گداگر مافیا معذور افراد کو ایک لاؤڈ اسپیکر پر مخصوص نعتیہ کلام لگا دیتے ہیں اور وہ گھسٹ گھسٹ کر چلتے ہیں، ایسے گداگروں کو ہمارے ہاں بہت بھیک ملتی ہے، شام کو ان لوگوں کو گداگر مافیا کے افراد اٹھا کر مخصوص ٹھکانوں پر لے جاتے ہیں .
کسی بھی چوراہے پر، بس اسٹاپ پر، ریل گاڑی کے ڈبوں میں، اشارہ بند ہونے کی جگہ پر، گلیوں میں، بازاروں میں، جہاں نگاہ ڈالی جائے،وہیں بھکاری مافیا سرگرم نظر آتا ہے، ان کے سد باب کی ضرورت ہے، پاکستانی قوم بڑی رحم دل ہے اس لیے وہ اس مافیا کے چکر میں پڑ کر ان کو کچھ نہ کچھ رقم ثواب کی نیت سے دے کر سکون محسوس کرتی ہے،


چک بیلی خان کے نواح میں ڈھوک بازی گراں ہیں، وہاں کی خواتین اور کچھ مرد شادی بیاہ کے گھر میں جا کر ڈھولک بجانے اور شادی بیاہ کے گیت گاتے ہیں اور دلہا سے خصوصاً اور دلہن کے گھر والوں سے عموماً شادی کی خوشی کے موقع پر رقم طلب کرتے ہیں، اس کے علاوہ گندم کی کٹائی کے موقع پر ہر گھر سے کچھ گندم کے دانے مانگنے جاتے ہیں اور لوگ انہیں دے بھی دیتے ہیں کیوں کہ علاقے کے سب افراد انہیں جانتے ہیں، یہ پیشہ ور بھکاریوں کی طرح بھیس بدل کر نہیں مانگتے اس لیے ان کے مانگنے پر کسی کو اعتراض نہیں ہوتا .چک بیلی خان، گردونواح اور دیگر شہروں میں مداری بندر اور ریچھ کا تماشا دکھانے کے لیے گاہے بگاہے آ تے رہتے ہیں اور ان کا تماشا دکھانے کے بعد رقم طلب کرتے ہیں اسی طرح سپیرے سانپ کو پٹاری میں بند کر کے آ تے ہیں اور گھر گھر جا کر مانگتے ہیں

کہ سانپ والے بابا کی مدد کر دیں لوگ انہیں رقم یا آٹا وغیرہ دے دیتے ہیں ،اکثر دیکھا گیا ہے کہ مداری بندر اور ریچھ کو سدھانے کے لیے ان پر سختی کرتے ہیں اور انہیں بھوکا پیاسا رکھتے ہیں اس لئے ایسے تماشوں پر پابندی عائد ہونی چاہیئے اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی چاہیے کہ پیشہ ور بھکاریوں کی حوصلہ شکنی کریں اور اپنے اردگرد موجود ایسے افراد تلاش کرکے ان کی خفیہ مدد کریں جو سفید پوشی کی وجہ سے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے یا اپنی رقم ایدھی فاؤنڈیشن ٹرسٹ، چھیپا ویلفیئر فاؤنڈیشن جیسے فلاحی اداروں کے حوالے کریں تاکہ اصل حق دار تک پہنچ سکے .