ایک زرداری سب پہ بھاری

ڈائرییہ تو اپ کو معلوم ہی ہوگا کہ پاکستان کی سیاست میں صدر آصف علی زرداری مفاہمت کے بادشاہ جانے مانے جاتے ہیں اور ان کے حوالے سے یہ بھی بولا جاتا ہے کہ “ایک زرداری سب پہ بھاری” اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ موصوف کی جسامت و قد دوسروں سے زیادہ ہے یا پھر گوشت یا وزن کے اعتبار سے وہ باقیوں پر بھاری ہیں۔ درحقیقت اس سے مراد سردار آصف علی زرداری کی وفاقیت و پاکستانیت ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ صدر زرداری نے جو بھی سمجھوتے کیے ہیں اور جب بھی مفاہمت فرمائی ہے مضبوط فیڈریشن کی خاطر ہی تو وہ یہ سب کرتے رہے ہیں۔ ممبران پارلیمان کی خواہش و کوشش اور مطالبے و التجا کے بغیر صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان نے 58 ٹو B کی بدولت ایک بے توقیر و کمزور پارلیمنٹ کو عزت و عظمت دے کر طاقتور بنا دیا، بھلا کوئی اپنا اختیار اور ہتھیار کب دوسروں کو دیتا ہے۔؟ جبکہ دوسری جانب 18 ویں ترمیم کا سہرا بھی صدر آصف علی زرداری کے سر ہی سجتا ہے۔ بلاشبہ میرے دیس و سماج کی سیاست میں صدر زرداری جیسا زیرک و ذہین، حکمت و فراست اور تحمل و تدبر والا سیاسی لیڈر کوئی نہیں ہے۔ میرا اپنا ہی ایک شعر ہے کہ

اپنے خون سے امر کیا ہے حق کی تاریخ کو تُو نے
ضیائی ظلمت کٹی کیسے راستہ پایا خوشبو نے

میرے پاکستان میں مدتوں سے ایک عام پاکستانی کی سوچ سلسلوں پر پہرے ہیں اور پابندیاں بھی لیکن ہر ذی شعور و باخبر بندہ یہ بات بخوبی جانتا سمجھتا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید بی بی رانی کی شہادت کے فوراً بعد ہمارے ملکی حالات بگڑ کر جس نہج پہ پہنچ چکے تھے انہیں کنٹرول کر نا، یعنی تعصب و نفرت کو مٹا کر محبت و امن و امان بحال کرنا بڑا ہی “اُوکھا” کام تھا لیکن سردار آصف علی زرداری جی نے ان مشکل ترین حالات میں بھی “پاکستان کھپے” کی فکر کو امر فرما کر یہ ثابت کر دکھلایا تھا کہ ان سے بڑھ کر حکمت و ذہانت اور وفاقیت و پاکستانیت شاید کسی اور میں نہیں ہے۔ سوچنا یہ بھی ہے کہ صدر زرداری نے اس ملک و قوم کی خاطر کیا کچھ کیا ہے اور ہم نے انہیں کیا دیا ہے، “مسٹر 10 پرسنٹ” کے طعنوں اور “بمبینو سینما کے ٹکٹ” گالیوں کے سوا، حالانکہ یہ سب باتیں ایک میڈیا ٹرائل کا نتیجہ تھیں اور سازشیں تھیں، ایک شیر بہادر سردار کے خلاف جس کا حقیقت و سچائی کے ساتھ دور دور تلک کوئی واسطہ ہی نہ تھا۔ یہ سب “قطری خط” کے لیول کے جھوٹ ہیں اور جعلسازی بھی جو ہماری بے مروت و بے حس ہسٹری کا حصہ ہے ۔ درحقیقت صدر زرداری ایک ایسے زمیندار، سردار کے بیٹے ہیں جن کی امارت و سخاوت پورے سندھ میں مشہور ہے ، جیسے سونے کا نوالہ منہ میں لے کر پیدا ہونے والے آصف سخی سردار کو ٹکٹ بلیک کرنے والا کہنا اور گھٹیا الزامات دینا کسی آدمی کے اندر من کے مندر کی نفرت و جہالت کے سوا کچھ نہیں ۔ بقول اقبال۔

نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے پاکستان والو !
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

صدر زرداری کو “کیپٹن صفدر” ثابت کرنے کے لیے ماضی میں ایک نہیں کئی ایک افواہ ساز فیکٹریاں سرگرم رہیں، اس حقیقت کو جھٹلانے کے لیے کہ دُختر مشرق اپنے شوہر کی بے حد تعظیم و تکریم کرتی ہیں اور احترام و مقام دیتی ہیں ۔ شاید بہت ہی کم لوگ اس حقیقت سے آشنا ہوں گے کہ صدر زرداری میں اگر کسی بڑے منصب کی بھوک ہوتی تو وہ شہید بی بی رانی کی زندگی میں ہی ہر بڑے سے بڑا عہدہ حاصل کر سکتے تھے ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو بی بی رانی کو شہید کرنے والے رجعت پسند اس قتل کا اعتراف بھی کر چکے ہیں ، انہوں نے اپنی کتب تک میں لکھ دیا کہ ہم ہیں قاتل بے نظیر کے لیکن اس کے باوجود بھی ایسے جاہل اور بے خبرے پٹواری بھی ہیں جو یہ کہتے دیکھے سنے گئے ہیں کہ “بے نظیر کو اس کے شوہر نے مروایا ہے” صد افسوس و ماتم کے ہم اپنی ضد و انا اور عداوت و نفرت میں اندھے ہو کر کسی بھی انسان پہ کوئی بھی الزام تھوپنے سے پہلے سوچتے اور تولتے بالکل بھی نہیں ہیں۔ الغرض صدر آصف علی زرداری کے خلاف پراپیگنڈوں اور سازشوں کی ایک طویل داستان ہے جو کالم میں نہیں کتاب میں لکھنے کے لائق ہے۔ میں نے ماضی میں صدر زرداری کو منظوم خراج تحسین پیش کیا تھا، اس نظم کے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے۔

تو بہادر اور جُرات والا
ہمت طاقت حکمت والا
مول جھکایا سر نہ تُونے
کبھی کیا جبر نہ تُو نے
علم اور عدل عام کر دو
دیس عوام کےنام کر دو