طورخم بارڈر پر افغانستان کی بھارتی جھلک/طاہر یاسین طاہر

بیشک ہم ناکام خارجہ پالیسی کا شکار ہیں۔ بڑے مینڈیٹ والی حکومت کے کیاکہنے جو ایک کل وقتی وزیر خارجہنہیں بنا سکی۔ یہ مگر سیاسی و سفارتی پیچیدگیاں ہم ایسے’’ اخباری دانشوروں‘‘ کی سمجھ سے بالا ہیں۔ ہم اتنا جانتے ہیں کہ وہ افغانستان اور وہ افغان جن کے لیے ہم نے اپنے پورے معاشرے کی قربانی دے دی وہ ہمارا گریبان پکڑ رہے ہیں۔ بھارت کی تھپکی پر۔کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔طورخم بارڈر کی سٹریجک اہمیت کیا ہے؟ دفاعی تجزیہ کار جانیں اور ان کا کام۔میں تو یہ جانتا ہوں کہ افغانستان کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ فاتح ماسکو اور واشنگٹن ہے۔ تاریخی حقائق اس سے بر عکس بھی نہیں۔ جذباتیت ابھارنے والی تاریخ سے ہٹ کر اگر حقائق کو دیکھا جائے توروس والی جنگ کو فتح کی ڈگر پر پاکستان نے ڈالا،نہ صرف یہ، بلکہ جہادی گروہ پیدا کیے اور پھر ان کی تربیت کر کے انھیں افغانستان مں داخل کیا۔ جو لٹے پٹے افغانوں کے ساتھ مل کر لڑتے تھے۔30/35سال سے ہم لاکھوں رجسٹرڈ اور لاکھوں غیر رجسٹروڈ مہاجرین کی مہمان نوازی کر رہے ہیں جو بلا شہ ہماری معیشت اور معاشرت پر بوجھ ہیں۔ روس کو بے شک شکست ہوئی اور اس کے ٹکڑے ہوئے مگر یہ کارنامہ اگر افغان سمجھتے ہیں کہ انہی کا ہے تو وہ غلطی پر ہیں۔افغانوں کے سامنے ڈالر پھینکے گئے اور وہ ڈٹ گئے۔ باقی تاریخ ہے۔ تازہ امر یہ ہے کہ امریکہ کو افغانستان میں کوئی شکست وغیرہ نہیں ہوئی بلکہ وہ جتنی مدت اور جس مقصد کے لیے آیا تھا وہ اس نے پورا کیا۔ کیا فاتح معاشرے ایسے ہوا کرتے ہیں جہاں خانہ جنگی کا رواج ہو؟آ پ کیسے فاتح ہیں کہ جس کو تم نے شکست دی اس کے فوجی ٹروپس آپ کو تربیت دے رہے ہیں؟آپ کا کوئی بھرم ہے تو وہ پاکستان کی وجہ سے ہے۔مگر آپ سا احسان فراموش چشمِ فلک نے کم کم دیکھا ہو گا۔
طورخم تنازع کے حوالے سے تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ’’پاکستان اور افغانستان کے سرحدی مقام طورخم پر افغان فوج کے ساتھ اتوار کی شب فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے پاکستانی فوج کے میجر علی جواد ہسپتال میں شہید ہوگئے ہیں جبکہ سرحد پرگیٹ کی تعمیر پر شروع ہونے والی کشیدگی ابھی تک برقرار ہے یہ تنازعہ پاکستان کی جانب سے سرحد پر اپنی حدود کے اندر ایک دروازے کی تعمیر پر شروع ہوا اور اتوار سے پیر کی رات تک وقفے وقفے سے ہونے والے فائرنگ کے تبادلے میں اب تک پاکستانی اور افغان فوج کا ایک ایک رکن جاں بحق جبکہ 11 پاکستانیوں سمیت 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔فائرنگ کے تبادلے میں زخمی ہونے والے دیگر پانچ سکیورٹی اہلکاروں میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔دوسری جانب مقامی پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ طورخم پر غیر اعلانیہ کرفیو نافذ ہے جبکہ منگل کو بھی سرحد کی دونوں جانب سکیورٹی فورسز نے اپنی پوزیشنز سنبھال رکھی ہیں۔طورخم سرحد کے قریب واقع لنڈی کوتل شہر میں دو دن کے بعد کرفیو ختم کر دیا گیا ہے اور تاجروں کو کاروباری سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق سرحد بند ہونے کی وجہ سے دونوں جانب ٹرکوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں جبکہ پاکستان سے جانے والے وہ ٹرک واپس پشاور آ گئے ہیں جن پر خوراک لدی ہوئی تھی‘‘۔ تنازع کیا ہے؟ پاکستان سرحد پر اپنی حدود کے اندر گیٹ تعمیر کر رہا ہے اس پر افغانستان کو کیا مسئلہ ہے؟ یقیناًافغانستان کو مسئلہ ہے کہ اس کی سرزمین میں چھپے ہوئے دہشت گرد پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے لیے عمومی طور پر یہی راستہ اختیار کرتے ہیں۔جبکہ دہشت گردی اور سمگلنگ روکنے کے لیے طورخم بارڈر کو انٹری پوائنٹ بنانا پاکستان کے لیے ضروری ہے۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں سب سے زیادہ تقصان اٹھایا اور اس نقصان کی وجہ بھی افغانستان ہی ہے ۔اس جنگ میں اب تک پاکستان کے ساٹھ ہزار سے زائد شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے چھ ہزار فوجی بھی شامل ہیں۔ایک سو دس ارب ڈالر سے زائد معاشی نقصان اس کے سوا ہے۔افغانستان کو اس گیٹ کی تعمیر پر اتنا اشتعال کیوں ہے؟کیا کبھی پاکستان نے ان افغان شہریوں کو روکا جن کے پاس ضروری سفری دستاویزات ہوتی ہیں؟ہمیں معلوم ہے کہ پاک افغان سرحد پر روزانہ ہزاروں افغان و پاکستانی شہری سرحد کے آر پار آتے جاتے ہیں مگر پرمٹ کے ساتھ۔یہ بھی مگر سچ ہے کہ بھارتی دہشت گرد ایجنسی ’’را‘‘ اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی اینڈی ایس کے ایجنٹ بھی اسی راستے کو استعمال کرتے ہیں،اور افغانستان کے اشتعال کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اب اس کے اور را کے دہشت گرد ایجنٹ آسانی سے پاکستان داخل نہ ہو سکیں گے۔افغانستان پر بے شک پاکستان کے بے پناہ احسانات ہیں۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی بڑی بڑی وارداتوں کی پلاننگ نہ صرف افغانستان میں ہوئی بلکہ دہشت گردوں کو افغانستان میں حکومت کی طرف سے پناہ بھی ملی ہوئی ہے۔ مثلاً مولوی فضل اللہ۔حامد کرزئی ہو یا اشرف غنی یا عبد اللہ عبد اللہ، سب کے منہ میں بھارت کی زبان ہے۔طورخم بارڈر پر سرحدی گیٹ کی تعمیر پاکستان کا حق ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت پاکستان کو اس حق سے محروم نہیں کر سکتی چہ جائیکہ افغانستان کے ہیروئن فروش پاک فوج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔اگر پاکستانی قوم افغانوں کے لیے لڑ سکتی ہے تو کیا اپنے لیے نہیں لڑے گی؟افغانستان کو اپنی حیثیت دیکھ کر قدم اٹھانا چاہیے۔ہاں مگر یہ بھارت کی پالیسی ہے کہ پاکستان کو مغربی سرحد پر مصروف کر دیا جائے۔ہمارے پالیسی سازوں کو اس طرف البتہ توجہ کی ضرورت ہے۔دشمن انھیں ہمارے خلاف صف آرا کر چکا ہے جن کے لیے ہم نے اپنے معاشرے کا سکون برباد کیا اور قربانیاں دیں۔دہشت گردوں کی نرسریاں رکھنے والا افغانستان یہ سمجھتا ہے کہ وہ را کے ساتھ مل کر سی پیک کو ختم کرا لے گا ایسا مگر قطعی نہیں ہو گا اور ہم اس کے لیے ہر قیمت چکانے کو تیار ہیں۔یہ بھارت بھی جانتا ہے۔اس کے دوست بھی جان لیں ۔{jcomments on}

اپنا تبصرہ بھیجیں