خادمِ قرآن اور محسنِ گوجری زبان،حضرت مولانا فقیر محمد چیچیؒ

یادوں کے دریچے سے ایک عالم، مترجم اور زبان کے محسن کی داستان زندگی کی کتاب میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن سے ملاقات محض ایک ملاقات نہیں رہتی؛ وہ رفتہ رفتہ یادوں کا حصہ، پھر عقیدت کا عنوان اور آخرکار زندگی کے فکری سفر کا ایک روشن باب بن جاتی ہیں۔حضرت مولانا فقیر محمد چیچیؒ بھی میرے لیے ایسی ہی شخصیت تھے۔ان سے میرا تعارف 1988ء کے لگ بھگ ہوا۔ اس وقت عمر کا وہ حصہ تھا جب دنیا بہت چھوٹی، راستے بہت مختصر اور خوشیاں بہت سادہ ہوا کرتی تھیں۔ ہمارا گھر جبڑ، جنڈالی، چکار کے علاقے میں تھا۔ جبڑ پانی کی وجہ سے مشہور تھا۔ رمضان المبارک آتا تو ہم وہیں روزے رکھتے۔ میرے نانا جان مولانا منشی اکبرؒ جامع مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے اور بچوں کو قرآنِ حکیم پڑھاتے۔

مسجد، رمضان، قرآن، پہاڑ، چشمے، گاؤں کی گلیاں اور بچپن کی بے فکری—یہ سب آج بھی میری یادوں میں ایک تصویر کی طرح محفوظ ہیں۔اسی زمانے میں بٹ کی جامع مسجد میں بھی آنا جانا ہوتا تھا۔ ہم بچے بڑوں کے ساتھ مسجد پہنچتے، کبھی شرارتیں کرتے، کبھی ایک دوسرے کو چھیڑتے، کبھی پتھر مارتے اور کبھی کسی کی نقل اتارتے۔ ہمیں کیا خبر تھی کہ انہی دنوں جن بزرگوں کے نام ہمارے کانوں میں پڑ رہے ہیں، ان میں سے ایک نام آنے والے وقت میں ہماری علمی اور فکری زندگی کا ایک اہم حوالہ بن جائے گا۔

وہ نام تھا:
مولانا فقیر محمد چیچیؒ۔
ابتدا میں صرف نام سنا، پھر شخصیت سے تعارف ہوا، تعارف عقیدت میں بدلا اور عقیدت نے آہستہ آہستہ ایک طویل رفاقت کی صورت اختیار کرلی۔وقت گزرتا گیا۔ میں اسلام آباد جاتا تو ادارہ تحقیقاتِ اسلامی میں مولانا صاحب کی علمی مصروفیات اور تحقیقی کام دیکھنے کا موقع ملتا۔ پھر ان کے گھر حاضری ہونے لگی۔ گھنٹوں بیٹھ کر گفتگو ہوتی۔ کبھی قرآن پر بات، کبھی عربی زبان پر، کبھی گوجری ادب پر، کبھی کسی کتاب پر، کبھی کسی علمی مسئلے پر۔وہ گفتگو کرتے تو محسوس ہوتا کہ سامنے بیٹھا شخص صرف ایک عالم نہیں، بلکہ کتابوں کی ایک چلتی پھرتی دنیا ہے۔
ان کے سامنے سوال رکھا جاتا تو جواب صرف زبان سے نہیں، مطالعے سے نکلتا تھا۔

گوجری زبان سے محبت
مولانا فقیر محمد چیچیؒ کی شخصیت کا ایک نہایت روشن پہلو گوجری زبان سے ان کی محبت تھی۔گوجری محض ایک زبان نہیں؛ یہ پہاڑوں، وادیوں، چراگاہوں، گھروں، میلوں، شادی بیاہ کی محفلوں، لوک داستانوں، صوفیانہ روایتوں اور نسلوں کی اجتماعی یادداشت کا نام ہے۔اس زبان میں ماؤں کی لوریاں بھی ہیں، بزرگوں کی حکایتیں بھی، شادیوں کے گیت بھی، جدائی کے آنسو بھی، محبت کی داستانیں بھی اور صوفیاء کا درد بھی۔

مگر مولانا فقیر محمد چیچیؒ نے گوجری زبان کو صرف لوک روایت تک محدود نہیں رہنے دیا۔ انہوں نے اسے قرآن اور سیرت کے علمی اظہار کا وسیلہ بنانے کی کوشش کی۔یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی شخصیت ایک عام ادیب سے بلند ہوکر ایک لسانی محسن کی حیثیت اختیار کرتی ہے۔

ایک عظیم خواب: قرآن گوجری میں
دنیا کی کسی بھی زبان کے لیے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوسکتا ہے کہ اس میں قرآنِ کریم کے مفاہیم بیان کیے جائیں؟مولانا فقیر محمد چیچیؒ نے یہی خواب دیکھا۔اور خواب دیکھنے پر اکتفا نہیں کیا، اسے حقیقت میں ڈھالنے کے لیے اپنی زندگی کے تقریباً دس سال وقف کردیے۔1988ء سے 1998ء تک مسلسل محنت، مطالعہ، تحقیق اور غور و فکر کے بعد انہوں نے قرآنِ کریم کا گوجری ترجمہ مکمل کیا۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ مسودہ تقریباً 945 صفحات پر مشتمل تھا۔
یہ صرف صفحات کا ایک مجموعہ نہیں تھا۔

یہ ایک زبان کے دامن کو قرآن کے نور سے منور کرنے کی کوشش تھی۔یہ ایک ایسے شخص کی محنت تھی جس نے شاید یہ سوچا ہوگا کہ اگر میری قوم کا ایک فرد بھی قرآن کا مفہوم اپنی مادری زبان میں سمجھ لے تو میری محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔انہوں نے مختلف مستند اردو تراجم سے بھی استفادہ کیا، جن میں مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا احمد رضا خان بریلویؒ اور مولانا فتح محمد جالندھریؒ کے تراجم کا ذکر ملتا ہے۔

وہ مختلف اہلِ علم کا احترام کرتے تھے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ سمیت متعدد اہلِ علم کا ذکر بھی احترام سے کرتے تھے۔ ان کا علمی مزاج ایک ہی دائرے میں بند نہیں تھا؛ وہ کتاب پڑھتے، تحقیق کرتے اور دلیل کی روشنی میں بات سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔
ترجمہ نہیں، ایک علمی پل
قرآن کا ترجمہ کسی بھی زبان میں کرنا معمولی کام نہیں۔یہ صرف عربی الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں۔ مترجم کو عربی زبان کے ساتھ قرآن کے اسلوب، تفاسیر، حدیث، فقہ، اسلامی اصطلاحات اور اپنی زبان کے مزاج سے بھی واقف ہونا پڑتا ہے۔مولانا فقیر محمد چیچیؒ نے جب قرآن کے مفاہیم کو گوجری میں منتقل کیا تو دراصل انہوں نے عربی کے آسمانی پیغام اور گوجری کے عوامی لہجے کے درمیان ایک علمی پل تعمیر کرنے کی کوشش کی۔

یہی وجہ ہے کہ ان کا کام گوجری ادب کی تاریخ میں صرف مذہبی خدمت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے؛ یہ زبان کی علمی وسعت کا بھی ایک اہم باب ہے۔بعض اہلِ علم انہیں گوجری زبان میں قرآنِ کریم کا پہلا بامحاورہ مترجم قرار دیتے ہیں، تاہم اس دعوے کی قطعی تاریخی حیثیت طے کرنے کے لیے گوجری تراجمِ قرآن کی مکمل فہرست اور مستند اشاعتی ریکارڈ کا تقابلی جائزہ ضروری ہے۔

لیکن اس تاریخی بحث سے ہٹ کر ایک حقیقت اپنی جگہ روشن ہے:
مولانا فقیر محمد چیچیؒ نے قرآن کو گوجری زبان میں سمجھنے اور سمجھانے کے لیے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ وقف کیا۔سیرتِ محبوبِ دو عالم ﷺقرآن کے بعد ان کے قلم کا ایک اور روشن باب سیرتِ محبوبِ دو عالم ﷺ ہے۔انہوں نے گوجری زبان میں رسول اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ اور تعلیمات کو بیان کیا، تاکہ گوجری بولنے والا انسان اپنے نبی کریم ﷺ کی زندگی اور پیغام کو اپنی زبان میں پڑھ سکے۔

یہ کام بظاہر ایک کتاب تھا، مگر حقیقت میں یہ محبتِ رسول ﷺ کو ایک نئی زبان کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش تھی۔گوجری ادبی بورڈ لاہور سے اس کتاب کی اشاعت کا ذکر ملتا ہے۔ ان کی اس علمی و ادبی خدمت کے اعتراف میں اعزاز دیے جانے کی روایات بھی موجود ہیں، جن کی تفصیلات مزید دستاویزی تحقیق کی محتاج ہیں۔عالم بھی، محقق بھی، ادیب بھی مولانا فقیر محمد چیچیؒ کی شخصیت کو صرف ’’مترجمِ قرآن‘‘ کہہ دینا شاید ان کے علمی مقام کا مکمل احاطہ نہیں کرتا۔وہ استاد تھے۔محقق تھے۔مصنف تھے۔

عربی زبان کے صاحبِ ذوق عالم تھے۔دینی علوم کے طالبِ علم اور معلم تھے۔اور گوجری زبان کے مخلص خادم تھے۔ان کی دیگر تصانیف میں اسمِ اعظم، خطباتِ جمعہ اور مختلف دینی و تحقیقی تحریروں کا ذکر ملتا ہے۔ ان کا قلمی نام ابوالعطاء فقیر محمد سعید چشتی بھی بیان کیا جاتا ہے۔1975ء سے 1979ء تک پاک فوج میں بطور استاد خدمات انجام دینے کے بعد 1980ء میں ادارہ تحقیقاتِ اسلامی اسلام آباد سے وابستگی ان کی علمی زندگی کا ایک اہم مرحلہ تھا۔یہاں انہیں ایسا ماحول ملا جہاں مطالعہ، تحقیق، عربی، اسلامیات اور تصنیف کے ذوق کو مزید جلا ملی۔

ایک معتدل مزاج عالم
مولانا صاحب کی شخصیت کا ایک پہلو مجھے ہمیشہ متاثر کرتا رہا۔وہ اپنے علمی پس منظر سے وابستہ تھے، مگر گفتگو میں کشادگی رکھتے تھے۔مختلف اہلِ علم کا احترام کرتے تھے۔ اختلاف کو دشمنی نہیں بناتے تھے۔ ان کے ہاں کتاب کی بات کتاب کے حوالے سے ہوتی، دلیل کی بات دلیل سے ہوتی اور شخصیت کا احترام اپنی جگہ قائم رہتا۔اسلامی یونیورسٹی کے علمی ماحول میں ان سے مل کر کبھی ایسا محسوس نہیں ہوتا تھا کہ وہ کسی محدود دائرے میں بند عالم ہیں۔

وہ وسیع مطالعے، وسیع تجربے اور وسیع القلبی کے آدمی تھے۔ایک علمی گفتگو جو یاد رہ گئی جمعہ کی نماز کے مسئلے پر بھی ان سے گفتگو ہوئی۔ ان کا موقف تھا کہ شرائط کی موجودگی میں چھوٹی آبادیوں اور دیہات میں بھی جمعہ قائم ہوسکتا ہے۔ اس موضوع پر انہوں نے قرآن و حدیث کے دلائل کی روشنی میں تحریر بھی کی۔ان کی یہ عادت تھی کہ کسی مسئلے کو محض سنی سنائی بات پر نہیں چھوڑتے تھے؛ کتاب اٹھاتے، حوالہ دیکھتے اور پھر گفتگو کرتے۔

یہی ان کے علمی مزاج کی اصل پہچان تھی۔گوجری ادب کا وسیع آسمان گوجری زبان کی دنیا بہت وسیع ہے۔اس میں لوک ادب بھی ہے اور صوفیانہ روایت بھی۔ شاعری بھی ہے اور نثر بھی۔ داستان بھی ہے اور جدید افسانہ بھی۔ نعت بھی ہے، منقبت بھی اور تحقیق بھی۔صابر آفاقی، ڈاکٹر جاوید راہی، ڈاکٹر رفیق انجم اور متعدد دوسرے اہلِ قلم نے اس زبان کے ادبی سرمائے کو محفوظ کرنے کے لیے کام کیا۔

ڈاکٹر رفیق انجم کی گوجری ادب کی تاریخ پر وسیع تحقیقی کاوشیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ زبان محض عوامی بولی نہیں بلکہ ایک بھرپور ادبی روایت کی حامل ہے۔اسی روایت میں مولانا فقیر محمد چیچیؒ کا مقام اس اعتبار سے منفرد ہے کہ انہوں نے گوجری کو قرآن، سیرت اور دینی تحقیق کے اظہار کی زبان بنانے کی کوشش کی۔

الماوی: ایک خاموش خزانہ
جبڑ جنڈالی میں جامع مسجد باب الجنہ کے قریب الماوی سینٹر اور اس سے وابستہ کتب خانے کا ذکر آتا ہے تو دل میں ایک خیال پیدا ہوتا ہے۔کتنے ہی قلمی نسخے ہوں گے جو وقت کی گرد میں محفوظ ہونے کے منتظر ہیں؟کتنے صفحات ہوں گے جن پر مولانا صاحب نے راتوں کی تنہائی میں قلم چلایا ہوگا؟کتنے حاشیے، کتنے نوٹس، کتنے خطوط، کتنی کتابیں اور کتنی یادیں اس علمی خزانے میں چھپی ہوں گی؟خصوصاً قرآنِ کریم کے تقریباً 945 صفحات پر مشتمل گوجری ترجمے کا اصل مسودہ اگر محفوظ ہے تو وہ محض ایک کتاب نہیں، گوجری زبان اور اسلامی ادب کی تاریخ کا ایک قیمتی دستاویز ہے۔

اسے محفوظ کرنا، فہرست بند کرنا، ڈیجیٹلائز کرنا اور علمی انداز میں شائع کرنا وقت کی پکار ہے۔7 جنوری 2008ء — ایک چراغ بجھ گیاپھر وہ دن بھی آیا جب ایک عالم، ایک محقق، ایک مترجم اور گوجری زبان کا ایک مخلص خادم ہم سے جدا ہوگیا۔7 جنوری 2008ء کو حضرت مولانا فقیر محمد چیچیؒ اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔بظاہر ایک شخص دنیا سے چلا گیا۔
مگر حقیقت میں ایک کتاب خانہ خاموش ہوگیا۔

ایک قلم رک گیا۔ایک آواز خاموش ہوگئی۔ایک ایسا شخص رخصت ہوگیا جس نے اپنی مادری زبان کے دامن میں قرآن کا نور رکھنے کی کوشش کی تھی۔ان کے تین بیٹوں محمد عطاء الحق، محمد انعام الحق اور محمد احتشام الحق اور پانچ بیٹیوں کا ذکر ملتا ہے۔لیکن اہلِ علم کی اصل میراث صرف اولاد نہیں ہوتی۔ان کی اصل میراث ان کی کتاب ہوتی ہے، ان کا قلم ہوتا ہے، ان کا علم ہوتا ہے اور وہ فکر ہوتی ہے جو نسلوں تک سفر کرتی ہے۔

ابھی چراغ بجھا نہیں مولانا فقیر محمد چیچیؒ کی وفات کو برسوں گزر گئے، مگر ان کا کام آج بھی ہم سے سوال کرتا ہے:کیا ہم نے ان کے علمی خزانے کو محفوظ کیا؟کیا ان کا گوجری ترجمۂ قرآن شائع ہوا؟کیا ان کے قلمی نسخے محفوظ ہوئے؟کیا ان کی تمام تحریریں جمع ہوئیں؟کیا گوجری زبان کے نوجوان محققین کو ان کے کام سے متعارف کرایا گیا؟

اگر جواب ابھی تشنہ ہے تو یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں؛ یہ پوری علمی روایت کا نقصان ہے۔ضرورت ہے کہ ان کے ترجمۂ قرآن کی علمی تدوین ہو، ماہرینِ قرآن، عربی اور گوجری زبان کے اہلِ علم اس کا جائزہ لیں، اسے تحقیقی مقدمے اور ضروری حواشی کے ساتھ شائع کیا جائے اور مولانا صاحب کے تمام علمی آثار کو ایک مجموعے کی شکل دی جائے۔یہ کام کسی ایک شخص کی ذمہ داری نہیں۔

یہ گوجری زبان کے ہر محسن، ہر ادیب، ہر عالم اور ہر علمی ادارے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔میری یادوں میں مولانا صاحب آج جب میں ماضی کے دریچے کھولتا ہوں تو ایک طرف بچپن کی وہ مسجد نظر آتی ہے جہاں ہم نانا جان کے ساتھ جاتے تھے۔گاؤں کی وہ گلیاں نظر آتی ہیں۔رمضان کی وہ شامیں یاد آتی ہیں۔بچپن کی شرارتیں یاد آتی ہیں۔

اور پھر انہی یادوں کے درمیان مولانا فقیر محمد چیچیؒ کا چہرہ ابھرتا ہے۔کتابوں کے درمیان بیٹھے ہوئے۔بات کرتے ہوئے۔کسی علمی مسئلے پر دلیل دیتے ہوئے۔گوجری زبان کی فکر کرتے ہوئے۔اور شاید دل ہی دل میں یہ سوچتے ہوئے کہ میری زبان بھی قرآن کا پیغام اپنی آغوش میں لے سکتی ہے۔وہ چلے گئے، مگر ان کا سوال آج بھی باقی ہے:کیا ہم اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنے علمی ورثے کو آنے والی نسلوں تک پہنچائیں گے؟

اختتامیہ
کچھ لوگ زندگی گزارتے ہیں اور وقت انہیں بھلا دیتا ہے۔کچھ لوگ زندگی گزارتے ہیں اور وقت ان کے نام کو محفوظ کرلیتا ہے۔اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی زندگی دوسروں کے لیے وقف کردیتے ہیں، پھر ان کا وجود ایک شخص نہیں رہتا بلکہ ایک روایت بن جاتا ہے۔

حضرت مولانا فقیر محمد چیچیؒ بھی ایسی ہی شخصیت تھے۔انہوں نے گوجری زبان کو صرف بولنے کی زبان نہیں سمجھا؛ اسے علم کی زبان بنانے کی کوشش کی۔انہوں نے قرآن کو صرف پڑھا نہیں، اس کے مفاہیم کو اپنی قوم کی زبان میں منتقل کرنے کی جدوجہد کی۔انہوں نے سیرتِ رسول ﷺ کو صرف بیان نہیں کیا، بلکہ گوجری زبان کے دامن میں محفوظ کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کتابیں لکھیں، تحقیق کی، تدریس کی، سوالات اٹھائے، دلائل دیے اور اپنی مادری زبان کے لیے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ وقف کردیا۔

وہ گوجری زبان کے صرف ادیب نہیں تھے؛ وہ اس کے محسن تھے۔وہ صرف قرآن کے مترجم نہیں تھے؛ وہ قرآن کے پیغام کو اپنی قوم کی زبان تک پہنچانے والے خادم تھے۔اور شاید ان کی زندگی کا سب سے خوبصورت تعارف یہی ہے:
ایک عالم جس نے علم کو زبان دی،ایک مترجم جس نے قرآن کو گوجری کے دامن میں رکھا،اور ایک محسن جس نے اپنی زبان کے مستقبل کے لیے اپنا آج قربان کردیا۔اللہ تعالیٰ حضرت مولانا فقیر محمد چیچیؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے علمی و دینی کام کو صدقۂ جاریہ بنائے اور ہمیں اپنے اہلِ علم، اپنی زبان اور اپنے علمی ورثے کی حفاظت کی توفیق عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔