لڑکیوں کے اغواء کیس میں ٹیچر کی گرفتاری کا ڈراپ سین

یہ اس زمانے کی بات ہے جب جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر قاضی حسین احمد (مرحوم) ہوا کرتے تھے۔ ایک پروگرام کے دوران انہوں نے شرکائے مجلس سے گفتگو کے دوران حصول تعلیم پر زور دیا تو ایک نوجوان کھڑا ہوگیا اور قاضی صاحب سے سوال کیا کہ پاکستان کو سب سے زیادہ پڑھے لکھے لوگوں نے لوٹا ہے پھر ایسی تعلیم کا کیا فائدہ؟ قاضی حسین احمد (مرحوم) نے جواب دیا کہ یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ ہمارے حکمرانوں نے تعلیم تو حاصل کرلی لیکن ان کی تر بیت نہیں ہوئی تھی۔ہمارے ایک علاقے کے ایک گاؤں 13ستمبر 2022بوقت دن ڈیڑھ بجے دو لڑکیاں (ث خ) اور (ل ت) گھر سے کپڑے سلوانے کا کہہ کر نکلیں اور پھر لوٹ کر گھر واپس نہ آئیں۔ والدین نے عزت بچانے کے لیے پورا ہفتہ بات کو دبائے رکھا اور اپنے طور لڑکیوں کی تلاش جاری رکھی۔ لاچار20ستمبر 2022کو انہیں پولیس سے رجوع کرنا پڑا اور دولتالہ کے ایک پرائیویٹ کالج کے پرنسپل کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپنی درخواست میں انہیں ملزم نامزد کردیا۔ابتدائی اطلاعی رپورٹ میں مدعی مقدمہ نے اعتراف کیا کہ اس کی بیٹی کا اپنے ماموں زاد سے رشتہ طے تھا اور شادی کی تیاریاں کی جارہی تھیں۔ لڑکی اس رشتہ سے ناخوش تھی اور گھر چھوڑنے اور کسی دارالامان میں پناہ لینے کی دھمکی دے چکی تھی۔ پولیس نے زیر دفعہ ت پ 365Bمقدمہ درج کرکے پرنسپل کو گرفتار کرلیا۔دوسری جانب جب نامزد ملزم سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ”پنڈی پوسٹ“ کو بتایا کہ میرا قصور صرف اتنا ہے کہ مرضی کے خلاف رشتہ طے ہونے پر لڑکی(ث خ) اپنی کزن(ل ت) کے ساتھ میرے پاس آئی اور التجا کی کہ ان کے گھر والوں کو سمجھایا جائے کہ وہ ایک ان پڑھ لڑکے کے ساتھ اس کی شادی نہ کریں۔چونکہ دونوں لڑکیاں میری سٹوڈنٹس رہ چکی تھیں اور میں اپنی طالبات کو سابقہ ہوں یا موجودہ اپنی بیٹیوں کی طرح ہی سمجھتا ہوں اس لیے معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے میں نے لڑکی کے گھر والوں کو اپنے کالج دفتر میں بلا کر انہیں معاملے کی سنگینی کا احساس دلایا اور معاملے کو حکمت و تدبر سے حل کرنے کا کہا، اس پر لڑکی کے گھر والے جذبات میں آ گئے اور بجائے اس کے کہ وہ معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے مجھے ہی بُرا بھلا کہنے لگے اور اس معاملے سے دور رہنے کا کہا۔پرنسپل کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر سید امجد شاہ کا وہ ٹرائل ہوا کہ الامان الحفیظ۔ ہر کسی نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور کیس عدالت میں جانے سے پہلے ہی انہیں مجرم ثابت کردیا۔ سید امجد شاہ صبر و استقامت کی تصویر بنے پولیس کے ساتھ ساتھ حاسدین کی تنقید و الزامات اور لڑکیوں کے گھر والوں کی سخت باتوں کو بھی برداشت کرتے رہے۔پرنسپل سید امجد شاہ کا کہناتھا کہ ہم نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے اور بہت جلد سب کچھ صاف ہو جائے گا۔پھر اچانک ایک خبر نے ہلچل مچا دی کہ دونوں لڑکیاں اور ایک گاڑی کا ڈرائیورپولیس تھانہ مندرہ کی تحویل میں ہیں اور ایک لڑکی(ل ت) ہائی ایس کے ڈرائیور سے نکاح کرچکی ہے۔پولیس نے جب لڑکیوں اور ڈرائیور کو عدالت میں پیش کیا تو انہوں نے معزز عدالت کو بتایا کہ گھر والے ان کی زبردستی شادی کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے اپنی مرضی سے گھر چھوڑا کسی نے انہیں نہیں ورغلایا اور نہ اغوا کیا۔عدالت نے لڑکیوں کو دارالامان جبکہ لڑکے رستم علی کو رہا کردیا اور ونگز کالج کے پرنسپل سید امجد شاہ کو باعزت بری کرنے کے احکامات صادر فرمائے۔تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ لڑکیاں بغیر کسی منصوبہ بندی کے گھر سے نکلیں اور مندرہ بس سٹاپ پر اتریں وہاں سے وہ راولپنڈی جانے والے دوسری گاڑی میں بیٹھیں اور راولپنڈی جاکر اسی گاڑی کے ڈرائیور سے ایک لڑکی کا نکاح ہوگیا، حیرت کی بات یہ ہے کہ رستم علی نامی اس ڈرائیور لڑکے سے ان کا پہلے کوئی رابطہ بھی نہیں تھا۔اس معاملے میں گھر والوں کا دکھ اور صدمہ اپنی جگہ لیکن وہ اپنی غفلت اور کوتاہی سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔ انہیں جب پتہ تھا کہ لڑکیاں باغی ہوچکی ہیں تو انہوں نے لڑکیوں کو گھر سے اکیلے نکلنے ہی کیوں دیا؟اپنی کوتاہی کا احساس کرنے کے بجائے انہوں نے ساراملبہ ایک بے قصور و بے گناہ کے سر ڈال دیا اور پولیس تفتیش سے پہلے ہی اسے مجرم بنانے پر تل گئے۔ مزید ستم یہ کہ ابھی بھی اس عظیم انسان سے اپنی نادانستہ غلطی کی معذرت کرنے کے بجائے جواز ڈھونڈ رہے ہیں۔ایک معزز استاد کو دس دن جس ذہنی و جسمانی تشدد کا نشانہ پولیس نے بنایا اس کا شائد ازالہ زندگی بھر ممکن نہ ہوسکے اور یہ دس دن ان کی ساری زندگی پر بھاری رہیں گے۔ صاف ستھری زندگی گزارنے والا وہ شخص جس نے کبھی کسی کو اُف تک نہیں کہا، محبت کرنے اور محبتیں بانٹنے والا شخص جس نے دن رات ایک کر کے اپنے ادارے کو معیار اور شہرت کی بلندیوں تک پہنچایا جو شخص اپنے طلبہ و طالبات کے لیے ایک رول ماڈل تھا اس کے ساتھ ایک مجرموں جیسا سلوک کیا گیا اور اس کے ادارے کی ساکھ بھی داؤ پر لگ چکی تھی، سیدخاندان کا چشم و چراغ دس دن اذیت و کرب میں مبتلا رہا، وہ لوگ جن پر وہ اپنی عنایات کی بارش کرتا رہا اور جن پر اسے سب سے زیادہ بھروسہ بھی تھا آستیں کا سانپ ثابت ہوئے، اس مشکل گھڑی میں گنتی کے لوگ تھے جو اس کی بے گناہی کی گواہی دے رہے تھے، وقت اچھا یا بُرا چلتا رہتا ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے اس مشکل وقت میں سید امجد شاہ کا ساتھ نہیں چھوڑا وہی ان کا اصل سرمایہ ہیں۔سید امجد علی شاہ پرنسپل ونگز کالج دولتالہ کا کہنا ہے کہ جنہوں نے مجھ پر ظلم کیا مجھے جھوٹے مقدمے میں پھنسایا اور میرے ادارے کی ساکھ خراب کرنے کی کوشش کی ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہوں اور وقت آنے پر یہ حق استعمال کرونگا۔ یہ صرف ایک خاندان یا گاؤں کی کہانی نہیں ہے ہمارے پورے معاشرے میں خود سری اور پسند کی شادی کا سرطان سرایت کر چکا ہے۔ اس ساری صورت حال کا ذمہ دار کون ہے: والدین؟ اساتذہ؟ یا پھرسرکار؟جب سرکاری پالیسیاں شرمین عبیداور بے لگام میڈیا کے ہاتھ میں جائیں گی تو لڑکیاں ان ہستیوں کو جو انہیں پالتے ہیں جوان کرتے ہیں ان کے لیے سختیاں سہتے ہیں انہیں چلنا اور بولنا سکھاتے ہیں کو چھوڑ کر اجنبی لڑکوں پر اعتبار کریں گی اس سے ناصرف ہمارا خاندانی نظام تباہ بلکہ معاشرے کے کھوکھلے پن کا بھی اظہار ہورہا ہے۔ٹی وی ڈرامے اور سمارٹ فونز عشق و معشوقی اور آئیڈیلزم کی نرسریاں بن چکے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کے ہاتھوں موبائل دے کر بڑا فخر محسوس کرتے ہیں۔اس بات سے بے خبر کہ وہ جانے انجانے میں اپنی اور اپنی اولاد کی تباہی و بربادی کا سامان کرچکے ہوتے ہیں۔اساتذہ طلبہ و طالبات کو محض امتحان کے لیے تیار کراتے ہیں ان کی تربیت کی طرف توجہ بالکل نہیں دی جاتی، والدین کا احترام یا اولاد کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلانے تو سکول یا کالج کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ استاد ہی اپنے شاگردوں کے آئیڈیل ہوتے ہیں۔ادارہ سارا ملبہ والدین پر ڈالتا ہے جبکہ والدین کا موقف ہے کہ ہم اپنی اولاد کو سکول یا کالج میں بھیجتے ہی اس لیے ہیں کہ وہاں انہیں اچھی تعلیم و تربیت ملے۔دوسری جانب ناخلف اولاد جو صرف ذاتی خواہش اور انا کی تسکین کی خاطر بھول جاتی ہے کہ والدین انہیں اس مقام تک پہنچانے کے لیے نجانے کس کس کرب و اذیت سے گزرے ہونگے۔ جو اولاد اپنے سگے والدین سے بے وفائی کرجاتی ہے والدین کے بجائے اجنبی لوگوں پر بھروسہ کرتی ہے اس کا مقدر سوائے تباہی و بربادی کے کچھ نہیں ہے۔سب کہتے ہیں کہ لڑکیوں کو پڑھاؤ مگر اس سے آگے یہ کوئی نہیں کہتا کہ وہ بڑا آدمی پھر بھی نہیں بن سکتیں، کتنی ہی فی میل ڈاکٹرز، انجینئرز، ماسٹر ڈگری ہولڈرز چولھے چوکے کے آگے بیٹھی اپنی کتابیں پھاڑ پھاڑ کر سلگاتی ہونگی جن کے والدین نے انہیں یہاں تک پہنچانے کے لیے اپنی مرضی کا پہنا ہوگا نہ کھایا ہوگا۔آج سب سے زیادہ غیر مستحکم گھرداری ملازمت پیشہ خواتین کی ہے، آج کے دور کی عجب تعلیم ہے جس نے انسانیت، صلہ رحمی، رحمدلی اور والدین کا بھرم رکھنے کے بجائے طلبہ و طالبات کو تکبر، رعونت اور خود سری جیسی برائیوں میں مبتلا کردیا ہے اور اگر والدین اور اساتذہ نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو خدا نخواستہ پاکستان مغرب کو پیچھے چھوڑ جائے گادیسی لبرلز غالب آتے جارہے ہیں اور اسلامی روایات دم توڑتی جارہی ہیں جس کے نتیجے میں نور مقدم اور سارہ انعام قتل جیسے سانحات جنم لیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں