معاشرہ دیسی ہو یا بدیسی لالچ اور مفادات کے فارمولے ایک سے ہی ہوتے ہیں۔ہر شخص کی زندگی میں ایسا اسرار چھپا ہوتا ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی مفادات پر کمپرومائز کرلیا جاتا ہے۔اگرچہ انسان کے تصورات اوربلند خیالات کی کوئی انتہا نہیں ہوتی لیکن مفادات ان پر غالب رہتے ہیں۔پاکستانی سیاست پر نظر ڈالیں تو اس میں آپ کو کہیں کوئی اصول کوئی ضابطہ دیکھائی نہیں دے گا کل کے دشمن آج کے دوست اورآج کے دوست کل کے دشمن نظر آتے ہیں۔اسٹیبلشمنٹ کی تحریک انصاف کی سرپرستی سے قبل پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر کرپشن کے سنگین الزمات لگا کر مقدمات درج کرتی رہی ہیں لیکن موجودہ سیاسی بساط پر دونوں جماعتیں شیر وشکر دیکھائی دیتی ہیں اس قربت کے تحت آمدہ الیکشن میں ان کے درمیان ملک بھر میں چند نشستوں پر ایڈجسمنٹ کے امکانات بھی موجود ہیں۔ گوجرخان کے حوالے سے بھی یہ اطلاعات زیر گردش ہیں کہ یہاں بھی مبینہ طور پر ایڈجسمنٹ کے قوی امکانات موجود ہیں۔جس کے تحت پیپلز پارٹی کے راجہ پرویز اشرف دونوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار ہوسکتے ہیں۔حلقہ پی پی سات میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں اس بندوبست کی بنیاد رکھی جاچکی ہے جہاں پیپلز پارٹی نے ن لیگی امیدوار راجہ صغیر کے مقابلے میں نہ صرف یہ کہ اپنا امیدوار دستبردارکروایا بلکہ بہت ہی موثر طریقے سے لیگی امیدوار کی الیکشن کمپین بھی چلائی گو کہ مقابلہ بہت ہی کلوز رہا لیکن اس مقابلے کو سخت ترین بنانے میں بھی خود مسلم لیگ کیاُن رہنماؤں کا بڑا کردار تھا جو ذاتی مفاد کی خاطر پارٹی ٹکٹ ہولڈر کی کھل کر مخالفت کرتے رہے۔یقینا ایسے لیگی رہنماوں کے ذاتی ووٹ بینک نے پی ٹی آئی کو سپورٹ فراہم کی تھی۔اگر سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوتی ہے تو صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈر مشترکہ امیدوار بنائے جاسکتے ہیں اگر معاملات اس سمت جاتے ہیں تو ن لیگ کے پی پی آٹھ اور نو میں کونسے امیدوار میدان میں اتارے جاسکتے ہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔نئی حلقہ بندیوں کے تحت پی پی آٹھ کے کچھ علاقے قطبال‘بگوال‘کرسال‘کھڑالی‘کونتریلہ‘سسرال پی پی نو میں شامل کیے گئے ہیں جس میں راجہ جاوید اخلاص اور راجہ پرویز اشرف کے آبائی گاوں بھی شامل ہیں۔اس طرح اگر قومی کی نشست پر راجہ پرویز اشرف دونوں جماعتوں کے مشترکہ امیدوار قرار پاتے ہیں تومسلم لیگ یقیناً راجہ جاوید اخلاص کو صوبائی نشست پر ایڈجسٹ کر سکتی ہے اور ان کے آبائی گاوں کے پی پی نو میں شامل ہونے کے تناظر میں انہیں پی پی نو سے ہی ٹکٹ جاری کیا جاسکتا ہے۔جہاں مسلم لیگ کے سابق ٹکٹ ہولڈر راجہ حمید‘سابق ایم پی اے شوکت بھٹی‘وقار کاظمی‘راجہ بابر کرامت بھی موجود ہیں جس سے ٹکراؤ کی پوزیشن بن سکتی ہے۔دوسری جانب حلقہ پی پی سات کے کچھ علاقے کنوہا،پنڈوڑہ ہردو، سموٹ، ٹکال، چوآخالصہ،دھمالی،منیاندہ کو کاٹ کر پی پی آٹھ میں شامل کیا گیا ہے جس میں پی پی سات میں ضمنی الیکشن لڑنے والے تحریک انصاف کے رہنما کرنل شبیر کا آبائی علاقہ بھی شامل ہے جس کے باعث گمان کیا جاسکتا ہے کہ کرنل شبیر بھی آمدہ الیکشن پی پی آٹھ سے ہی ٹکٹ کے لیے اپلائی کرسکتے ہیں جہاں اس وقت چوہدری جاوید کوثر پی ٹی آئی کے منتخب رکن کے طور پہلے ہی موجود ہیں۔اس حلقہ سے ن لیگ کے لیے سابق ایم پی اے چوہدری افتخار وراثی‘سابق ایم پی اے چوہدری ریاض امیدوار ہوسکتے ہیں لیکن 2013 میں چوہدری ریاض کی پارٹی ٹکٹ ہولڈر کی مخالفت کے باوجود ن لیگ کا جیتنا اور 2018 کے الیکشن میں بطور ٹکٹ ہولڈر تیسری پوزیشن چوہدری ریاض کی سیاسی پوزیشن پر سوالیہ نشان ہے جبکہ 2013 ًمیں چوہدری ریاض کی شدید ترین مخالفت کے باوجود الیکشن جیتنے والے چوہدری افتخار وارثی 2018 میں در پردہ رہ کر بھی اپنا سیاسی وجود منوا چکے ہیں۔پی پی سات سے کاٹ کر پی پی آٹھ میں شامل کیے جانے والے علاقے حلقہ سے ن لیگی امیدوار کے لیے سپورٹ ایبل ہوسکتے ہیں کیونکہ پی پی سات میں ہونے والے ضمنی الیکشن کے دوران ن لیگی امیدوار راجہ صغیر ان علاقوں سے بہت بہتر پوزیشن میں جیتے تھے یہاں راجہ پرویز اشرف کی سیاسی ساکھ بہت بہتر ہے جو ان کے ساتھ لیگی امیدوار کے لیے سود مند ہوگی۔حلقہ پی پی چھ سے کچھ علاقے پی پی سات میں شامل ہونے پر وہاں مسلم لیگ کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں کیونکہ مسلم لیگ کے ٹکٹ ہولڈر راجہ قمر السلام کا آبائی علاقہ بھی پی پی سات میں شامل کردیا ہے جہاں سے اس وقت راجہ صغیر ن لیگ کے ایم پی ہیں۔اگر آمدہ الیکشن سے پہلے چوہدری نثار واپس ن لیگ جوائن نہیں کرتے تو راجہ قمرالسلام این اے کے امیدوار ہوسکتے ہیں۔بصورت دیگر یہاں بھی ٹکراؤ کی کیفیت ہوسکتی ہے سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ ہونے کی صورت مقابلہ راجہ پرویز اشرف اور چوہدری عظیم کے درمیان ہونے کی توقع ہے جبکہ ن لیگ کے ٹکٹ سے محروم رہ جانے والے رہنما حسب سابق اپنے امیدواروں کے خلاف مخالف جماعتوں کی کمپین چلاتے نظر آئیں گے اور نتیجہ 2018 سے قطعی مختلف نہیں ہوگا۔سیٹ ایڈجسمنٹ نہ ہونے کی صورت میں راجہ پرویز اشرف کسی ایک حلقے سے اپنے بیٹے خرم پرویز کو میدان میں اتار سکتے ہیں جو ایک تگڑے امیدوار ثابت ہوں گے۔جو گذشتہ الیکشن میں نیم دلانہ کمپین چلانے کے باوجود کم مارجن سے دوسرے نمبر پر رہے تھے۔سیٹ ایڈجسمنٹ کی صورت میں اگر صوبائی نشستوں پر راجہ جاوید اخلاص اور چوہدری افتخار وارثی امیدوار ہوں تو شاید مقابلہ بہت زیادہ کڑا نہ ثابت ہو۔ یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ تحریک انصاف کی گذشتہ الیکشن میں پی پی آٹھ سے کامیابی افتخار وارثی کے سپورٹ سے ہی ممکن ہوئی تھی اگر کوئی یہ کہے کہ پی ٹی آئی اپنی مقبولیت سے نیچے کی دونوں نشستیں جیتی تھی تو یہ حقائق کے منافی ہے اگر پارٹی ووٹ بینک کامیابی کی وجہ تھا تو یہ تحریک انصاف این اے کی نشت پر کیوں کامیابی حاصل نہ کر سکی۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا اس حلقے میں پی پی اور ن لیگ سیٹ ایڈجسمنٹ کرتی ہیں یا اپنے اپنے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کو ترجیح دیتی ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ ہر دو صورتوں میں راجہ پرویز اشرف کی کامیابی کے امکانات بہت زیادی ہیں۔