نجی بینکوں کے باہر شہریوں کے لٹنے کا سلسلہ نہ تھم سکا

آصف شاہ
راولپنڈی اور مضافات میں نجی بینکوں کے باہر اور بسا اوقات بینک کے اندر بھی شہریوں سے وارداتیں آئے روز معمول بنتا جارہا ہے یہ گروہ بڑے منظم انداز میں کارروائی ڈالتے ہیں انکی کارروائی اتنی منظم ہوتی ہے کہ ہینگ لگتی ہے نہ پھٹکری اور رنگ بھی چوکھا آجاتا ہے یہ کہانی ہے واجد نام کے ایک شہری کی جو وزیر اعلی کی سکیم کے لیے گھر سے تقریبا ساڑھے سات کی خطیر رقم لیکر واپس گھر لیکر جارہا تھا کہ نوسربازوں کے گروہ نے بڑے منظم انداز میں لوٹ لیا اسی طرح شاہد نام کا ایک شہری بھی لٹا اے ٹی ایم کارڈ مشین میں ڈالا تو نوسرباز گروہ سر ہوگیا کہ آپ کارڈ پھنس گیا جب تک وہ کارڈ نکالتا وہ ایک لاکھ کی رقم نکال چکے تھے نجی بینکوں کے باہر شہریوں کو لوٹنے والے گینگز نہ صرف قانون کے لیے چیلنج ہیں بلکہ شہری امن و سکون کے بھی دشمن ہیں۔ ایسے جرائم کے سدباب کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں‘ بینکوں اور عوام تینوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ان وارداتوں کا خاتمہ ممکن ہے گزشتہ ایک دہائی میں راولپنڈی میں نجی بینکوں کے باہر شہریوں کو لوٹنے والے منظم گروہوں کا مسئلہ کم ہونے کے بجائے تیزی کے ساتھ بڑھا سرکاری اعداد و شمار اور میڈیا رپورٹس کے مشترکہ تجزیے کو اگر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے نجی بینکوں میں فراڈ ڈکیتیاں اور نوسربازی کے واقعات میں آئے روز اضافہ ہی ہوا ہے گو کہ راولپنڈی پولیس نے 2024 میں مجموعی جرائم میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے وارداتوں کے اعداد (4,689 سے 2,806 تک) پیش کیے لیکن پریس ریلیز اور حقائق میں زمین آسمان کا فرق نظر آتا ہے بینکوں اور ان کے اطراف میں ہونے والی سنجیدہ وارداتیں وقتاً فوقتاً وقوع پذیر رہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فیصدی کمی کے باوجود مخصوص نوعیت کے جرائم خاص طور پر بینک ہیٹس، آؤٹ سائیڈ ڈکیتیاں اور اے ٹی ایم/کیش سنچنگ سمیت پینشنرز کولوٹنا اب بھی جاری ہے یہ گینگز پینشن کے ابتدائی پانچ سے سات دنوں تک انتہائی متحرک ہوتے ہیں گوکہ ان آن لائن ٹرانزیکشن کا زمانہ ہے لیکن بہت سے پرانی جنریشن اسکو نہیں مانتی اور بینکوں کے عوا م کو دیے جانے والے چکر اور خود ساختہ کٹوتی سے عوام کا اعتماد میں متزلزل ہوا ہے ابھی اگر ہم اگست 2024 کو دیکھیں تو ماڈل ٹاون ہمک نجی بینک کی ایک شاخ پر چھ مسلح افراد نے عملے کو یرغمال بنا کر تقریباً 9.7 ملین روپے لوٹ لیے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ گروہ کبھی کبھار مربوط اور ہائی ویلیو آپریشن کر رہے ہیں۔ اسی کے بعد بھی بڑے پیمانے کی وارداتوں اور ایک ہی روز میں متعدد شہریوں کے لوٹنے کی خبریں موصول ہوتی رہیں 13 جون 2025 کی رپورٹ کو دیکھتے ہیں تو راولپنڈی شہر کے مختلف علاقوں میں تقریبا 65 سے زائد افراد لوٹے گئے اس طرح کے اعداد و شمار ظاہر کرتی ہیں کہ خام رقم، سڑکوں پر کم روشنی اور بعض اوقات حفاظتی انتظامات کی کمزوری اس نوعیت کے حملوں کی وجوہات میں شامل ہیں۔ دوسری جانب پولیس کی تیز کارروائیوں کی بھی مثالیں موجود ہیں جولائی 2025 میں نیو ٹاؤن میں ایک بینک ڈکیتی کی کوشش پولیس نے ناکام بنائی اور ایک مشتبہ کو گرفتار کیا گیا جو بتاتا ہے کہ فوری ردِعمل اور انٹیلی جنس پر مبنی ڈیوٹی بعض واقعات میں مؤثر ثابت ہوتی ہے مقدماتی عدالتی اور پولیس فائلوں کی چھان بین پر مبنی تحقیقی جائزے کے مطابق پچھلے 5 سالوں کی کیس فائلیں) یہ واضح کرتے ہیں کہ مقدمات کی تفتیش اور سزا تک پہنچنے کے عمل میں ثبوت اکٹھا کرنے، شواہد کی کمی اور عدالتی عملدرآمد کی حدود جیسی ساختی کمزوریاں موجود ہیں، جن کا مطلب یہ ہے کہ عارضی کمی کے باوجود مستقل خاتمے کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات، بینک-پولیس کوآرڈینیشن، اے ٹی ایم اور شاخی سیکیورٹی میں بہتری اور عوامی آگاہی مہمات لازمی ہیں۔ اس تحقیقاتی جائزے کی روشنی میں راولپنڈی کے تناظر میں مسئلے کا حل کثیرالجہتی حکمتِ عملی کا متقاضی ہے: بینک سطح پر نقدی کی منتقلی کے متبادل فروغ، بر وقت پولیس تعیناتی اور سی سی ٹی وی/سٹوڈیو نگرانی کا نفاذ، ساتھ ہی شہریوں کو حفاظتی رویوں کی تربیت تاکہ بینکوں کے باہر ہونے والی منظم ڈکیتیوں کے عملی اثرات کو کم کیا جا سکے لیکن اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو بھی چاہیے کہ وہ اگر بڑی رقم نکالنے یا جمع کروانے جاتے ہیں تو انہیں بھی حفاظتی اقدامات کرنے ہونگے بصورت دیگر لٹنے لٹانے کا سلسلہ رکنے کے بجائے بڑھے گا اور قانون تو ازل سے اندھا ہے اندھے سے توقعات کے بجائے اپنے زہن سے کام لیں کیونکہ آپ اشرف المخلوقات بھی ہیں