ازقلم۔۔۔ امجد علی
موجودہ عالمی صورت حال میں سفارتی کوششیں تیز ہیں، اور ایران سے کسی نہ کسی نوعیت کے کمپرومائز اور سمجھوتے کی توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں تاکہ جنگ بندی کی کوئی صورت نکل سکے۔ اس ضمن میں پاکستان، ترکیہ اور چند دیگر اسلامی ممالک کا کردار نمایاں ہے، جو پس پردہ کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوششوں میں مصروف ہیں۔
یہ مذاکرات کیونکر ممکن ہوئے ہیں۔ امریکہ دو دن میں ایران کو obliterate کرنے والا تھا۔ وہ جنگ جیت چکا تھا پھر ڈائیلاگ کس لیے۔ دراصل پوری ملڑی مائٹ کے ساتھ ایران پر حملہ آور ہونے اور ٹاپ قیادت کے ساتھ ساتھ پورے ملکی ڈھانچے کو بہت شدید نقصانات کے باوجود ایران بلا تعطل جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ امریکہ کا ایف 35 ، ایف سولہ طیارے گرائے گئے، ابرہام لنکن ٹارگٹ ہوا واپس بھاگا، جیرالڈ فورڈ جس تیزی سے آیا اسی رفتار سے واپس ہوا ، ریڈار سسٹم تباہی ہوئے، تھاڈ بیٹریاں خاکستر ہوگئیں تب کہیں ٹیبل ٹاک کے نام پر ایران کی نادیدہ قوت کو سمجھنے کے لیے مختصر جنگی وقفہ کیا گیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں پھسی امریکن ناک اور اس پر سپر پاور کا خاک میں ملتا تنتنا اس سب کو مذاکرات کے نام پر آئرن ڈوم شیلڈ مہیا کی گئی ہے۔ مگر طاقتوروں کے کام اور، اور نعرے کچھ اور ہوتے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ اس سارے معاملے میں اسرائیل کا نام بلکل غائب ہے جو بذات خود کسی خفیہ بیک اپ مشن کی طرف انگشت زنی ہے اس حوصلہ افزاء صورت حال میں ایک نظر امریکہ کی دائیں دیکھا کر بائیں مارنے کی روائتی ستم ظریفی سب پر بھی رہے۔
پاکستان کی جانب سے جاری مثبت سفارتی اور مذاکراتی کوششوں کے ممکنہ نتائج پر غور کرنے سے پہلے، ستائیس فروری کو ہونے والے امریکی-ایرانی مذاکرات کو یاد رکھنا ضروری ہے جہاں مثبت پیش رفت کی خبریں سامنے آئیں، لیکن اس کے محض ایک دن بعد اٹھائیس فروری کو ایران پر حملہ کر دیا گیا۔ یہ واقعہ ایک تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے، طاقتوروں کے بیانیے کو ان کے اپنے الفاظ میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ اصل کہانی اکثر میڈیا کی نظروں سے اوجھل، بند کمروں میں لکھی جاتی ہے۔ لہٰذا اسے سفارتی عمل یا سمجھوتہ کہنا شاید حقیقت کا ادھورا بیان ہوگا۔ یہ دراصل ایک طاقتور کا “پاور شو” ہے یہ وہی پرانا طریقہ واردات ہے، اصولوں کو روند دو، وسائل پر قبضہ کرلو، اور طاقت کو قانون بنا دو۔ بات چیت کے نام پر وقفہ کر کے دوبارہ بھرپور گھات لگا کر وار کر دو۔ کیا یہ اس وقت آبنائے ہرمز میں گھات لگا کر بھرپور وار کے لیے وقفہ ہے بحرحال وقفہ میں شازشی تھیوریاں اور جنگی حکمت عملی میں درپیش مسائل پر تحقیق اور ازسرنو ٹارگٹس اور نئےحملوں کی ترتیب طے کرنا تلخ حقائق ہیں۔ مذاکرات میں شامل دونوں اطراف سے سامنے رکھی گئی شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے سر دست مثبت نتائج بظاہر مشکل نظر آ رہے ہیں مگر جنگ
میں وقفہ ضرور ملے گا۔
عالمی طاقتیں دو منٹ میں فیصلے نہیں کرتیں اگر بغور جائزہ لیں تو یہ طویل المیعاد پالیسیوں پر گامزن ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے مقاصد اور پورے عالمی ڈھانچے کو سامنے رکھ کر حکمت عملی بنانا ہوتی ہے۔ موجودہ جنگ بھی طے شدہ، دھائیوں پر پھیلی مسلسل جنگی، حکمت عملی کے باعث ہے کیونکہ 1998 میں بھی وائٹ ہاؤس کی طرف سے پر یہ کہا جا چکا تھا کہ خارگ کو چھین لیا جائے گا۔ آج اگرچہ تنازع ابھی تک آبنائے ہرمز کے گرد گھوم رہا ہے، مگر اس کے سائے جلد خارگ تک پھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ایک پرانی پالیسی کو اب عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔
ایران پر عائد پابندیاں اور گزشتہ چار دہائیوں کا عرصہ کسی غلطی کی سزا نہیں، بلکہ ایک طویل المدتی “سلو پوائزننگ” کے ذریعے ایران کو ہڑپنے کی حکمت عملی کا شاخسانہ ہے ایک ایسی گہری منصوبہ بندی، جس کے تحت وسائل پر قبضے اور معاشی کمزوری کو یقینی بنایا جاتا رہا ہے، اور جس کا خمیازہ بے قصور ایرانی قوم مسلسل بھگت رہی ہے۔ آخر کار اس کو مٹانے کی فیصلے ٹرمپ کی تقریروں کا پارٹ بن گئے۔
سپر پاور ہونے کا مطلب ہونا چاہیے کہ وہ وسائل، حکمت اور طاقت کو ذمہ داری کے ساتھ بروئے کار لائے۔ مگر جو منظر آج دنیا دیکھ رہی ہے، وہ کسی مہذب قوت کا نہیں بلکہ ایک بے قابو درندے کا ہے، جو جنگل کے قانون پر یقین رکھتا ہے۔ یہاں نظم و نسق نہیں، بلکہ چیر پھاڑ اور خوف کی حکمرانی نظر آتی ہے۔ ستائیس فروری کے مذاکرات کے پس منظر میں اگر فوجی نقل و حرکت جاری تھی، تو پھر اٹھائیس کا حملہ کسی کھلی جارحیت سے بڑھ کر “پیٹھ میں چھرا” معلوم ہوتا ہے۔ اور حالات بتا رہے ہیں کہ آگے بھی کچھ زیادہ مختلف ہونے کی توقع نہیں ہے۔ بے بنیاد خبروں کا ایک بازار گرم ہے تبصرے ہی تبصرے ہیں مگر اکثر حقیقت سے بہت دور ہیں حقیقی تجزیہ وہی ہوتا ہے جو زمینی حقائق اور جنگ کے میدانی قرائن سے جڑا ہو، نہ کہ صرف بیانات، مفروضوں اور دعووں پر مبنی ہو۔ جبکہ اسرائیل اور امریکہ کی طرف میڈیا پر مکمل کنڑولڈ خبریں چلائی جاتی ہیں۔
اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا جنگ بندی ہونی چاہیے؟
یقیناً تمام فریقین دل کی گہرائی سے یہی چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ جتنا جلد ممکن ہو ختم ہو جائے۔ لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی فریق فوری طور پر اس آپشن کی طرف نہیں بڑھ سکے گا، کیونکہ جنگ کا اچانک خاتمہ صرف عسکری نہیں بلکہ قومی سطح پر ایک گہرے نفسیاتی دباو اور “فیس لاس” کا سبب بن سکتا ہے۔ تاہم دوسری طرف یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے نقصانات کہیں زیادہ مہلک، وسیع اور ناقابل تلافی ہو سکتے ہیں۔ طویل جنگیں نہ صرف معیشت کو کھوکھلا کر دیتی ہیں بلکہ معاشرتی ڈھانچے اور قومی حوصلے کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔
ایسے میں اصل دانشمندی یہی ہے کہ جلد از جلد ایک قابل قبول “فیس سیونگ” کے ساتھ جنگ بندی کی راہ نکالی جائے۔ جو نقصان ہو چکا، اسے برداشت کرنا ہی پڑے گا، لیکن دانش کا تقاضا یہ ہے کہ آنے والے بڑے نقصان کو روکا جائے۔
کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ کئی جنگیں سالہا سال جاری رہنے کے باوجود کسی واضح فتح کے بغیر ہی ختم ہوئیں مگر تب تک نقصان اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ کامیابی اور ناکامی میں فرق مٹ جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، پروفیسر زیانگ کے بقول جنگ کو فوری روکنا نقصان دہ ہے، مگر اسے جاری رکھنا اس سے بھی کہیں زیادہ تباہ کن ہو گا۔
جیت ہار کو تھوڑی دیر سائیڈ پر رکھ کر دیکھیں جنگیں صرف سرحدیں نہیں بدلتی، یہ انسانی جانوں کو لہولہان کرتی ہیں، بستیوں کو ویران اور معاشروں کو مفلوج کر دیتی ہیں۔ مگر اسی دوران طاقتور فاتح، کنگ کانگ کی طرح سینہ پیٹتے ہوئے اپنی فتح کا جشن مناتے ہیں گویا جنگ ان کے اندر چھپے حیوان کو آزادی دیتی ہے۔
باقی دنیا؟ وہ اکثر بھیڑ بکریوں کی مانند خاموش تماشائی بنی رہتی ہے دیکھتی ہے، سمجھتی ہے، مگر بولتی نہیں۔
اس سے زیادہ افسوسناک پہلو اور کیا ہوگا کہ عالمی ادارے بھی اب غلط کو غلط کہنے کی جرات کھو چکے ہیں۔ جنگ بندی کی کوششیں اقوام متحدہ کی جانب سے مضبوط اقدام کے طور پر سامنے آنی چاہئیے تھیں۔ مگر افسوس ایسا ممکن نہ ہو سکا۔
حقیقت یہ ہے کہ جنگیں انسان کے اندر چھپے بھیڑیے کو بے نقاب کر دیتی ہیں۔ جنگلی اور معاشرتی درندے ایک جیسے ہی ہوتی ہیں بس ایک تھوڑا سا فرق یہ ہوتا ہے کہ جانور میں ایک صفت اور انسانی درندے میں ہر جانور کی صفت مجتمع ہوتی ہیں۔ وہ اجتماع یا قوم سے خطاب کرتا ہے تو ہرن سا سادہ لوح جب معاملات کرتا ہے تو لومڑ جب کسی کو ہڑپنا ہوتا ہے تو بھیڑیا بن جاتا ہے یہی لیڈر کے لباس میں وحشی درندہ سب روپ دھار لیتا ہے۔ انسانی درندے کوئی ملٹی ورس قسم کی چیز ہوتے ہیں۔ جب یہ بھیڑیے آبادیوں میں اترتے ہیں، تو نتیجہ صرف چیر پھاڑ، خوف، دہشت اور چیخ و پکار ہوتا ہے۔ میدان جنگ میں انسان نہیں لڑتے یہ دراصل طاقتور حیوانوں کا کھیل ہوتا ہے، جہاں انسانیت صرف ایک خاموش بے حس لاش بن کر رہ جاتی ہے۔
امجد علی