
تنقید و تنقیص دنیا کا آسان ترین کام یے ۔ہمارے سیاسی رہنماء شب روز اس آسان کام کو سرانجام دیتے نظرآتے ہیں ہر دور کی اپوزیشن عوامی مسائل کے حوالے تنقید کے بجائے ذاتی مفادات کے حصول پر سیخ پارہی ۔ یر دور کی حزب مخالف ایوان میں ہر خامی اورہر برائی کا ذمہ دار حکومت وقت کو قرار دیتی چلی آرہی ہے ۔اور اس تماشے کی انتہا اس وقت دیکھنے سے تعلق رکھتی یے جب اسمبلی ۔سوشل میڈیا اور اخبارات میں رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشی اس دعویٰ کے ساتھ کی جاتی ہے کہ جیسے ان کے پاس اپنے حریف کے خلاف ناقابل تردید ثبوت موجود ہوں ۔دوسری جانب جب اسی شدت ساتھ جوابی الزامات سامنے آتے ہیں تو یک لخت دونوں طرف سکوت مرگ طاری ہوجاتا یے دونوں طرف کے لگائے الزامات کی سچائی پرکھنے کے لیے نہ قانون حرکت مین آتا ہے اور نہ بقائے باہمی کے مذموم سمجھوتوں پر کسی جانب سے بھی انصاف کے دروازے پر دستک دی جاتی ہے ۔
سب باری باری لیلائے اقتدار کےقرب سے عیش کرتے ہیں رہے عوام تو وہ چیختے چلاتے مرتے کھپتے رہتے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا ملک میں قحط الرجال نہیں سیاست سے باہر ایک سے بڑھ کر ایک جوہر قابل موجود ہے عالٰی دماغ پروفیشنل حبِ وطن کے نت نئے بیج بونے والے موجود ہیں جو اپنی عزت وناموس کی خاطر سیاست کو اپنے لیے شجر ممنوع سمجھتے ہیں ۔کیونکہ اس نظام سیاست میں کوئی نیک نام انسان فٹ نہیں ہو سکتا یہاں اسی نوع کے لوگ کارآمد ہیں جو اس وقت ملکی سیاست پر براجمان ہیں سیاست کو عبادت کا درجہ دینے کا تصور ہمارے یہاں سرے سے مفقود ہے قائد کی رحلت کے بعد سے آج تک سیاست کے نام پر تماشے جاری ہیں ہمارے بدقسمتی یےکہ۔پاکستان خلائی ڈور میں بہت پیچھے ہے ورنہ سیاست کی ان خون آشام جونکوں سے جان چھڑوانے کا آسان سا حل یہ تھا کہ ان سب کو ایک خلائی جہاز میں بھر کر آسمان کی بیکراں وسعتوں میں کسی بے نام منزل کی طرف روانہ کردیا جاتا
کیونکہ روئے زمین پر تو دساور میں کوئی بھی اس مال کو نہیں پوچھے گا پاکستانی سیاست دان و حکمران عوام کے مسائل سے مکمل طور لاتعلق ہوکر صرف اپنے مفادات کی لڑائی لڑ رہے ہیں سیاست دانوں کی اس مفاداتی کشمکش کا فائدہ اُٹھا کرسرکاری محکمے مادر پدر آزاد ہوکر اپنے فرائض سے غافل ہیں ۔دور کوئی بھی ہو حکمران کوئی بھی ہو ۔تختہ ستم عوام ہی بنتے ہیں ۔مہنگائی کے ایشو کو ہی لے لیں تو پرائس کنڑول اتھارٹی کہیں دیکھائی نہیں دیتی ۔مارکیٹ کمیٹی گوجرخان کی انتظامیہ لسٹ کی فراہمی کو کاروبار کے طور استعمال کررہی ہے پوری تحصیل میں لسٹوں کی بروقت فراہمی کا میکنزم بنانے کے بجائے محکمہ اس لسٹ کو پیدا گیری کے لیے استعمال کررہا ہے ۔محکمے کا صرف ایک ملازم گوجر خان شہر میں لسٹ فراہمی کے بعد بیول جبر ۔اور دیگر علاقوں میں اس وقت لسٹ پہنچاتا ہے جب لوگ خریداری کرکے گھروں کو جاچکے ہوتے ہیں کیا یہ بہتر طریقہ نہیں کہ محکمہ دوکان داروں کے واٹس ایپ نمبرز پر لسٹ سینڈ کرتے ہوئے انہیں اس کو کاپی کروانے کی احکامات جاری کرئے
اس سے لسٹ بروقت ہر جگہ آویزں ہوسکتی ہے لیکن ایسا اس لیے نہیں کیا جائے گا کہ لسٹ دینے میں ہر دوکاندار سے بیس روہے یا اس سے زائد رقم وصول کی جاتی ہے ۔اور پوری تحصیل کو کلکولیٹ کریں تو ہزاروں دوکانیں موجود ہوں گی جس سے روزانہ کی بنیاد تگڑی دیہاڑی بنائی جاتی ہے ۔لسٹ کی غیر موجودگی کے باعث بیول شہر میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں یکسانیت نہیں عید سے ایک روز قبل مجھے آلو پیاز ٹماٹر ۔اور چکن لینے کا اتفاق ہوا ۔تو نظر آیا کہ ہر دوکاندار کے اپنے اپنے ریٹ ہیں ۔کہیں پیاز ساڑھے تین سو روپے فی پانچ کلو فروخت کیے جارہے تھے
تو کہیں تین سو ۔اسی طرح ٹماٹر کہیں ڈیڑھ سو روپے میں ڈھائی کلو بیچے جارہے تھے تو کہیں سوروپیہ کلو ۔مرغی کہیں 520 ۔کہیں 550 اور کہیں اس سے بھی زائد ۔اگر محکموں میں بیٹھے افسران اور اہلکلار اپنی تنخواہوں کو حلال کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری کو ایمانداری سے نبھائیں تو عوام کو مصنوعی مہنگائی سے قدرے بچایا. جاسکتا ہے اور ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہمارے حکمران اور سیاست دان اپنے مفادات کی جنگ سے باہر نکل کر عوام کے مسائل پر سوچیں گے ۔جس کی امید کرنا دن میں خواب دیکھنے کے مترادف ہے