سوشل میڈیا کا استعمال

آج ہم دیکھتے ہیں دنیا بھر سمیت ملک پاکستان میں بھی سوشل میڈیا سستا اور ہر ایک کی پہنچ میں بآسانی دستیاب ہے جہاں ایک طرف اسکا استعمال فائیدہ مند ثابت ہوتا ہے اس سہولت سے ہر کوئی مستفید ہو رہا ہے ہر ایک کی ضرورت بن چکاہے بے شمار فوائد ہیں جیسا کہ آڈیو ویڈیو روابط کا یہ ذریعہ ہے آئن لائن کمائی کا ذریعہ ہے گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہوجاتاہے کسی بھی چیز کو تلاش کرنا آسان ہے آئن لائن کاروبار ادائیگی وغیرہ کرنے کی سہولت اسکے ذریعہ سے ممکن ہے وہاں دوسری طرف اسکے منفی اثرات بھی نظر انداز نہیں کئے جاسکتے

اسکے منفی استعمال کی وجہ سے اسکا وبال بھی ہے اسکی نتائج اثرات بھی بھیانک ہیں جہاں ایک طرف سوشل میڈیا خاندان ، نظام اور معاشرے کے لئے فائیدہ مند ثابت ہو رہاہے وہاں دوسری طرف معاشرے کے لئے سنگین صورتحال بھی اختیار کررہاہے جسکے لئے سخت قوانین کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مثال کے طور پر ضرورت سے زائد استعمال کرنے والے لوگ اپنی صلاحتوں سے محروم ہو رہے ہیں صحت پر برے اثرات ظاہر ہورہے ہیں انسان الذہنی دباؤ کا شکار ہوتاہے

دوسروں کی مصنوعی زندگی دیکھ کر آج کا نوجوان احساس کمتری ڈپریشن بے چینی اور عجیب سی کشمکش کا شکار ہے اعلی تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود ان بے حیاء لوگوں سے ملنے کا خواہشمند ہے بےحیائی فحاشی وغیرہ میں ملوث لوگوں سے متاثر ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد سوہ النور میں ہے جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ مسلمانوں میں بے حیائ پھیلے انکے لئے دنیا و آخرت میں دردناک عذاب ہے سوشل میڈیا میں اس قدر مصروف ہے کہ رشتوں کی پروا نہیں بس شہرت چاہیے اسکے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے فرائض واجبات اسلام اسلامی تعلیمات میں اعمال و افعال میں تعلیم و تربیت خاندانی تعلقات میں کوتاہی کررہاہے اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے پہلے جہاں اسلامی تعلیمات کے مطابق عمل کیاجاتا تھا

اب ہر وقت اسکا استعمال آمدو رفت میں اسکا بے دریغ استعمال رات گئے تک اس میں مصروف رہنا صبح دیر سے اٹھنا اور اٹھتے ساتھ ہی سب سے پہلے اسکا استعمال اسکے علاؤہ اسکا مصنوعی استعمال کرکہ دھوکہ دینا ڈیجیٹل فراڈ کرنا جھوٹی خبریں پھیلانا کسی کی عزت اچھالنا جعلی خبر اور جعلی تصویر بنا کر معاشرہ میں انتشار پھیلانا معاشرتی بگاڑ میں اپنا حصہ ڈالنا کردار کشی کرنا ہراساں کرنا مذاق اڑانا بلیک میلنگ کرنا کسی کی ذاتی معلومات کا غلط استعمال کرکہ لوگوں کو ذہنی اذیت میں مبتلاء کرنا شامل ہے

موجودہ دور میں سوشل میڈیا انسانی زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکاہے فیس بک انسٹا گرام ٹک ٹاک یوٹیوب وٹس ایپ سمیت دیگر پلیٹ فارم ہیں جہاں کروڑوں لوگ ایک دوسرے سے جڑے ہیں جہاں ان ذرائع نے ایک دوسرے کو دور سے قریب کردیا ہےوہاں اس نے قریب والے رشتوں کو دور بھی کردیاہے جہاں دوستوں سے رابطہ مضبوط کیا وہاں رشتوں کو نظر انداز بھی کیا جہاں قلیل وقت میں فائیدہ پہنچایا وہاں کثیر وقت کو اسکو دیکھنے میں صرف کیا آسان لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے

کہ جہاں ایک طرف اسکے مثبت استعمال نے انسان کو فائیدہ پہنچایا وہاں اس کے منفی استعمال نے معاشرے میں بہت سارے مسائل کو جنم دیا سنگین مسائل و نتائج کو رائج کیا مختصر لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا ایسی دو دھاری تلوار ہے جس کا درست استعمال معاشرے میں امن بھائی چارہ تعمیر وترقی کا ضامن ہے جبکہ منفی استعمال انسان کی بربادی و تباہی کا خیمہ ثابت ہو سکتا ہے سوشل میڈیا کا سب سے بڑا نقصان اسکا غلط اور زائد استعمال ہے

اس کا نقصان سب سے زیادہ تعلیم اور تعلیمی اداروں پر پڑتا ہے بے دریغ استعمال کی وجہ سے بچوں سمیت نوجوان نسل قیمتی وقت کا ایک بہت بڑا حصہ ضائع کردیتی ہے گھنٹوں بیٹھ کر غیر ضروری اور بے مقصد ویڈیو پوسٹ دیکھ کر وقت کا ضائع کرنا پھر اس کی وجہ سے تعلیم میں ناکامی کی صورت میں اسکے نتائج کا ظاہر ہونا کمزور کارکردگی پر پھر مایوسی کا اظہار کرنا حالانکہ اس عمر میں تعلیم پر توجہ کے ساتھ ساتھ کتب کے مطالعہ پر زیادہ سے زیادہ وقت صرف کرنا چاہیے لیکن انٹرنیٹ کے بتدریج استعمال کی وجہ سے وقت لایعنی سرگرمیوں کی نذر ہو جاتاہے جو بعد میں پچھتاوے کا سبب بنتاہے سوشل میڈیا پر آجکل کسی کی بھی کردار کشی کرنا ایک معمولی بات ہے

اے آئی سے تصویر اور ویڈیو بنا کر اسکا مذاق اڑایا جاتاہے بغیر تحقیق کے خبر بنا کر وائرل کی جاتی ہے جبکہ اسلام نے اس طرح کی باتوں سے سختی سے منع کیا ہے قانونی طور پر بھی یہ جرم ہے اور اسلام نے بھی اس طرح جھوٹ پھیلانے کو حرام قرار دیا ہے جیساکہ سورہ الحجرات میں ارشاد باری تعالیٰ ہے اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تم تک خبر لے کرآئے تو اسکی اچھی طرح تحقیق کرلیاکرو ایسا نا ہو کہ نادانستگی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچھتانا پڑے حدیث شریف میں بھی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ جو بات سنے آگے بیان کردے اگر کسی شخص کے بارے میں کوئی عیب بیان کیا بغیر تحقیق کہ سنی سنائی بات بیان کردی تو وہ غیبت اور بہتان بن جائے گا

جسکی کسی صورت بھی گنجائش باقی نہیں رہتی اسلام میں غیبت بہتان غلط افواء پھیلانا معاشرتی انتشار کا حصہ بننا فتنہ فساد پھیلانا منافقین کی علامات بیان کیا گیا ہے جو کسی مسلمان کو زیب میں دیتا ضرورت اس امر کی ہےکہ آج کہ اس جدید دور میں اس جدید سہولت سے فائیدہ اٹھایا جائے اسکا مثبت استعمال کیاجائے اگر اس کا مثبت استعمال کریں گئے تو اس سے ذاتی زندگی متاثر نہیں ہوگی اس کے ذریعہ سے تعلیمی اور پیشہ وارانہ سرگرمیوں میں بہتری لائی جاسکتی ہے اپنے کاروبار کی تشہیر کرکہ کم وقت میں بہت سارے لوگوں تک پہنچا جاسکتا ہے سوشل میڈیا کا استعمال ایک خاص وقت کا تعین کیا جاسکتا ہے جس سے قیمتی وقت بچایا جا سکتا ہے

اسے محض وقت گزارنے کے لئے استعمال کرنے کی بجائے اپنی صلاحتیں نکھارنے اپنے فن کو سنوارنے میں مہارتیں سیکھنے علمی مضامین لکھنے پڑھنے اور سمجھانے میں استعمال کیا جاسکتا ہے کوئی بھی تصویر خبر ویڈیو اسکو آگے بھیجنے سے قبل اسکی تصدیق کرنی چاہیے اسکی سچائی جاننے کی ہرممکن کوشش کرنی چاہیے اسکی جانچ کرنا انتہائی ضروری ہے افواہوں کی بجائے یقینی ماحول بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس جھوٹ کو روکا جاسکے اس زریعہ کو ہم اصلاحی ماحول میں ڈھال سکتے ہیں اسلامی اصلاحی خیالات کو لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں قرآن و حدیث کا پیغام عام کر سکتے ہیں معاشرہ کی بہتری کے لئے ایسا باتیں لکھیں اور بولیں جس سے معاشرہ کی اصلاح ہو اور لوگوں کو فائیدہ پہنچیں حدیث شریف میں بھی اآتاہے

لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے لوگوں کو فائیدہ پہنچائے سوشل میڈیا سے بناوٹی فالورز اکھٹے کرنے سے بہتر ہے قریبی رشتوں اور رابطوں کو مضبوط بنایا جائے اچھے تعلقات قائم کئے جائیں امن و امان اور بھائی چارہ کی فضاء قائم کی جائے اگر ہم یہ قدم اٹھاتے ہیں تو پھر اس زریعہ کا بہترین استعمال تصور ہو گا حال اور مستقبل میں اس سے بھرپور فائیدہ اٹھایا جا سکتا ہے ورنہ پھر اگر اسکے منفی استعمال کی روک تھام بروقت نا کی گئی تو پھر یہ نا صرف ہمارے لئے ہمارے معاشرے لئے ہمارے خاندانی نظام کے لئے وبال جان بنے گا بلکہ اس کے غلط استعمال سے دنیا و آخرت میں بھی رسوائی مقدر بنے گی