بھارتی گیدڑ بھبھکیاں، پاکستان کا ردعمل اور علاقائی امن!/طاہر یاسین طاہر

امن انسانی ضروریات میں سے بنیادی ضرورت ہے۔یہی وہ شے ہے جس کے ہوتے ہوئے ملکوں اور اقوام پر ترقی و خوشحالی کے در وا ہوتے ہیں۔اسی جنسِ گراں مایہ کی موجودگی میں تخلیقی صلاحیتوں کوجِلا ملتی ہے اور نئے نئے شہکار تخلیق ہوتے ہیں۔یہ بات مگر متشدد ذہن کے ساتھ جوان ہونے والا کبھی نہ سمجھ پائے گا۔احساسِ کمتری یا برتری کا احساس انسانی رویوں اور اخلاقیات پر گہرا اور منفی اثر ہی ڈالتا ہے۔توازن اور اعتدال کو اسی لیے گہر نایاب کہا گیا کہ اس کے ہوتے انسان’’آپے سے باہر‘‘ نہیں ہوتا۔بے شک کسی بھی قوم کا رہنما ایک معتدل مزاج انسان ہی ہونا چاہیے۔یہ بحث اپنی جگہ موجود ہے کہ اعتدال پسند قوم کو اگر کسی بیرونی دشمن کی جارحیت کا سامنا ہو تو پھر اس کے رہنما کا مزاج اور آہنگ کیسا ہونا چاہیے؟اس میں دیکھنا پڑے گا کہ کیا واقعی کسی قوم یا ملک کو بیرونی جارحیت کا سامنا ہے یا انھیں اپنے کیے کے ردعمل کاسامنا ہے؟بھارت کے نئے منتخب وزیر ارعظم نریندرا مودی پاکستا ن اور مسلم دشمنی میں اپنی شہرت رکھتے ہیں۔صرف یہی ہی نہیں بلکہ ان کی پہچان یہ بھی ہے کہ وہ ایک ایسی جماعت کے ساتھ منسلک رہے جسے اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔یعنی تشدد اور انتہا پسندی مودی کے رگ و پے میں سمائی ہوئی ہے ۔مودی کی طرف سے بنگلہ دیش کے اندر کھڑے ہو کر 1971کی جنگ میں مشرقی پاکستان میں بھارتی مداخلت کا اعتراف از خود بھارت کے خلاف چارج شیٹ ہے،کہ اس نے علاقائی امن کو خراب کیا اور ہمسایہ ممالک کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچایا۔’’سرحد پار سے مداخلت ‘‘ اور کس چیز کا نام ہے؟پاکستان مگر ہنوز امن کی بات کرتا ہے کیونکہ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے۔لیکن بھارت ایسی ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر پا رہا اور اس کے وزیر اعظم سمیت اس کی کابینہ کے وزرا غیر ذمہ دارانہ بیان بازی کر کے ماحول کو گرم کر رہے ہیں جو کسی بھی طرح بھارت اور خطے کے مفاد میں نہیں ہے۔بھارت کی طرف سے میانمار کی طرز پر پاکستان کی سرحد کے اندر فوجی کارروائی کرنے کی دھمکی پر پاکستان کے وزیر داخلہ اور پاکستان فوج کی طرف سے شدید رد عمل ظاہر کیا گیا ہے۔کور کمانڈروں کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں بھارتی سیاست دانوں کے پاکستان کے بارے میں دیے جانے والے بیانات کو مایوس کن اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے خلاف قرار دیا ہے فوجی حکام نے کہا کہ یہ نہایت مایوس کن ہے کہ بھارتی سیاست دان نہ صرف ایسے اقدامات میں ملوث ہو رہے ہیں جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے بلکہ وہ دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا دعویٰ فخریہ طور پر کر رہے ہیں۔دریں اثنا وزارتِ داخلہ نے بھی اسی بارے میں اپنا بیان جاری کیا تھا۔ جس میں وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف غلط عزائم رکھنے والے کان کھول کر سن لیں، پاکستانی افواج ہر قسم کی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں دریں اثنا پاکستانی دفترِ خارجہ نے رواں ہفتے بھارتی رہنماؤں کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے اس معاملے کو اقوامِ متحدہ سمیت ہر بین الاقوامی فورم پر لے جانے کا اعلان کیا ہے۔یہ بات دفترِ خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے اسلام آباد میں جمعے کی صبح ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہی۔دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان جانتا ہے کہ اسے کسی بھی خطرے سے کیسے نمٹنا ہے اور وہ کسی کو بھی بھرپور انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان ایک امن پسند ملک ہے مگر وہ اپنے مفادات اور سالمیت کی حفاظت کے لیے ہر قسم کے اقدامات اٹھائے گا۔اس امر میں کلام نہیں کہ مودی کی آتے ہی بھارت جارحیت کے مظاہرے کرتا چلا آرہا ہے۔پہلے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے واقعات اور اب جارحانہ بیان بازی۔بھارتی رویہ نہ صرف بھارت کے مفاد میں نہیں بلکہ اس سے خطے کا امن بھی داؤ پر لگا ہوا ہے۔بھارت کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان بھی ایک ایٹمی ملک ہے اور اگر اس نے سرجیکل سٹرائیک کی غلطی کی تو پاکستان اس کا بھرپور جواب دے گا۔جنگ اپنی مرضی سے شروع توکی جا سکتی ہے مگر نہ تو اسے اپنی مرضی سے ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے مرضی کے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔بھارت اگر اقوام متحدہ کی مستقل سیٹ چاہتا ہے تو اس کے لیے اسے پہلے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ واقعی ایک ذمہ دار ملک ہے۔ہمسائے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور وہاں ریاست مخالف عناصر کی تشکیل بھارتی شدت پسندانہ عزائم کا ایسا اظہار ہے جو دنیا بھر کے امن پسندوں کے لیے لمحہء فکریہ ہے۔بعض تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ مودی جو اپنا معاشی ایجنڈا لے کر آئے تھے وہ ناکام ہوتا نظر آرہا ہے اس لیے وہ اپنی جنتا کو خوش کرنے کی خاطر پاکستان مخالف بیانات دے رہے ہیں جبکہ ایسا بالکل نہیں ہے۔مودی کا ایجنڈا کل بھی واضح تھا اور آج تو بالکل آشکار۔وہ ہندو انتہا پسندانہ تنظیموں کا ووٹ لے کر آئے ہیں اور ہر انتہا پسند گروہ یا تنظیم کا اپنا ایک منفی ایجنڈا ہوتا ہے۔مودی کا ایجنڈا نہ صرف بھارت بلکہ خطے اور پوری دنیا کے لیے خطرہ بنتا چلا جا رہا ہے جس پر اقوامِ عالم کو حرکت میں آنا چاہیے۔{jcomments on}

اپنا تبصرہ بھیجیں