پی پی 12میں سیاسی گہماگہمی

پنجاب اسمبلی تحلیل کے بعد نگران کابینہ کا قیام عمل میں آچکا ہے اور اب صوبائی اسمبلی کے انتخابات کی گہما گہمی عروج پر ہے اگر ہم بات کریں صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 12 راولپنڈی کی موجودہ سیاسی صورتحال پر تو یہاں پر تمام جماعتیں اپنے اپنے امیدوار میدان میں اتاریں گی اس حلقے میں 2018 کے عام انتخابات میں موجودہ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم عباسی منتخب ہوئے تھے جنھوں نے آزاد امیدوار چوہدری نثار علی خان اور مسلم لیگ ن کے فیصل قیوم ملک کو شکست دی تھی اب اس حلقہ میں اگر ہم پاکستان تحریک انصاف کی بات کریں تو یہاں بہت سے امیدوار ٹکٹ کے خواہاں ہیں کہ پارٹی انکو ٹکٹ دے جن میں 2018 سے جیتنے والے واثق قیوم عباسی سمیت راجہ اشتیاق اور چوہدری محمد نذیر اس حلقے سے الیکشن لڑنے کے خواہشمند ہیں راجہ اشتیاق نے تو باقاعدہ گزشتہ کئی ماہ سے کمپین بھی شروع کی ہوئی ہے اور تحریک انصاف کے بہت سے دیرینہ لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیا ہے اور سننے میں یہ بھی آرہا ہے کہ اگر پارٹی نے انکو ٹکٹ نہ دیا تو وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑیں گے دوسری جانب چوہدری محمد نذیر تحریک انصاف کے دیرینہ کارکن ہیں انکی بھی اس حلقے میں برادری اور اچھا اثر و رسوخ ہے مگر ان دونوں کے باوجود اس حلقے میں تحریک انصاف کا ٹکٹ واثق قیوم عباسی کو ملنے ہی کے چانسز ہیں موجودہ صورتحال میں واثق قیوم عباسی اس حلقے میں تحریک انصاف کے فیورٹ امیدوار نظر آرہے ہیں اس کے علاوہ ہم بات کریں ماضی میں دوسرے نمبر پر آنے والے چوہدری نثار علی خان کی تو وہ اس حلقے سے اس دفعہ انتخابات نہیں لڑ رہے البتہ اپنا کوئی امیدوار اس حلقے سے ضرور کھڑا کریں گےمگر تاحال انکو اس حلقے سے کوئی موضوع امیدوار میسر نہیں آیا ہے اسی حلقہ میں مسلم لیگ ن کی طرف سے 2018 کے عام انتخابات میں فیصل قیوم ملک امیدوار تھے جنھوں نے مشکل وقت میں پارٹی کا ساتھ دیا پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے اور اس حلقے میں مسلم لیگ ن کا جھنڈا بلند کیے رکھا اور بہت سے لوگوں کو اپنے ساتھ مسلم لیگ ن میں شامل کیا اسی وجہ سے اب دوبارہ مسلم لیگ ن فیصل قیوم ملک کو ہی پارٹی ٹکٹ دے گی جسکا اظہار نائب صدر مسلم لیگ ن پنجاب انجینئر قمر اسلام راجہ نے بھی کیا ہے کہ اس حلقے سے مسلم لیگ ن کا اگر کوئی امیدوار ہوگا تو وہ فیصل قیوم ملک ہے حلقہ پی پی 12 میں تیسری اہم جماعت تحریک لبیک پاکستان ہے جنھوں نے ماضی میں اس حلقے سے اچھا خاصا ووٹ لیا تھا انھوں نے اس حلقے سے نیئر جواد راجہ کا نام فائنل کیا ہے اس حلقے میں ایک اور متحرک نظر آنے والا امیدوار جو گزشتہ کئی ماہ سے فیلڈ میں نظر آرہے وہ جماعت اسلامی کے امیدوار ظفر الحسن جوئیہ ہے جو اپنی بھرپور الیکشن کمپین چلائے ہوئے ہیں اس حلقہ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ سے یہاں کے سابق ایم پی اے کے امیدوار اسفندیار راجہ امیدوار ہیں مگر انکے ساتھ راجہ محمد افتخار بھی انکے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کے خواہاں ہیں اب جیت کا سہرا کس کے سر سجے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر تاحال اس حلقے میں سوائے مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی کے کوئی بھی جماعت اپنے امیدوار کا نام فائنل نہ کرسکی ہے اور اس حلقے میں بظاہر مقابلہ تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن میں ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے لیکن اگر تحریک انصاف کا کوئی رہنماء ٹکٹ نہ ملنے کے سبب آزاد الیکشن لڑا تو اسکا فائدہ یقینی طور پر مخالف امیدوار یعنی مسلم لیگ ن کو ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں