راجہ طارق محمود مرتضیٰ:کہوٹہ کی ترقی کا ایک قابلِ ذکر باب

ضلع راولپنڈی کی قدیم ترین، بڑی اور تاریخی تحصیل کہوٹہ قدرتی حسن، سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات، خوشگوار آب و ہوا اور بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ اپنی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی خوبصورتی کے باوجود یہ خطہ گزشتہ سات دہائیوں سے بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔ وقتاً فوقتاً منتخب نمائندے آتے رہے، ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات بھی ہوئے اور کچھ عملی کام بھی کیے گئے، لیکن بدقسمتی سے تحصیل کہوٹہ کے بنیادی مسائل آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔

کہوٹہ کی سیاسی اور ترقیاتی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو مختلف شخصیات نے اپنے اپنے ادوار میں کردار ادا کیا، تاہم راجہ طارق محمود مرتضیٰ کی خدمات اور ترقیاتی کوششوں کا ذکر خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ وہ ایک تعلیم یافتہ، سیاسی و سماجی شخصیت اور سیاسی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے مختلف سیاسی پلیٹ فارمز پر خدمات انجام دیں اور اپنے سیاسی روابط، انتظامی تجربے اور عوامی تعلقات کو علاقے کی ترقی کے لیے استعمال کیا۔ ان کی ایک نمایاں خوبی یہ رہی کہ انہوں نے کسی سرکاری عہدے پر نہ ہونے کے باوجود بھی دور دراز علاقوں میں بجلی کی فراہمی اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے کوششیں جاری رکھیں اور کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے میں کردار ادا کیا۔

بطور ٹاؤن ناظم ان کا دور اگرچہ مختصر تھا، لیکن اس مختصر عرصے میں کہوٹہ شہر اور گردونواح کے لیے متعدد اہم منصوبے شروع کروائے۔ کہوٹہ ہسپتال کے لیے ڈیجیٹل ایکسرے مشین کی فراہمی، سینیٹرز کے ذریعے فنڈز حاصل کرکے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی خوبصورت عمارت کی تعمیر اور دیگر عوامی فلاح کے منصوبے ان کی کوششوں کا حصہ رہے۔ تقریباً بائیس کروڑ روپے کی خطیر رقم سے کہوٹہ شہر کے لیے واٹر سپلائی اور سیوریج کے منصوبے بھی لائے گئے، جو اس وقت شہر کی بنیادی ضرورت تھے۔ تاہم بدقسمتی سے حکومت کی تبدیلی کے بعد ان منصوبوں کا تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔ کچھ کام ہونے کے بعد منصوبہ مطلوبہ انداز میں مکمل نہ ہو سکا اور اس کے حوالے سے کرپشن اور ناقص عمل درآمد کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ ایسے منصوبوں کی شفاف تحقیقات اور تکمیل وقت کی ضرورت ہے۔

راجہ طارق محمود مرتضیٰ نے کھیلوں کے فروغ پر بھی توجہ دی۔ ہائی سکول گراؤنڈ کے لیے تقریباً ستر لاکھ روپے فراہم کیے گئے اور اسے ایک خوبصورت اسٹیڈیم کی شکل دینے کے لیے عملی اقدامات کیے گئے۔ تعلیم کے شعبے میں متعدد سکولوں کی اپ گریڈیشن کے لیے کوششیں کی گئیں۔ بیور ہائی سکول سمیت مختلف تعلیمی اداروں کی ترقی اور بعض سکولوں کو کالج کا درجہ دلوانے کے لیے بھی کردار ادا کیا۔ شہر میں اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، مختلف سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور دیہی علاقوں میں ترقیاتی کام بھی ان کی ترجیحات میں شامل رہے۔

پنجاڑ، بیور اور دیگر دیہی یونین کونسلوں میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے عوام کو سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔ کہوٹہ شہر کے لیے فلٹریشن پلانٹ کی منظوری اور تنصیب بھی ایک اہم اقدام تھا۔ اسی طرح سبزی منڈی کا قیام ایک ایسا منصوبہ تھا جس کی ضرورت شہریوں کو طویل عرصے سے محسوس ہو رہی تھی۔ لاکھوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی یہ سبزی منڈی آج بھی موجود ہے، تاہم افسوس کہ متعلقہ انتظامیہ اسے اس انداز میں فعال نہیں بنا سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ شہر میں عوامی سہولت کے لیے بیت الخلا کی تعمیر، کہوٹہ کلب کی اپ گریڈیشن اور دیگر کئی منصوبوں میں بھی ان کی کوششیں شامل رہیں۔

یہ تمام منصوبے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر کسی شخصیت کے پاس وژن، سیاسی روابط، انتظامی سمجھ بوجھ اور عوامی خدمت کا جذبہ ہو تو مختصر وقت میں بھی علاقے کی ترقی کے لیے قابلِ ذکر کام کیے جا سکتے ہیں۔ راجہ طارق محمود مرتضیٰ مختلف سیاسی جماعتوں اور پلیٹ فارمز سے وابستہ رہے، جبکہ آر ڈی اے راولپنڈی کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی انہوں نے ضلع راولپنڈی میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے کردار ادا کیا۔ ان کے سیاسی و انتظامی تجربے اور مختلف طبقات سے روابط کو علاقے کے لیے ایک اہم اثاثہ سمجھا جا سکتا ہے۔

تاہم ان خدمات کا ذکر کرتے ہوئے یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ کہوٹہ آج بھی بنیادی مسائل سے دوچار ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ صحت کا ہے۔ تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کہوٹہ کی خوبصورت اور وسیع عمارت موجود ہے، مگر عوام کو اس کے مطابق طبی سہولیات میسر نہیں۔ ڈاکٹرز کی کمی، آپریشن کی محدود سہولیات، ادویات کی عدم دستیابی، چوبیس گھنٹے فعال آپریشن تھیٹر کا نہ ہونا، ایمبولینس سروس کی کمی، ڈسپنسرز اور کلرکوں کی عدم دستیابی جیسے مسائل عوام کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔ ڈیجیٹل ایکسرے اور الٹراساؤنڈ جیسی جدید تشخیصی سہولیات کی عدم دستیابی یا عدم فعالیت بھی مریضوں کو دوسرے شہروں کا رخ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ لوگ معمولی علاج اور آپریشن کے لیے بھی راولپنڈی اور اسلام آباد جانے پر مجبور ہیں۔

اسی طرح تعلیم کے شعبے میں بھی کہوٹہ پیچھے ہے۔ اتنی بڑی تحصیل میں آج تک کوئی یونیورسٹی قائم نہیں ہو سکی۔ اعلیٰ تعلیم کے لیے نوجوانوں کو دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ بوائز کالج کے انتظامی معاملات اور تعلیمی سہولیات میں بہتری کی بھی ضرورت ہے۔ کہوٹہ بائی پاس کا منصوبہ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا، جبکہ دیگر اہم سڑکوں اور رابطہ شاہراہوں کے منصوبے بھی تاخیر کا شکار ہیں۔ نئے سیالہ اوور ہیڈ برج اور ترکھیاں روڈ سمیت مختلف منصوبوں کی رفتار عوام کے لیے سوالیہ نشان ہے۔

ہمارے ہاں ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر بھی ایک بڑا المیہ ہے۔ جو منصوبے ابتدا میں پانچ یا چھ ارب روپے کی لاگت سے مکمل ہو سکتے ہیں، وہ ناقص منصوبہ بندی، عدم دلچسپی اور تاخیر کے باعث پچیس سے تیس ارب روپے تک پہنچ جاتے ہیں۔ اس کا نقصان براہ راست قومی خزانے اور عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کو سیاسی تبدیلیوں سے بالاتر رکھا جائے اور ان کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جائے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کہوٹہ کے ان مسائل کا مستقل حل کیا ہے؟ میری نظر میں اس کا ایک بنیادی حل مضبوط، بااختیار اور فعال بلدیاتی نظام ہے۔ راجہ طارق محمود مرتضیٰ کے دور میں ہونے والے ترقیاتی کام اس بات کی مثال ہیں کہ مقامی سطح پر اختیارات اور وسائل میسر ہوں تو عوامی ضروریات کے مطابق منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں بدقسمتی سے بلدیاتی نظام کو کبھی مستقل بنیادوں پر پنپنے نہیں دیا گیا۔ ہر نئی حکومت آتے ہی سابقہ بلدیاتی نظام کو ختم کرکے اپنی مرضی کا نظام متعارف کرانے کی کوشش کرتی ہے۔ نتیجتاً منتخب نمائندوں کی مدت پوری نہیں ہوتی، ترقیاتی منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں اور عوام ایک بار پھر مسائل کے گرداب میں پھنس جاتے ہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ کہوٹہ کے دیگر منتخب نمائندوں نے بھی اپنے اپنے ادوار میں ترقیاتی کام کروائے ہیں۔ کسی ایک شخصیت کو تمام ترقی کا واحد ذریعہ قرار دینا درست نہیں، لیکن راجہ طارق محمود مرتضیٰ کی خدمات، ان کے مختصر دور میں شروع ہونے والے منصوبوں اور عہدے کے بغیر بھی علاقے کے لیے کوششوں کو ضرور سراہا جانا چاہیے۔

کہوٹہ کو اب محض اعلانات اور وعدوں کی نہیں بلکہ ایک مستقل ترقیاتی وژن کی ضرورت ہے۔ ہسپتال کو مکمل فعال کرنا، ڈاکٹرز اور طبی عملہ فراہم کرنا، یونیورسٹی کا قیام، بائی پاس اور دیگر زیر التوا منصوبوں کی تکمیل، واٹر سپلائی اور سیوریج کے نظام کی بہتری اور دیہی علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیحات ہونی چاہئیں۔

راجہ طارق محمود مرتضیٰ جیسے تجربہ کار سیاسی و سماجی افراد کا کردار اس حوالے سے اہم ہو سکتا ہے، جو اپنے تجربے، روابط اور انتظامی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے کہوٹہ کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ تاہم اصل ضرورت ایسی پالیسیوں اور اداروں کی ہے جو کسی ایک فرد یا حکومت کی محتاج نہ ہوں۔

میرا ماننا ہے کہ جب تک بلدیاتی نظام کو آئینی تحفظ، انتظامی خودمختاری، مناسب فنڈز اور حقیقی اختیارات نہیں دیے جائیں گے، اس وقت تک عوام کے بنیادی مسائل مستقل بنیادوں پر حل نہیں ہو سکتے۔ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اپنی مدت پوری کرنے دی جائے اور انہیں عوام کے سامنے جواب دہ بنایا جائے۔

کہوٹہ کسی خصوصی رعایت کا نہیں بلکہ اپنے جائز حق کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کے پہاڑ، جنگلات اور قدرتی حسن اس کی پہچان ضرور ہیں، لیکن یہاں کے عوام کو بھی معیاری تعلیم، صحت، صاف پانی، بہتر سڑکوں اور باعزت زندگی کا حق حاصل ہے۔ راجہ طارق محمود مرتضیٰ کی ترقیاتی خدمات کو ایک مثال بناتے ہوئے ضروری ہے کہ کہوٹہ میں ترقیاتی عمل کو شخصیات سے آگے بڑھا کر اداروں کے ذریعے مستقل بنایا جائے۔ ستر سالہ محرومیوں کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب مضبوط بلدیاتی نظام قائم ہو، مقامی قیادت کو اختیارات ملیں اور عوامی مسائل کو سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر حل کیا جائے۔