
پاکستان میں ایسے علماء کرام بہت کم ہیں جنہیں ہر عمر، ہر طبقے اور ہر مکتبۂ فکر کے لوگ یکساں محبت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہوں۔ علامہ مولانا ناصر مدنی انہی ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے علم، کردار، اخلاق، سادگی اور محبت بھرے انداز سے لاکھوں دل جیتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں نہ صرف علمی گہرائی ہوتی ہے بلکہ ایسی شفقت اور اپنائیت بھی ہوتی ہے جو سننے والوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان، بزرگ، تاجر، مزدور، طلبہ اور اہلِ علم سب ان کے بیانات بڑے شوق سے سنتے ہیں۔ آج سوشل میڈیا، بالخصوص ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر ان کے خطبات اور مختصر ویڈیوز لاکھوں افراد تک پہنچتے ہیں اور بے شمار نوجوان ان سے دینی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔
میری بھی مولانا ناصر مدنی صاحب سے ایک دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ میں نے انہیں ہمیشہ انتہائی خوش اخلاق، ملنسار اور مسکراتے ہوئے پایا۔ وہ آنے والے ہر شخص سے محبت سے ملتے ہیں، خیریت دریافت کرتے ہیں اور کسی کو یہ احساس نہیں ہونے دیتے کہ وہ کسی بڑی شخصیت کے سامنے کھڑا ہے۔ عام آدمی ہو یا کوئی بڑا سرکاری افسر، غریب ہو یا صاحبِ حیثیت، وہ سب کے ساتھ یکساں شفقت کا برتاؤ کرتے ہیں۔ اگر کوئی ان کے ساتھ تصویر یا سیلفی بنوانا چاہے تو وہ خندہ پیشانی سے اس کی خواہش پوری کرتے ہیں۔ یہی عاجزی، انکساری اور حسنِ اخلاق ان کی اصل پہچان بن چکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دل جیتنے کے لیے صرف علم کافی نہیں ہوتا، بلکہ محبت اور اخلاق بھی ضروری ہوتے ہیں، اور مولانا ناصر مدنی نے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔
گزشتہ دنوں جمعہ کے خطبے کے دوران انہیں اچانک دل کی تکلیف پیش آئی اور وہ منبر پر گر پڑے۔ یہ خبر سنتے ہی ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں علاج کے بعد اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت عطا فرمائی۔ ان کی بیماری کی خبر پر ہزاروں لاکھوں لوگوں نے دل سے دعائیں کیں۔ اسپتال سے لے کر گھر واپسی تک ہر طبقۂ فکر کے لوگ ان کی عیادت کے لیے پہنچتے رہے، پھولوں کے گلدستے پیش کیے اور ان کی جلد صحت یابی کی دعائیں کرتے رہے۔ یہ محبت اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان اگر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لے تو پھر آزمائش کے وقت پوری قوم اس کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔
اس سے قبل جب ان کے صاحبزادے کو حادثہ پیش آیا تھا تو بھی لوگوں کی بڑی تعداد کئی ماہ تک ان کی خیریت دریافت کرنے جاتی رہی۔ یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ محبت، اخلاص اور خدمت کا صلہ ہمیشہ عزت اور احترام کی صورت میں ملتا ہے۔ علامہ ناصر مدنی نے نہ صرف دین کی تبلیغ و اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ اپنے عملی کردار سے بھی لوگوں کو اخلاق، برداشت اور محبت کا درس دیا ہے۔ وہ حق بات کہنے سے نہیں گھبراتے، خواہ وہ کسی بااثر شخصیت یا حکمران کو ناگوار ہی کیوں نہ گزرے۔ مختلف مواقع پر انہیں دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا، مگر انہوں نے استقامت کے ساتھ اپنی بات جاری رکھی۔
ان کی علالت کے دوران وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا گیا اور کمشنر کے ذریعے پھولوں کا گلدستہ اور دعائیہ پیغام بھجوایا گیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ مولانا ناصر مدنی کی شخصیت کو مختلف حلقوں میں احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ علامہ مولانا ناصر مدنی کو مکمل صحت، درازیٔ عمر، عافیت اور مزید استقامت عطا فرمائے، انہیں دینِ اسلام کی خدمت کی مزید توفیق دے اور ان کے علم، اخلاق اور محبت بھرے انداز سے امتِ مسلمہ کو مسلسل فیض یاب فرماتا رہے۔ آمین۔