تحریر:خالد محمود مرزا
ربیع الاول کا مہینہ شروع ہوتے ہماری گلیوں، بازاروں اور گھروں کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے‘ ہر طرف درود سلام کی محافل، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروگرامات شروع ہو جاتے ہیں، ہر کلمہ پڑھنے والا اپنے اپنے انداز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت و محبت کا اظہار کرتا ہے‘ مساجد کے اندر سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلسے منعقد ہوتے ہیں، مارکیٹوں اور گھروں پر چراغاں کیا جاتا ہے، کمزور سے کمزور مسلمان بھی اپنی بساط کے مطابق آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت کا اظہار کرتا ہے، کیوں نہ کرے یہ ہمارے ایمان کا حصہ ہے کہ ہم دل کھول کر اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کریں، ہم سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محافل کا انعقاد کریں، نعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروگرامات منعقد کروائیں، ہم اپنے قلوب و اذہان کو منور کریں، اس حوالے سے میں کچھ گذارشات اس تحریر کے ذریعے آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، ربیع الاول کے مہینے میں خوب سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروگرامات منعقد کریں اپنی ارد گرد کی بستیوں تک بلکہ ہر مسلمان تک آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پہنچائیں تاکہ ہمارے قلوب و اذہان بھی منور ہو سکیں اور ہماری اجتماعی زندگیوں میں تبدیل اسکے اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عشق اور تقاضے بھی سمجھ سکیں، خود اللہ تعالیٰ نے قرآن عظیم الشان سورہ ال عمران کی آیت 31 میں فرمایا کہ میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو بتا دیں اگر تم اللہ کے محبوب بندے بننا چاہتے ہو تو میرے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل پیروی کرو تم میرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرو گے تو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے (اے نبی ﷺ!) کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا رحم فرمانے والا ہے آیت نمبر 31 سورہ ال عمران
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مکمل پیروی کریں کیسے تو اس کے لیے عرض یہ ہے کہ ہم پانی بھی پینا چاہتے ہیں تو اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل پیروی کرسکتے ہیں اگر گلاس دائیں ہاتھ میں لیکر ، بیٹھ کر دعا پڑھ کر تین سانس میں پیئں اور ختم کرکے الحمدللہ کہ دیں یہ آقا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی ہے، اس طرح کھانا کھانے کی سنت، گھر میں داخل ہونے کی سنت، بیت الخلاءمیں داخل ہونے کی سنت، اور دوکانیں کھول کر مال فروخت کرتے وقت کی سنت، وزیراعظم کی کرسی سے لیکر جج کی کرسی تک، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل پیروی کرنا ہوگی، ہم دفتروں میں بیٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو کیوں پیچھے چھوڑ دیتے ہیں، یہ کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ سے لیکر دفتروں میں بڑی بڑی رشوتیں کہاں سے آگئی ہیں آج غریب کیوں سسک رہا ہے, ہم نے ربیع الاول میں عہد کرنا ہے کہ ہم اگلے گیارہ مہینے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل پیروی کریں گے، ہمارا ہر دن 12 ربیع الاول ہے
دوسری آیت میں فرمایا
کہہ دو اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو، پھر اگر وہ منہ موڑیں تو اللہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا۔سورہ ال عمران آیت 32
اس آیت کے اندر سخت تنبیہ کی گئی ہے اللہ تعالیٰ ہمیں مکمل طور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے ساتھ اطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آگے ان تین احادیث کے اندر بڑے واضح انداز میں ایک مسلمان کی تربیت کی گی ہے کہ وہ سمجھ لے اس کی نجات آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مکمل پیروی میں ہے حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہوجائے۔صحیح بخاری کتاب الایمان حدیث
اس حدیث میں بتا دیا گیا ہے ساری محبتیں اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے مقابلے میں قربان کرنی ہوں گی اولاد کا مستقبل بناتے بناتے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو پیچھے نہ کریں پھر بات بنے گی
اگلی حدیث میں فرمایا :حضرت عبداللہ بن عمر راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی آدمی اس وقت تک پورا مومن نہیں ہوتا جب تک کہ اس کی خواہشات اس چیز (دین و شریعت) کے تابع نہیں ہوجاتیں جو میں (اللہ کی جانب سے) لے کر آیا ہوں۔مشکوٰة المصابیح – حدیث نمبر 164
اس حدیث میں فرمایا :اپنی خواہشات کو مکمل طور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے سامنے چھوڑ دینی ہوں گی تیسری حدیث میں ہماری اس طرح راہنمائی فرمائی اگر ہم اس ایک حدیث پر عمل کریں چھوٹے چھوٹے مسائل سے لیکر ملکی تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں
حضرت عبدالرحمن بن قُرادؓ سے روایت ہے کہ: ایک دن رسول اللہﷺ نے وضو کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم آپ کے وضو کا پانی لے لے کر چہرے اور بدن پر ملنے لگے۔ نبی نے ان سے پوچھا: ”ایساکرنے پر تمھیں کس چیز نے آمادہ کیا؟“ صحابہؓ نے عرض کیا کہ: اللہ اور اس کے رسول کی محبت نے۔ اس پر نبی نے فرمایا: ”جس کو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کی تمنا ہو، یا یہ چاہتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کریں، اسے چاہیے کہ جب بات بیان کرے تو سچی گفتگو کرے۔ اگر اس کے پاس کوئی امانت رکھوائے تو اس کی پاسداری کرے۔ اورجو اس کا پڑوسی ہو، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے“
مشکوٰة، 4771
آج اس حدیث کے مطابق مسلمان عمل کرنا شروع کریں تو سارے فسادات ختم ہو جائیں گے یہ جھوٹ، امانت میں خیانت اور اپنے ہمسائے کے حقوق پر ڈاکے اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے دعوے یہ ٹھیک نہیں، ہمیں اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا اظہار کرنا ہوگا لیکن یہ بات نوٹ کرلیں محبت اور عقیدت اور عشق کے ساتھ ساتھ ہمیں مکمل طور اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنا ہوگی ہمیں سچ بولنا ہوگا، یہ امانت میں خیانت کو بند کرنا ہوگا اور اپنی پڑوسیوں کے حقوق ادا کرنا ہوں گے ان شاءاللہ ہماری دنیا کی زندگی بھی جنت بن جائے گی اور قیامت کے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت نصیب ہوگی جنت میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھوں حوض کوثر نصیب ہو گا جنت میں آقا کا ساتھ نصیب ہوگا ان شائاللہ شرط یہ ہے کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت اور عقیدت اور عشق کے ساتھ ساتھ مکمل اطاعت بھی کریں گے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دامن کے ساتھ مکمل طور وابستہ
کردے آمین