
اللہ تعالیٰ انسان کو عقل وشعور منصب ومرتبہ صرف اپنے مفادات کے منصوبے بنانے کے لیے نہیں دیتا بلکہ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں منصفانہ اصولوں پر ادا کرنے کے لیے استعمال کرنے کو بھی عطا کرتا ہے لیکن دوسرے پہلو پر بہت کم۔لوگ توجہ دے پاتے ہیں ہمارا معاشرہ ناہمواریوں کا شکار ہے یہاں انصاف اور توازن عنقا ہیں اور بدقستمی سے جس معاشرے میں ہم ریتے ہیں وہاں ناانصافیوں کی تند وتیز آندھیوں نے عوام کو زندہ درگور کررکھا ہے ایک طرف فنونِ حرب وضرب کے ماہرہاتھوں نے کمال مہارت سے لوٹا ہے تو دوسری جانب سیاسی جبر ہمارا شکاری رہا ہے یہاں زندگی المیوں کا شکار ہے اندھیروں کے قریب اور روشنی سے دور تار عنکوبت نے طاقت و گھمنڈ کے نشے میں چور اس کلاس پر پردہ ڈالا ہوا ہے جو ہمارے مسائل کی اصل جڑ ہیں۔ملک میں سیاست کے نام پر جو ہوتا رہا ہے وہی اب بھی ہو رہا ہے اور یہی آئندہ بھی ہوتا رہے گا یہ تمام لوگ اپنے علاوہ کسی کی بات نہیں سنیں گے۔لاکھوں لوگ ایسے ہیں جو آج کی امید نہ سہی تو کل کی امید پر زندگی بسر کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔بیول کے نواحی گاؤں (ڈھوک تھتی)کے باسی بھی ایک طویل عرصہ سے کل کی امید پر زندگی بسر کررہے ہیں۔یہ گاوں انٹرنیشنل اسپتال سے چند فرلانگ یانصف کلومیٹر بیول سے کلر جانے والی سڑک کے دونوں اطراف قائم ہے ماضی بعید میں یہ گاوں گنتی کے چند گھرانوں پر مشتمل ہوا کرتا تھا۔لیکن وقت کے ساتھ ملک کے دیگر علاقوں سے ہجرت کر کے اس گاوں میں بسرا کرنے والوں کی تعداد نے اس گاوں کو وسیع رقبے پر پھیلا دیا ہے۔اس وقت اس گاوں کی آبادی سینکڑوں میں کہی جاسکتی ہے یہ گاوں انٹرنیشنل اسپتال سے کچھ فاصلے پر قائم سویرا سنٹر سے شروع ہوتا جو سڑک کے دونوں اطراف کے بڑے رقبے پر آباد ہے۔یہ قدیم گاوں مختلف برادریوں اور مختلف سیاسی نظریات کے حامل لوگوں پر مشتمل ہے۔یہاں کے لوگوں میں باہمی اتفاق کا فقدان ہے یہی وجہ ہے کہ یہ گاوں ترقی کے اس دور میں بھی بنیادی سہولتوں سے یکسر محروم ہے۔سیاسی رہنماء اس گاوں کو اسی لیے ہمیشہ سے نظر انداز کرتے چلے آرہے ہیں۔گاوں سے چند فرلانگ کے فاصلے پر قائم انٹرنیشنل اسپتال سے کچھ آگے تک گیس کی موجودگی کے باوجود یہاں کے باسی اس سہولت سے اس لیے محروم ہیں کہ یہ لوگ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یک زبان ہونے کے بجائے اپنی اپنی جماعت اور مقامی رہنماوں کی خوشنودی کے لیے کام کرتے ہیں۔2008 کی الیکشن کے نتیجے میں بننے والی پی پی حکومت کے دوران راجہ پرویز اشرف کی جانب سے اس گاوں کو گیس فراہمی کے لیے سروے کروایا گیا لیکن بات سروے سے آگے نہ بڑھی۔2013 میں لیگی حکومت کے دوران راجہ جاوید اخلاص نے بھی اپنے پیش رو کو کاپی کیا اور ایک بار پھر یہاں سروے کروایا گیا تاہم حسب سابق کام سروے سے آگے نہ بڑھ سکا۔2018 میں تحریک انصاف کی حکومت نے یہ مہربانی کی کہ اس پر سروے کا ڈرامہ نہیں رچایا لیکن اس پر کام بھی نہیں کیا۔گاوں سے کچھ فاصلے پر گیس کی موجودگی کے باوجود اس گاوں کا اس سہولت سے محروم رہنا جہاں سیاسی رہنماوں کا اس گاوں سے امتیازی سلوک کہا جاسکتا ہے وہیں اس کو یہاں کے باسیوں کی بے حسی سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔کیا یہ ممکن نہیں کہ یہاں کے باسی اپنا حق لینے کے لیے پارٹی وابستگیوں سے ہٹ کر اپنے مفادات کے لیے یکسو ہوکر عہد کریں کہ وہ آمدہ الیکشن میں اس جماعت اور اس رہنماء کو سپورٹ کریں گے جو ان کے لیے اس سہولت کی فراہمی ممکن بنائے گا۔اس وقت مسلم لیگ اور پی پی مرکزی حکومت میں شامل ہیں۔راجہ پرویز اشرف ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں وہ اس وقت گاوں (تھتھی)کا یہ دیرنیہ مطالبہ پورا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔راجہ جاوید اخلاص بھی اس پوزیشن میں ہیں کہ وہ اس پر عمل درآمد کرواسکتے ہیں۔لیکن یہ تب ہوگا جو گاوں کے مکین اپنی سوچ بدلیں گے۔یک آواز ہوکر اس پر آوازاُٹھائیں گے لیکن شاید ایسا ممکن نہ ہو کیونکہ ہم ایک دائرے میں سفر کرنے والے لوگ ہیں۔اس باہر نکلنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔