آل انڈیا مسلم لیگ 1930 تک کمزور قسم کی سیاسی جماعت تھی علامہ ڈاکٹر سر محمد اقبال نے اپنی ذہا نت اور شاعری کی سوچ کو 1911 میں شکوہ کی صورت میں عوام کو آشنا کیا کہ علامہ اقبال نے خداوند کریم سے مسلمانوں حا لت زار کا شکوہ کیا اور پھر اللہ کی طرف سے جواب شکوہ بھی لکھ ڈالا اس کے بعد آپ نے فارسی زبان میں اسر ار خودی کی شکل میں اپنے اندر کے بھید بیان کیے اس پر چند محتاط مذ ہبی رجحان رکھنے والے لوگوں نے رد عمل ظاہر کیا
ان کا خیال تھا کہ یہ اسلام کے خلاف اظہار ہے تاہم یہ مخالفت زیادہ دیر تک قائم نہ رہی اور نئی نسل میں علامہ کی ہر دلعزیزی میں اضافہ شروع ہو گیا علامہ اقبال کو ایک لگن تھی اپنے تشخص اور مذہب کے بارے میں اظہار خیال سے ان کی شناخت ہونی شروع ہوئی ان کے فلسفیانہ افکار جب کھلنے لگے تو انہوں نے اپنے آپ کو عوام میں خطابات کے لئے تیار کیا چنانچہ آپ نے پورے بھارت کے لئے چھے لیکچرز اسلام میں تجدید مذہبی روایات کے موضوع پر تیار کئے
آپ کی مذہب کے بارے میں گہری سوچ، انداز بیاں اور فلسفہ نے بڑے بڑے جید علماء کے لئے لمحہ فکر پیدا کر دیا اور اقبال اپنی فکری، مذہبی مہم کے ذریعے پائے کے مذہب اسلام کے ترجمان بن گئے اور قومی سطح پر اُن کے علم و حکمت، مذہب سے لگاؤ اور صاف گوئی اس کی فضیلت کا باعث بن گئی۔ انہوں لیکچرز کا ایسا راستہ اختیار کیا کہ ہر شخص ان کی دلیل سے قائل ہونے لگا یہ طریقہ اس کی مصلحت خوبی اور حکمت عملی کا حصہ بن گیا اقبال نے انسانوں کبھی خاص کر مسلمانوں کو اپنے مذہب کو جاننے کی وہ راہ دکھائی جس سے خالق کا ئنات اور رسول اکرؐم کی صفات اور پیغامات کو آسان طر یقہ سے سمجھاجا نے لگا اور اسی طرح آپ نے مسلما نو ں کو عملی راہ دکھا ئی اقبا ل کے نزدیک عمل صالح کی بڑی اہمیت اور مکمل ایمان اور عمل کو رحمت حاصل کر نے کا ذریعہ دکھا یا اقبال نے اپنے فلسفہ اور فکر کے ساتھ سیاست اور مسلمانوں کے مفادمیں سرگرم تھے
مسلمانوں نے اُن کے علمی وسعت کا احترام کرتے ہوئے انہیں آل انڈیا مسلم لیگ سیشن الہ آباد 1930 کی صدارت کی دعوت دی آپ مسلم لیگ سے وابستہ تھے مسلمانوں کے دکھ سکھ میں حصہ دارر ہے اسلام سے الفت کا مقصدہی مسلمانوں کی بھلا ئی ہے اس مجلس مسلم لیگ میں لیگ کے علاوہ کچھ اور حاضرین بھی تھے اقبال نے نہایت فاضلانہ انداز میں ہند کے مسلمانوں کی سماجی سیاسی مذہبی اور اقتصادی حالات کا جائزہ لیا اور مسلمانوں کے مسائل کا حل تلاش کرنے
اور اسی کو معاشرے میں اونچا مقام دلانے کی طرف ایک طرف خاکہ پیش کیا جس میں مسلم اکثریت والے صوبوں کو ملا کر ایک مسلم ہندوستان کی تشکیل کا مطالبہ کیا گیا اقبال کا فلسفہ آفاقی تھا اور اُن کا یہ فلسفہ سیاست ہیں گہری سوچ پر مبنی تھا وہ کئی بر سوں سے مسلمانوں کی حالت بدلنے کے مراحل طے کر چکے تو اقبال نے مسلمانوں کو خودی اتحاد امت اور خدمت انسانیت کا درس دیا آپ اس میدان میں اتنے آگے بڑھے کہ خود داری کے علمبردار کہلانے لگے اور کیا آہستہ آہستہ اتحاد امت اور اس کی رہنما ئی کے لئے نصب العین تیار کیا اور مسلم انڈیا مسلم ریاست کا قیام ہندوستان میں ناگزیر قرار دیا پر مطالبہ انہوں نے عالم اسلام کی حالت کا جائزہ لینے کے بعد کیا 1921 میں اقبال کو بین الاقوامی مسلم کانفر نس میں شرکت کے لئے معنی فلسطین عدم امین الحسینی نے مدعو کیا
آپ نے اس میں شرکت اس لئے کی کہ آپ کو عالم اسلام کے مسائل پر گفتگو کرنا مقصود تھی اقبال نے اپنے فالسفا نہ اور ایمان افروزخطبہ میں ارشاد فرمایا کہ مجھے غیر مسلمانوں سے مسلمانوں کے مسائل ڈرائیں اگر مجھے خوف ہے تو صرف مسلمانوں سے ہے کیونکہ اندر سے مسلمان نہیں ہیں بلکہ اوپر سے مسلمان ہیں کہ ذرا غور کیجئے کہ علامہ اقبال نے کیا پتے کی بات کی کہ مسلم قوم کا ایک خاص کردار ہے محبت اللہ سے ہے اطاعت نبی کرؐیم کی اورسنت کی پیروی ہے انصاف شفقت معاف کرنا ہے منافقت نہیں نشہ نہیں سود نا جائز انکم نہیں حرام ہے اور اللہ کی راہ میں علم و ہنر کے لئے دولت کو صرف کرنا ہے جو آج کل نہیں آپ نے مزید فرمایا ہے کہ ہم مسلمانوں کو اس بات فخر ہے کہ ہم حضرت محمد کی امت میں سے ہماری نجا ت حضور نبی اکرؐم کے ذریعے ہوتی ہے علامہ اقبال نے ایک سوال اٹھایا کہ ہم نے کبھی سوچا کہ رسول اللہ کو بھی منہ ہوگا کہ ہمارے جیسے مسلماں ان کی امت میں شامل ہیں؟ گویا اقبال کی تعلیمات تصورات کا ملبع صحیح مسلمان ہونے پر مبنی ہے
اور یہ فقرہ مشعل راہ بن گیا اور ہم غیرملکی اطوار و اسلوب کوتو اپناتے ہیں مگر اپنے اسلام کے کردار قربوں کی تعلیم سے کراتے ہیں اقبال السای قدروں کو بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے ناطے سے روشناس کر رہنا چاہتے ہیں اُن کتنا بڑا پیغام حقیقت کا ہے کہہم اندر سے مسلمان نہیں ہیں اوپر سے مسلمان ہیں آپ کا روز رسالت مہدی کی پیروی میں ہے گویا اقبال صحیح مسلمان بننے کا سبق دیتے ہیں علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لا خطہ ز مین کی الگ ضرورت اس لیے محسوس کی کہ مسلم قوم اندر سے مسلمان بن جائے اپنا علاقہ اپنا ملک اپنا خطہ زمیں ہو اپنی اقدار، روایات عقیدہ اسلام کی تشہیر ہو عمل ہوگا اور ان کے فلسفہ کے مطابق مسلمان اللہ کا ڈر دلوں میں لائیں گے رزق حلال کمائیں گے قرآن وسنت پر عمل کریں گے۔ یتیموں بیواؤں بے کسوں کا خیال ہو گا غربت ختم ہوگی اور اسلامی تشخص ابھرے گا اُن کا خیال تھا کہ ایک ملک کی بنیاد اسلامی اصولوں کی بناء پر مضبوط ہوگی اور انصاف کا دور دورہ ہوگا ز مین اناج زیادہ پیدا کردے گی جس پر مسلمانوں میں ایثار محبت مزید بڑھے گا اقبال کا تصور مسلم انڈیا، کردار کی بلندی ظلم اور دھاندلی کی منافقت سے چھٹکارا تھا حاکم کا تصور رہبری تھا
خدمت تھا ہمارا لباس اجلا ہوگا غریبی نہیں ہوگی وطن خوشحال ہوگا اور تاریخ کا دھارا بدلا جائے گا فکر اقبال تو روشنی کا پیغام تھی آزادی ہوگی آزادی کی حفاظت ہوگی اور قوم جدید علوم میں ترقی کر کے جدید چیلنجز کا مقابلہ کرے گی اور ملک پاکستان اسلام اور انسائیت کے لئے پیغام ہو گا خطبہ آلہ آبادمیں نے منظر ریاست کا تصور پیش کیا کہ مسلمانوں کی زیادہ آبادی والے علاقوں کو یکجا کیا جائے جہاں اقلیت کو حقوق میسر آئیں گے اور ملک کا آئین اسلامی ہو گا علامہ اقبال نے امت مسلم کے حالات کا مطالعہ کیا کہ مسلمانوں کو زوال کیوں آیا؟ اور کس طرح مسلمان سرخرو ہو سکتے ہیں علام اقبال کے مسلمانوں کو بدی سے بچنے کی ترغیب دی بد قسمتی سے علامہ اقبال قرار داد (لا ہور پاکستان) کے پاس ہونے سے دو سال قبل وفات پاگئے مگر آپ کے پاکستانی کا راستہ امت مسلمہ کو 30دسمبر 1930 میں دکھایا اور قائد اعظم محمد علی جناح کو لندن میں خطوط تحریر کر کے بلوایا اقبال کے انسانیت کا سبق دیا اور مسلم معاشرے کو درستگی کی راہ دکھائی لہذااس طرح خطبہ الہ آباد دو قومی نظریہ کی بنیاد بن گیا برصغیر میں دو قومیں آباد ہیں ایک ہندو اور دوسری مسلمان، یہ دونوں قومیں ہر لحاظ سے جدا قو میں ہیں ہندوستان ایک عظیم ملک ہے جس میں بے شمار انسانی گروہ آباد ہیں ان کے مسائل کو ان کے مفادات کے مطابق حل ہونے چاہئیں علامہ اقبال نے اور کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اس لئے ہر ایک قوم کو حق پہنچتا ہے
کہ وہ اپنی ثقافت کے مطابق ترقی کرے مسلم انڈیا کا تصور ایک ایسا شاندار تصور ہے کہ جس کی رو سے اسلام کے ماننے والے اپنے حالات آزادی او را پنے مذہب کے مطابق زندگی بہتر گزاریں اپنی رنگ اپنی محبت اور غیرت سے گزاریں علامہ اقبال کا ایمان پختہ تھا کہ مسلمان قوم میں ساری صلاحتیں موجود ہیں اور یقین کے ساتھ اپنے ذکروافکار میں لگے رہے کہ ان کا مستقبل روشن ہوگا اقبال نے اسی سوچ کو آگے بڑھایا کہ اس قوم کو ایک معیار اور مخلص رہنما کی ضرورت ہے جس میں خودی جیسے اوصاف ہوں اور عملی زندگی میں صداقت انصاف ذہانت قابلیت بے باکی اور اپنے خیالات کے اظہار میں بے خوفی کا عنصر ہو چنانچہ انہوں نے ہندوستان کے تمام زعماء پر نگاہ ڈالی آخر کار ان کی نگاہ محمد علی جناح پر پڑی کہ ہر شخص اصولوں پر سودا کرنے والا نہیں اور مسلمانوں کی سربلندی کے لئے موزوں ترین شخص ہے محمد علی جنا ح میں عزم حوصلہ اور رہنمائی کے اوصاف دیکھے کہ ہر شخص قوم کو فریب دھوکہنہیں دے سکتا اور قوم کے لئے بہترے پر ہو سکتا ہے۔