اکرام الحق قریشی‘ نمائندہ پنڈی پوسٹ
پی ٹی آئی کے اقتدار کے فوری بعد اشیاء روز مرہ کے نرخوں میں اضافے تجاوزات کے خلاف آپریشن اور ضمنی انتخابات نے حکمران جماعت کی مقبولیت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ عمران خان کے وزیر اعظم منتخب ہوتے ہی اشیائے روزمرہ کے نرخوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا رہی سہی کسر منی بجٹ نے پور ی کر دی حکومت در پیش تمام مسائل کی ذمہ دار سابق حکمران جماعت کو قرار دے کر گلو خلاصی کرنا چاہتی ہے۔ انتخابات کے بعد ملک کے اندر پیدا ہونے والی مصنوعات روزمرہ اشیاء سمیت ہر ایک کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ بجلی کے بل بھی اُڑن طشتری بنے ہوئے ہیں ملکی تاریخ میں
سوئی گیس کے نرخوں میں 143فیصد اضافہ ریکارڈ کا حامل ہے۔بجلی سمیت آٹا ‘چینی‘دالیں مصالحہ جات چاول سگریٹ مشروبات سمیت تمام اشیاء کے نرخ خدا جانے وہ کن لوگوں کو عام افراد سمجھتی ہے۔ میٹرو کرایوں سے بھی سبسڈی کم کی ہے اب انہیں پہلے سے دو تین گنا زائد کرایہ ادا کرنا پڑے گا۔ بجلی کے بل وصول کر کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ جاتے ہیں۔ یہی حال سوئی گیس کے بلوں کا ہے۔ سودا سلف لینے اشیاء کے نرخوں میں اضافے لگا نے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ گزشتہ ماہ سگریٹ کی ڈبیہ میں دس روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب آمدہ ایام میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے۔ پڑولیم مصنوعات اور بجلی کا نرخوں میں مجوزہ اعلان پر عملدرآمد کی صورت ملک بھر میں مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ نکلے گا۔ صورتحال زیادہ دلکش ہر گز دکھائی نہیں دیتی۔ عمران خان کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا وہ ملک کا نظام بدلنے کا داعی ہیں۔ مگر ان کی ٹیم کی اہلیت اور ماضی پر سوالیہ نشانات ضرور ہیں۔موجودہ حکومت کی اقاط پر مبنی کا بینہ پر بھی نظر ڈالیں اسی فیصد کابینہ جنرل پرویز مشرف کی با قیات ہے خسرو بختیار جیسے گیڈر سنگھی رکھنے والے خوش نصیب بھی شامل ہیں یہ پیپلز پارٹی کے ایام اقتدار میں وفاقی وزیر تھے۔ اور اقتدار کا مقررہ وقت پورا ہونے تک وزیر رہے۔ اقتدار ختم ہوا تو پیپلز پارٹی سے الگ ہو گئے۔ ن لیگ کی حکومت بنی تو یہ اس کابینہ میں بھی شامل تھے۔ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی دونوں کی کابینہ میں بھی شامل رہے۔ ن لیگ کا اقتدار ختم ہوا تو یہ بھی ن لیگ کو داغ مفارقت دے گئے۔ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ کر آج بھی کا بینہ کا حصہ ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین جنرل پرویز مشرف کے ساتھی تھے۔ ق لیگ کی ترجمانی کرتے نظر آتے تھے۔اقتدار کا سورج غروب ہوا ۔ پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو یہ پیپلز پارٹی کے ترجمان تھے آج پی ٹی آئی کے کرتا دھرتا ہیں وفاقی وزیر ہو تے ہوئے بھی اپوزیشن راہنما کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں۔ وفاقی اور پنجاب کے وزرائے اطلاعات کا رویہ حزب اختلاف جیسا لگتا ہے۔ یہ پھیلتی اگ پر قابو پانے کی بجائے اس پر پڑول چھڑکنے کا پورا بندوبست کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
موجودہ حکومت کے برسراقتدار ہونے کے فوری بعد ہنی مون پیریڈ کے دوران اس سے ضمنی انتخابات کا سامنا کرنا پڑا ۔ اٹک پی ٹی آئی جیتی ہوئی قومی و صوبائی اسمبلی کی نششتیں ن لیگ کے مقابلے میں گھنوا بیٹھی ۔ خود عمران خان کی لاہور کی نششت پر خواجہ سعد رفیق نے کامیابی کے جھنڈے لگا لیے۔ لاہور کے وہ چاروں حلقے جنہیں کھولنے کے لیے عمران خان 2013کے انتخابات کے فوری بعد کھولنے کے نام پر احتجاجی سیاست کا آغاز کیا تھا۔ وہ چاروں حلقے 2018ء کے انتخابات کے بعد بھی ن لیگ کے پاس ہیں۔ پی ٹی آئی پنجاب ہی نہیں کے پی کے میں بھی نشتیں کھو بیٹھی یہ صورتحال طویل تجزئیے کا تقا ضا کرتی ہے ۔ کیونکہ ضمنی انتخابات پر عموما حکمران جماعت فاتح رہا کرتی تھی۔ مگر اس بار ایسا نہ ہو سکا۔مگر ان انتخابات میں ہر بات بھی تسلیم کرنا ہو گی کہ حکمران جماعت نے کوئی مداخلت نہ کی ۔ لوگوں کاضمیر خریدنے کے لیے بجلی کے کھمبے اور سوئی گیس کے پائپ تقسیم ہوئے نہ ہی گلیات کی تعمیر کا تماشہ لگایا گیا۔ بعد ضمنی انتخابات حکومتی مداخلت سے پاک تھے۔ اس کے باوجود ملک کے طول و عرض میں بے چینی محسوس کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ مستحقین اپنی رعایا کو سب فری دیتی ہیں۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں حکمرانوں کے سامنے خالی خزانہ مسئلہ نہیں بلکہ اہلیت اور منصوبہ بندی کی کمی ہے۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن درست سمت میں اقدام ہے۔ مگر عمران خان نے تو قوم سے انہیں گھر اور روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ابھی اس وعدے کی سیاہی ہی خشک نہ ہوئی تھی کہ تجاوزات کے نام پر لوگوں کو گھروں دکانوں اور کاروبار سے محروم کیا جا رہا ہے۔ عدالت عظمی نے قرار دیا ہے۔ بنی گالہ کی تعمیرات غلط ہیں عدالت نے عمران خان کو اپنا گھر جرمانہ ادا کر کے ریگولرائز کرانے کا حکم دے رکھا ہے۔ اگرعمران خان کو جرمانے کی ادائیگی پر معافی مل سکتی ہے۔ تو ان لوگوں کا کیا قصور ہے جو دو سے تین
مرلہ کے مکان میں کئی دہائیوں سے مقیم ہیں۔ تجاوزات کے مرتکب بڑے بڑے مشاء بم اقسام کے طبقے کو چھوڑ کر لائے تمام افراد کے ساتھ معاملہ یہ دیکھا جائے گا۔ کہ یہ لوگ کب یہاں آباد ہوئے دو تین مرلہ پر بنے گھروں کو مسمار کرنا لوگوں کو بے گھر کرنے کے مترادف تصور کیا جائے گا۔ حکومت سرکاری آراضی پر قائم جولوگ مالی استطاعت رکھتے ہیں ان سے نقد وصول کر لیا جائے گا۔ اور نادار افراد سے احتیاط کر لی جائیں۔ غریبوں سے سائبان چھین لینا مناسب نہیں ہوگا حکومت غریبوں سے ہمدردی کا رویہ اختیار کرئے دعائیں لے ہو سکتا ہے یہ دعائیں اس در پیش صورتحال سے نجات کا ذریعہ بن جائیں۔
Discover more from pindipost.pk
Subscribe to get the latest posts sent to your email.