عبدالخطیب چوہدری: حلقہ جموں 6 کی عوامی  امنگوں کا  ترجمان

ترقی پذیر جمہوری ممالک میں ووٹ صرف ایک آئینی حق نہیں بل کہ ایک قومی امانت، اخلاقی ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر کا مؤثر ذریعہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ووٹ کا حقیقی حق دار وہ امیدوار ہے جو دیانت داری، اعلیٰ کردار، صلاحیت، بصیرت اور عوامی خدمت کے خلوص سے سرشار ہو۔ ایسا فرد قانون کا احترام کرنے والا، شفاف کردار کا حامل، تعلیم یافتہ، باصلاحیت، دور اندیش اور قومی مفاد کو ذاتی یا جماعتی مفاد پر مقدم رکھنے والا ہوتا ہے۔

          ایک مثالی امیدوار عوام کے مسائل اور ضروریات کو گہرائی سے سمجھتا ہے، انصاف، مساوات، شفافیت اور جواب دہی کے اصولوں پر عمل کرتا ہے اور ہر قسم کی بدعنوانی، اقربا پروری اور ناانصافی سے اجتناب کرتا ہے۔ اس کی گفتار اور کردار میں ہم آہنگی ہوتی ہے، وہ اپنے وعدوں کو محض نعروں تک محدود نہیں رکھتا بل کہ عملی اقدامات کے ذریعے عوام کا اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ایسے امیدوار کا انتخاب نہ صرف مضبوط اور مؤثر جمہوری نظام کی بنیاد بنتا ہے بل کہ ایک مستحکم، پرامن اور خوش حال ریاست کے قیام میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ قوموں کی ترقی، استحکام اور خوشحالی  کا انحصار بھی درحقیقت اسی بات پر ہوتا ہے کہ عوام اپنی رائے کا استعمال دیانت، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ کرتے ہوئے اہل، باکردار، باصلاحیت اور جواب دہ قیادت کا انتخاب کریں۔

          27جولائی کو آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں ایل اے 39 جموں 6 سے مسلم کانفرنس کے امیدوار جناب عبدالخطیب چوہدری ایک نئے مگر نہایت موزوں، باصلاحیت اور باوقار چہرے کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ وہ  ہفت روزہ پنڈی پوسٹ کے چیف ایڈیٹر ہیں اور گزشتہ تقریباً تیرہ برس سے صحافت کے میدان میں مسلسل محنت، دیانت اور پیشہ ورانہ لگن کے ذریعے اپنی منفرد شناخت قائم کیے ہوئے ہیں۔انہوں نے اپنے صحافتی سفر کا آغاز ایک عام رپورٹر اور محنتی کارکن کی حیثیت سے کیا اور اپنی  انتھک جدوجہد، صلاحیت اور پیشہ ورانہ دیانت کے بل بوتے پر وہ مرحلہ وار ترقی کرتے ہوئے آج ایک معروف صحافی، کامیاب مدیر اور عوامی آواز کے مؤثر ترجمان بن چکے ہیں۔

        قابلِ صد تحسین امر یہ ہے کہ  کلر سیداں سے تعلق رکھنے والے جناب   عبدالخطیب چوہدری نے صحافت کو محض ایک پیشہ یا کاروبار نہیں بل کہ عوامی خدمت، سماجی شعور کی بیداری اور مظلوم طبقات کی آواز بلند کرنے کا مؤثر ذریعہ بنایا۔ وہ معاشرے کے نچلے اور متوسط طبقے کے مسائل، مشکلات اور محرومیوں کو اس لیے بہتر انداز میں سمجھتے ہیں کہ انہوں نے خود بھی زندگی کے کٹھن مراحل، محدود وسائل اور معاشی دشواریوں کا سامنا کیا ہے۔ تاہم ان تمام آزمائشوں کے باوجود انہوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا، بل کہ عزم، محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ اپنے سفر کو جاری رکھا۔ اپنی دیانت، پیشہ ورانہ صلاحیت اور انتھک جدوجہد کے بل پر انہوں نے نہ صرف عزت، شہرت اور مالی استحکام حاصل کیا بل کہ صحافت کے میدان میں ایک معتبر مقام بھی قائم کیا۔ ان کی صحافت ہمیشہ عوامی مسائل، سماجی برائیوں، شہری مشکلات اور عام آدمی کی آواز کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے حوالے سے جانی جاتی رہی ہے۔ انہوں نے پنڈی پوسٹ کو محض ایک اخباری اشاعت تک محدود نہیں رکھا بل کہ اسے عوامی ترجمانی کا ایک مضبوط پلیٹ فارم بنایا، جہاں مقامی مسائل، شہری مشکلات اور معاشرتی معاملات کو ہمیشہ نمایاں اہمیت دی جاتی ہے۔

          عبدالخطیب چوہدری نے پنڈی پوسٹ کو محض ایک اخباری اشاعت تک محدود نہیں رکھا بل کہ اسے عوام کی مؤثر ترجمانی، سماجی شعور کی بیداری اور مقامی مسائل کے حل کے لیے ایک مضبوط اور بااعتماد پلیٹ فارم میں تبدیل کر دیا۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے وہ مسلسل اپنے حلقے اور اہلِ علاقہ کے مسائل کو ذمہ داری، دیانت اور جرات کے ساتھ اجاگر کرتے رہے ہیں اور متعلقہ اداروں تک عوام کی آواز مؤثر انداز میں پہنچانے کا کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کی صحافتی خدمات اس بات کی گواہ ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ عوامی مفاد، حق گوئی اور سماجی ذمہ داری کو اپنی اولین ترجیح بنایا۔ ان کی شخصیت عوام دوستی، درد مندی، دیانت داری، شرافت اور خدمتِ خلق کے جذبے سے عبارت ہے، جب کہ ان کی عملی زندگی عوامی مفاد، سماجی انصاف اور فلاحِ عامہ سے غیر متزلزل وابستگی کی آئینہ دار ہے۔

          اگر ایسے باکردار، باصلاحیت اور عوامی درد رکھنے والے افراد سیاست میں آگے آئیں تو یقیناً عام آدمی کے مسائل کو نہ صرف بہتر انداز میں سمجھا جا سکتا ہے بل کہ ان کے مؤثر اور دیرپا حل کی راہیں بھی ہموار ہو سکتی ہیں۔ آج جب ملکی سیاست پر مفاد پرستی، موروثی سیاست، دولت کی نمائش، ذاتی مفادات اور عوامی مسائل سے دوری جیسے رجحانات کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں، ایسے ماحول میں عبدالخطیب چوہدری جیسے شریف النفس، تعلیم یافتہ، دیانت دار، باکردار اور خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار افراد کی سیاست میں شمولیت ایک خوش آئند پیش رفت محسوس ہوتی ہے۔ ایسے لوگ سیاست میں اصول پسندی، شفافیت، عوامی جواب دہی اور خدمت کے کلچر کو فروغ دے سکتے ہیں۔ اگر اہل، مخلص اور عوام دوست قیادت کو آگے آنے کا موقع ملے تو یقیناً سیاست کا عمومی مزاج بھی مثبت رخ اختیار کرے گا اور عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جناب عبدالخطیب چوہدری نے اپنی زندگی کا سفر نہ کسی جاگیردارانہ پس منظر، سیاسی وراثت یا خاندانی اثر و رسوخ کے سہارے طے کیا، بل کہ اپنی محنت، قابلیت اور ثابت قدمی کے بل پر اپنی شناخت قائم کی۔ وہ معاشرے کے نچلے اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ان باہمت افراد میں شامل ہیں جنہوں نے زندگی کی تلخ حقیقتوں، محدود وسائل، معاشی مشکلات اور کٹھن حالات کا سامنا اپنی عملی زندگی میں کیا۔ مگر ان تمام آزمائشوں کے باوجود انہوں نے کبھی حوصلہ نہیں ہارا، بل کہ عزم، دیانت، استقامت اور مسلسل جدوجہد کو اپنا شعار بناتے ہوئے اپنے لیے ایک باوقار مقام حاصل کیا۔

اسی عملی جدوجہد کے باعث وہ عام آدمی کے مسائل، محرومیوں اور روزمرہ مشکلات کو محض کتابی علم یا نظریاتی بحث کی حد تک نہیں جانتے بل کہ انہیں اپنی زندگی میں محسوس اور برداشت بھی کر چکے ہیں۔ یہی ذاتی تجربہ انہیں عوام کے دکھ درد کو بہتر انداز میں سمجھنے، ان کی حقیقی ترجمانی کرنے اور ان کے مسائل کے مؤثر حل کے لیے سنجیدگی اور اخلاص کے ساتھ کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ یہی اوصاف انہیں عوامی نمائندگی کے لیے ایک بااعتماد، باکردار اور موزوں شخصیت کے طور پر نمایاں کرتے ہیں۔

عبدالخطیب چوہدری کی شخصیت کا نمایاں ترین وصف اُن کی عوامی مزاج شناسی اور عام آدمی کے مسائل سے گہری آگاہی ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ مہنگائی، بے روزگاری، معیاری تعلیم تک محدود رسائی، علاج معالجے کی دشواریاں اور انصاف کے حصول میں حائل رکاوٹیں ایک عام شہری کی زندگی پر کس قدر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں، کیونکہ انہوں نے خود ان حالات کو قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ عوام کے دکھ درد کو محض اعداد و شمار یا انتخابی نعروں کی حد تک نہیں بل کہ عملی تجربے کی بنیاد پر سمجھتے ہیں۔ یہی تجربہ، عوامی شعور اور خدمتِ خلق کا جذبہ انہیں سیاست کے میدان میں ایک باصلاحیت، بااعتماد اور موزوں امیدوار بناتا ہے۔ درحقیقت سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام نہیں بل کہ عوام کی خدمت، ان کے مسائل کے مؤثر حل اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کی ذمہ داری ہےاور جو شخص خود زندگی کی آزمائشوں سے گزر کر آگے بڑھا ہو، وہی عوام کے مسائل کو حقیقی معنوں میں سمجھنے اور ان کے پائیدار حل کے لیے مخلصانہ کردار ادا کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔

آج ہماری سیاست کو درپیش سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ عوامی نمائندوں اور عوام کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ بہت سے سیاست دان آسودہ ماحول میں پروان چڑھے ہیں، اس لیے وہ غریب کے چولہے کی ٹھنڈک، مزدور کے پسینے کی حقیقی قدر اور متوسط طبقے کی روزمرہ جدوجہد کو اس شدت سے محسوس نہیں کر پاتے جس کا تقاضا عوامی نمائندگی کرتی ہے۔ ایسے حالات میں عبدالخطیب چوہدری جیسے افراد امید کی ایک روشن کرن بن کر سامنے آتے ہیں، کیونکہ ان کی زندگی، جدوجہد اور پیشہ ورانہ سفر عوامی حقیقتوں اور زمینی مسائل سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

عبدالخطیب چوہدری ایک تعلیم یافتہ، باصلاحیت، سنجیدہ اور باکردار شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں شائستگی، طرزِ فکر میں پختگی اور فیصلوں میں اعتدال نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ محض جذباتی نعروں، وقتی سیاسی مفادات یا ذاتی تشہیر کے بجائے دیانت داری، عملی خدمت، شفاف طرزِ عمل اور مثبت تبدیلی کے قائل ہیں۔ یہی اوصاف ایک ذمہ دار، عوام دوست اور کامیاب سیاسی قیادت کی بنیادی شناخت ہوتے ہیں اور کسی بھی معاشرے کی تعمیری سیاست کے لیے ناگزیر سمجھے جاتے ہیں۔

ملکی سیاست کو آج ایسے ہی باکردار، دیانت دار اور اہل افراد کی ضرورت ہے جو عوام کے درمیان سے اُبھریں، ان کے مسائل کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں، ان کی زبان اور احساسات کو سمجھیں اور اقتدار کو ذاتی مفاد، نمود و نمائش یا مراعات کے بجائے قومی خدمت اور عوامی فلاح کا ذریعہ بنائیں۔ عبدالخطیب چوہدری کی سیاست میں آمد اسی مثبت سوچ اور تعمیری تبدیلی کی علامت محسوس ہوتی ہے۔ اگر تعلیم یافتہ، باصلاحیت، دیانت دار اور باکردار افراد سیاست سے کنارہ کش رہیں گے تو پھر قومی قیادت کا خلا پُر نہیں ہو سکے گا اور اصلاحِ احوال کی توقع بھی کمزور پڑ جائے گی۔ اس لیے وقت کا تقاضا ہے کہ معاشرے کے سنجیدہ، اہل اور مخلص افراد آگے بڑھیں اور قومی قیادت کی ذمہ داری سنبھالیں۔

اسی طرح عوام پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ روایتی نعروں، موروثی سیاست، ذاتی وابستگیوں اور وقتی انتخابی وعدوں سے بالاتر ہو کر ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں جو کردار، صلاحیت، دیانت اور عملی خدمت کی بنیاد پر عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے مستحق ہوں۔ عبدالخطیب چوہدری کی طویل صحافتی جدوجہد، عوامی وابستگی، انتھک محنت اور بے داغ کردار اس حقیقت کے واضح مظہر ہیں کہ وہ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ایک سنجیدہ، ذمہ دار اور باصلاحیت شخصیت ہیں، جو اپنے علاقے اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ قوم ایسے امیدواروں کو آگے لائے جن کی شناخت خاندانی اثر و رسوخ یا مالی طاقت نہیں بل کہ اعلیٰ کردار، معیاری تعلیم، دیانت، اہلیت اور عوامی شعور ہو۔ ایسے افراد ہی جمہوری اداروں کو مضبوط، سیاست کو باوقار اور عوامی نمائندگی کو بامقصد بنا سکتے ہیں۔ عبدالخطیب چوہدری جیسے باکردار، تعلیم یافتہ اور عوام دوست افراد اگر قانون ساز اداروں تک پہنچیں تو اس سے نہ صرف سیاست کے عمومی مزاج میں مثبت تبدیلی آئے گی بل کہ عام آدمی کے مسائل، توقعات اور آواز کو بھی حقیقی اور مؤثر نمائندگی حاصل ہو سکے گی۔

بلاشبہ عبدالخطیب چوہدری کی شخصیت اس امید کی علامت ہے کہ پاکستان کی سیاست میں شرافت، دیانت، محنت، اہلیت اور خدمتِ خلق جیسی اقدار آج بھی اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر عوام اپنی رائے کا استعمال شعور، بصیرت اور قومی ذمہ داری کے ساتھ کریں تو ایسی قیادت سامنے آ سکتی ہے جو ذاتی مفادات کے بجائے عوامی فلاح، انصاف اور قومی ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے اور ملک کو ایک بہتر اور روشن مستقبل کی جانب گامزن کرے۔