بڑھتی خودکشیاں حکمرانوں کے لیے لمحۂ فکریہ

ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی و گیس کے ناقابلِ برداشت بلوں نے عام آدمی، خصوصاً غریب اور سفید پوش طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ روزگار کے مواقع محدود ہوتے جا رہے ہیں جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ ایسے میں ہزاروں خاندان دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم، علاج اور گھر کا کرایہ ادا کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ حالیہ دنوں حاصل پور میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ، جہاں ایک مزدور نے شدید معاشی تنگی کے باعث پہلے اپنے دو معصوم بچوں کو زہر دیا اور پھر خود اپنی اہلیہ سمیت زندگی کا خاتمہ کر لیا، پوری قوم کے لیے ایک دردناک پیغام ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہ کئی ماہ سے گھر کا کرایہ ادا نہیں کر سکا تھا، مزدوری بھی نہیں مل رہی تھی، بجلی کے بھاری بل اور بچوں کے اخراجات اس کی برداشت سے باہر ہو چکے تھے۔ اگرچہ خودکشی کسی بھی مذہب اور قانون میں جائز نہیں، لیکن ایسے سانحات معاشرے میں بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کی شدت ضرور ظاہر کرتے ہیں۔


یہ صورتحال حکمرانوں کے لیے ایک سنجیدہ لمحۂ فکریہ ہے۔ جب ایک ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی ضروریاتِ زندگی، روزگار اور معاشی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہونے لگے تو اس کے اثرات صرف معیشت تک محدود نہیں رہتے بلکہ امن و امان بھی متاثر ہوتا ہے۔ غربت اور بے روزگاری جرائم، چوری، ڈکیتی اور سماجی بے چینی میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ پٹرولیم مصنوعات، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں حقیقی ریلیف دے، مہنگائی پر مؤثر قابو پائے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے اور مستحق خاندانوں کے لیے مضبوط سماجی تحفظ کا نظام قائم کرے۔ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان اسی وقت ممکن ہے

جب عام آدمی کو باعزت روزگار، سستی اشیائے ضروریہ اور امید کے ساتھ جینے کا حق ملے۔ یہی وقت ہے کہ حکومت عوام کی آواز سنے، ورنہ معاشی مشکلات کے ساتھ سماجی مسائل بھی مزید سنگین ہوتے جائیں گے۔ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور بجلی و گیس کے مسلسل بڑھتے بلوں نے غریب اور سفید پوش طبقے کی زندگی انتہائی مشکل بنا دی ہے۔ روزگار کے مواقع کم ہوتے جا رہے ہیں جبکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں۔ ایسے حالات میں ہزاروں خاندان دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم اور علاج جیسے بنیادی اخراجات پورے کرنے سے بھی قاصر ہیں۔


حال ہی میں حاصل پور میں پیش آنے والا المناک واقعہ، جہاں شدید معاشی تنگی سے تنگ آ کر ایک مزدور نے اپنے اہلِ خانہ سمیت زندگی کا خاتمہ کر لیا، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معاشی دباؤ کس حد تک بڑھ چکا ہے۔ اگرچہ خودکشی کسی صورت قابلِ قبول نہیں، لیکن ایسے واقعات معاشرے میں پھیلتی ہوئی مایوسی اور بے بسی کی عکاسی ضرور کرتے ہیں۔


حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ مہنگائی پر قابو پانے، روزگار کے مواقع بڑھانے، بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حقیقی ریلیف دینے اور مستحق خاندانوں کے لیے مؤثر سماجی تحفظ فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ عوام کو صرف اعلانات نہیں بلکہ ایسا ریلیف چاہیے جو ان کی روزمرہ زندگی میں واضح بہتری لا سکے۔