
دنیا میں اختلاف ہر جگہ پایا جاتا ہے انفرادی سطح پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی قوموں کے درمیان بھی مذہب مسلک‘ رنگ ونسل تہذیب وثقافت کی بنیادوں پر اختلاف ہوتا چلا آرہا ہے اگر مزاج اور فطرت میں رواداری تحمل وسعت نظر اور حقائق کو تسلیم کرنےکا حوصلہ موجود ہو تو بات تنازعے کی صورت اختیار نہیں کرتی لیکن اگرتنگ نظری۔تعصب۔نفرت اور انا پرستی غالب آجائے تو معاشرے میں کبھی خواشگوار فضا قائم نہیں رہتی ‘پاکستان سمیت دنیا بھر میں مذہبی مسلکی۔سیاسی اختلافات موجود ہوتے ہیں جس پر بحث ومباحثہ ایک عام سی بات یے. لیکن پاکستان اختلافات کے معاملے میں بھی دنیا میں اعلی مقام رکھتا ہے کہ یہاں حکومتی گرانٹ سے تعمیر ہونے والے منصوبوں پر بھی کریڈیٹ لینے کے معاملے پر اختلافات ایک عام سی بات ہے جو دنیا بھر میں کسی اور ملک میں نظر نہیں آتی۔
بیول میں مٹی کے ایک بھربھرے ٹیلے پر لگے بجلی کے ایک خطرناک پول کی تنصیب پر سیاسی پیپلز پارٹی کے مقامی لوگوں کی کریڈیٹ لینے کی جنگ نے وہ ماحول بنا دیا کہ محکمے نے پول لگانے کے بجائے چپ سادھ لی جس کے باعث۔وہ خطرناک پول آج بھی اسی طرح اس اونچے ٹیلے پر موجود ہے۔کریڈیٹ کی ایک تازہ جنگ حبیب چوک تا چنگا میرا تک سڑک کی تعمیر پر لڑی جارہی ہے
جس طرح بجلی پول کے حوالے سیاسی جماعت مقامی رہنماو¿ں کے درمیان کریڈیٹ کی کھینچاتانی ہوئی اب اسی طرح اس سڑک کی تعمیر پر دوجماعتیں مسلم لیگ اورپیپلز پارٹی کریڈیٹ کے لیے مقابل ہیں۔اور انتہا یہ رہی کہ ایک جماعت کے لوگوں نے ایک مقامی شخص کی مشنری موقع پر کھڑی کرتے ہوئے افتتاع کا فوٹو سیشن بھی کرلیا۔سڑک کی تعمیر کا آغاز تو ہو چکا لیکن کریڈیٹ لینے کے شوقین. اپنی انا کی جنگ میں عوامی فلاح اس منصوبے کی تعمیر میں ناقص میڑیل کے استعمال سے غافل ہیں۔بتایا جاتا ہے پتھروں کے ساتھ سڑک پر ڈالا جانے والا خاکہ لوکل سطح پر خریدا جا رہا ہے
جس میں مٹی کی آمیزش زیادہ ہے جس کے استعمال سے سڑک کے جلد ٹوٹ پھوٹ کا خدشہ موجود ہے۔سڑک کا یہ منصوبہ حکومت پنجاب کا یے جو کہ مسلم لیگ کی حکومت ہے بظاہر اس منصوبے میں پیپلز پارٹی کا عمل دخل نظر نہیں آتا کہ اس حلقے سے پیپلز کا کوئی ایم پی اے اسمبلی میں موجود نہیں جو فنڈر جاری کرواسکے جبکہ مسلم لیگی اکابرین اپنی حکومت ہونے کے سبب اپنے اثر ورسوخ سے یہ فنڈز جاری کروانے کی پوزیشن میں ہیں۔سابق ایم این اے راجہ جاوید اخلاص کی اعلی ایوانوں تک مکمل رسائی ہے اور ان کی آواز بھی سنی جاتی ہے
یہ اور بات ہے کہ گوجرخان میں مسلم لیگی قیادت نے اپنی نااہلی۔مفاد پرستی اور گروہ بندی کے باعث گوجرخان کی سیاست میں مسلم لیگ کو درگور کر دیا ہے۔حکومتی جماعت ہونے کے ناطے مقامی اکابرین حلقے کے لیے بہت کچھ کرسکتے ہیں۔لیکن ان لوگوں کا خود کو عوام سے دور رکھنا۔سیاسی ایکٹویٹی سے گریزاں رہنا۔عوام سے رابطوں کے فقدان نے عوام کو اس جماعت سے متنفر کردیا ہے جس میں بڑھتی مہنگائی نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
مسلم لیگ یہاں عوام کی ہمیشہ چوائس رہی ہے لیکن 2013/ اور 2018 کے الیکشن میں اس جماعت کے رہنماوں نے جس طرح اپنے ذاتی مفادات اور اناپرستی کے لیے اپنی ہی جماعت کے خلاف سازشوں کاجال پھیلایا وہ اس جماعت کے ووٹ کو برا طرح متاثر کرگیا۔جس کے نتائج 2018 اور 2024 کے الیکشن میں اس جماعت کو بھگتنا پڑے۔یعنی خود اہنے دام میں صیاد آگیا۔سازش کرنے والے دو کردار مسلم لیگ کو تباہ کرکے اس وقت گوشہ نشیں ہیں۔وفاقی اور صوبائی حکومت ہوتے ہوئے بھی اس جماعت کے لوگ عوامی مسائل حل کروانے میں دلچسپی نہیں رکھتے جس کے باعث برادریاں مسلم لیگ چھوڑ کر دیگر جماعتوں میں شمولیت کرتی نظر آتی۔حکومت بنی کودوسال کا عرصہ گذر چکا لیکن حلقے میں کہیں کوئی قابل ذکر منصوبہ دیکھائی نہیں دے رہا گوجرخان میں الیکڑک بسوں کی سہولت یقیناً عوامی مفادات کا ایک بہترین منصوبہ ہے لیکن گوجرخان کی لیگی قیادت اس عوام خدمت کے اس منصوبے کا بھی پرچار نہ کرسکی۔
جبکہ یہاں تو تحریک انصاف تین سڑکیں بنا کر عوام کو یہ باور کروانے میں کامیاب رہی تھی کہ جو کام اس نے کردیا ہو کبھی پہلے نہیں ہوسکا۔مسلم لیگ کے رہنماوں کی طرح ان کا میڈیا سیل ناکام نظر آتا ہے اس کے مقابلے میں اگر پیپلز پارٹی کے مقامی عہدے داران وکارکناں کو دیکھیں تو راجہ پرویز اشرف سے براہ راست تعلق کو عوام کے چھوٹے چھوٹے مسائل حل کروانے کے لیے کامیابی سے استعمال کررہے ہیں اور صوبائی حکومت کے منصوبہ پرکریڈیٹ لینے کا ھنر بھی استعمال کررہے ہیں
اور اسے عوای سطح پر بیان بھی کررہے ہیں مسلم لیگ کے رہنما عوام کے مسائل تو کیا حل کروائیں گے وہ تو اپنے ووٹر سپورٹ کے مسائل پر بات سننے تک آمادہ نہیں سیاست میں عوام سے تعلق داری ایک ضروری امر ہوتا ہوتا ہے جس میں مسلم لیگ کے رہنما ناکام ہیں۔ مسلم لیگ کے مقامی کرداروں نے اپنی روش نہ بدلی تو جس طرح گوجرخان کی سیاست سے یہ جماعت پہلی پوزیشن سے تیسری پر گری آئندہ الیکشن میں شاید یہ پوزیشن بھی نہ رہے۔