تفصیلات کے مطابق مورخہ 02.03.2026 کو مسمی نور محمد سکنہ دیہہ ہجڑی تحصیل پنڈیگھیب ضلع اٹک نے تھانہ پنڈیگھیب پولیس کو بیان دیا کہ امروز مسجد میں نمازِ عصر کی ادائیگی کے دوران مسمی مصباح ولد بہادر خان سکنہ دیہہ ہجڑی نے اس کے ذہنی معذور بھتیجے حمزہ شیر کو صف سے پیچھے کر دیا، اس موقع پر موجود عبدالقیوم نے مصباح سے اس عمل کی وجہ پوچھی جس پر وقتی طور پر معاملہ ختم ہو گیا، جب میرا چھوٹا بیٹا محمد مہران نور وہاں پہنچا تو اسے ساری بات بتائی گئی، جس پر مسجد کے باہر محمد مہران نور اور مصباح کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور مصباح وہاں سے چلا گیا،قبل ازیں بھی دونوں فریقین کے درمیان رنجش موجود تھی کیونکہ ملزم مصباح کے چچا زاد مسمی صداقت نے مدعی کی بھتیجی کو تقریباً ڈیڑھ سال قبل بھگا کر شادی کر لی تھی ، بعد ازاں مدعی اپنے ساتھیوں ارسلان اختر، عبدالقیوم اور اپنے بیٹے محمد مہران نور کے ہمراہ پیدل دکان کی جانب جا رہا تھا جبکہ محمد مہران نور ان سے کچھ آگے چل رہا تھا اسی دوران اچانک سامنے سے مسمی مصباح ولد بہادر خان مسلح پسٹل جبکہ اس کا ساتھی مسمی وسیم ولد عظیم موٹر سائیکل پر آ گئے،ملزمان نے آتے ہی محمد مہران نور پر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو کر زمین پر گر گیا۔ شور و واویلا پر ملزمان اسلحہ لہراتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے، زخمی محمد مہران نور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جانبحق ہو گیا۔واقعہ کا مقدمہ درج کر کے تھانہ پنڈیگھیب پولیس نے تفتیش کا آغاز کیا، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اٹک سردار موارہن خان نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے خصوصی ٹیم تشکیل دی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا ٹاسک سونپا۔ پولیس ٹیم نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قلیل وقت میں دونوں ملزمان مصباح ولد بہادر خان اور وسیم ولد عظیم سکنائے ہجڑی تحصیل پنڈیگھیب کو ٹریس کر کے گرفتار کر لیا، جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔