ایک دیانت دار، فرض شناس، مثالی ماہرِ تعلیم اور باعمل دینی و سماجی رہنما

قوموں کی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہد سے آگے بڑھ کر آنے والی نسلوں کے لیے کردار، دیانت، خدمت اور اخلاص کی روشن مثال بن جاتی ہیں۔ وہ اپنے عہدے، شہرت یا دولت سے نہیں بلکہ اپنے کردار، عمل اور عوامی خدمت سے پہچانی جاتی ہیں۔ ضلع تلہ گنگ کی ایسی ہی ایک باوقار اور قابلِ احترام شخصیت ملک محمد نواز مرحوم تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی وطن کی خدمت، تعلیم کے فروغ، دینِ اسلام کی اشاعت، خدمتِ خلق اور اعلیٰ اخلاق کے لیے وقف کیے رکھی۔ وہ ایک بہادر سپاہی، مثالی استاد، فرض شناس تعلیمی منتظم، باعمل دینی رہنما اور نہایت سادہ و باکردار انسان تھے۔ ملک محمد نواز مرحوم 1928ء میں ضلع تلہ گنگ کے گاؤں ڈھلی میں ایک علمی اور باوقار خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم ملک غلام محمد مرحوم ایک ممتاز ماہرِ تعلیم تھے اور گورنمنٹ سکول میں ہیڈماسٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ اسی طرح ان کے سسر ملک کرم الٰہی مرحوم بھی ایک باوقار ہیڈماسٹر تھے۔ یوں تعلیم، تربیت، دیانت اور کردار سازی کی روایت انہیں خاندانی ورثے میں ملی، جسے انہوں نے اپنی پوری زندگی نہایت کامیابی سے آگے بڑھایا۔


ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہو کر پاکستان نیوی میں شمولیت اختیار کی۔ نیوی میں دورانِ ملازمت انہوں نے عسکری ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم بھی جاری رکھی اور بی۔ایڈ (B.Ed) کی ڈگری حاصل کی۔ مسلسل محنت، قابلیت، نظم و ضبط اور بہترین کارکردگی کی بدولت وہ چیف پیٹی آفیسر کے عہدے تک پہنچے اور 1969ء میں باعزت طور پر ریٹائر ہوئے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے شعبۂ تعلیم کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور محکمۂ تعلیم میں گورنمنٹ مڈل سکول چمچہ تلہ گنگ میں ہیڈماسٹر مقرر ہوئے، لیکن ابھی وہ نئی نسل کی تعلیم و تربیت میں مصروف ہی تھے کہ 1971ء میں پاک بھارت جنگ چھڑ گئی۔ پاکستان نیوی نے دوبارہ انہیں طلب کیا تو انہوں نے ذاتی آسائش یا ملازمت کو ترجیح دینے کے بجائے وطن کی آواز پر لبیک کہا اور دوبارہ نیوی میں شامل ہو کر دفاعِ وطن کا فریضہ انجام دیا۔

جنگ کے دوران وہ دشمن کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے اور انہیں چٹاگانگ میں قید رکھا گیا۔ اسیری کی صعوبتیں کسی بھی انسان کے حوصلے کو متزلزل کر سکتی ہیں، لیکن ملک محمد نواز مرحوم نے نہ صرف صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا بلکہ اس مشکل دور کو دعوت و اصلاح کا ذریعہ بنا دیا۔ انہوں نے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی شہرۂ آفاق تفسیر تفہیم القرآن کا باقاعدہ درس شروع کیا، جو ان کا روزانہ کا معمول بن گیا۔ وہ اپنے ساتھی قیدیوں کو قرآنِ مجید کی تعلیمات سے روشناس کراتے، انہیں اللہ تعالیٰ پر توکل، صبر اور استقامت کی تلقین کرتے اور مایوسی کے ماحول میں امید کی شمع روشن رکھتے تھے۔ ان کی یہ دینی خدمات اسیری کے ایام میں قیدیوں کے لیے روحانی سکون اور حوصلے کا عظیم ذریعہ ثابت ہوئیں۔ 1974 میں شملہ معاہدے کے تحت بنگلہ دیش سے رہا ہو کر گھر واپس آے۔

ملک محمد نواز مرحوم کو مطالعے اور کتب بینی سے غیر معمولی شغف تھا۔ وہ اپنی مصروف زندگی میں بھی روزانہ مطالعے کے لیے وقت ضرور نکالتے تھے۔ انہوں نے اپنی ذاتی لائبریری قائم کر رکھی تھی، جس میں دینی، تعلیمی، تاریخی، ادبی اور فکری موضوعات پر سیکڑوں کتب موجود تھیں۔ خصوصاً مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی رحمہ اللہ کی تصانیف سے انہیں بے حد محبت تھی۔ شاید ہی مولانا مودودیؒ کی کوئی ایسی کتاب ہو جو ان کی ذاتی لائبریری میں موجود نہ ہو۔ وہ ان کتابوں کا بار بار مطالعہ کرتے، ان سے رہنمائی حاصل کرتے اور دوسروں کو بھی کتاب بینی اور علم حاصل کرنے کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کا یہی علمی ذوق بعد میں ان کی تدریسی، دعوتی اور دینی خدمات میں نمایاں طور پر نظر آیا۔

جنگ اور اسیری سے وطن واپسی کے بعد محکمۂ تعلیم نے انہیں دوبارہ گورنمنٹ مڈل سکول ڈھلی تلہ گنگ میں ہیڈماسٹر کے منصب پر تعینات کیا۔ انہوں نے پہلے سے زیادہ جذبے، لگن اور خلوص کے ساتھ نئی نسل کی تعلیم و تربیت کا بیڑا اٹھایا اور ثابت کیا کہ ایک سچا معلم حالات کی سختیوں سے نہیں بلکہ اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے۔
گورنمنٹ مڈل سکول چمچہ (تلہ گنگ) میں بطور ہیڈماسٹر انہوں نے اپنی انتظامی صلاحیتوں، تدریسی مہارت اور بہترین نظم و ضبط سے ادارے کی کارکردگی میں نمایاں بہتری پیدا کی۔ انہوں نے گورنمنٹ مڈل سکول تھٹی تحصیل فتح جنگ میں بھی اپنی خدمات سرانجام دیں۔بعد ازاں انہیں اپنے آبائی علاقے کے گورنمنٹ مڈل سکول ڈھلی میں ہیڈماسٹر مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے علاقے کے بچوں کو معیاری تعلیم کی فراہمی، اساتذہ کی تربیت اور تعلیمی ماحول کی بہتری کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔ ان کی دیانت داری، بہترین کارکردگی اور غیر معمولی انتظامی صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں ترقی دے کر اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر (اے ای او) تلہ گنگ مقرر کیا گیا۔

بطور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر انہوں نے صرف دفاتر تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ تلہ گنگ کے دور افتادہ، دشوار گزار اور پسماندہ علاقوں میں واقع سکولوں کا بھی باقاعدگی سے معائنہ کیا، جہاں اس زمانے میں اکثر افسران جانے سے گریز کرتے تھے۔ وہ اچانک سکولوں کا دورہ کرتے، اساتذہ کی حاضری، طلبہ کی تعلیمی استعداد، صفائی، نظم و ضبط اور تدریسی معیار کا باریک بینی سے جائزہ لیتے اور جہاں کسی کمی کی نشاندہی ہوتی، اس کے فوری ازالے کی کوشش کرتے۔ ان کا مقصد صرف سرکاری کارروائی مکمل کرنا نہیں بلکہ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا اور ہر بچے تک معیاری تعلیم پہنچانا تھا۔

ملک محمد نواز مرحوم اپنی پوری ملازمت کے دوران وقت کی پابندی، دیانت داری، فرض شناسی اور اصول پسندی کی روشن مثال رہے۔ انہوں نے کبھی رشوت، سفارش یا اقربا پروری کو اپنے قریب نہ آنے دیا۔ ان کے نزدیک قانون، انصاف اور میرٹ سب کے لیے برابر تھے۔ اسی لیے اساتذہ، طلبہ، والدین اور عوام الناس ان کا بے حد احترام کرتے تھے اور آج بھی ان کا نام ایمانداری اور فرض شناسی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

ان کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو سادگی تھا۔ وہ نہایت منکسر المزاج، خوش اخلاق اور ملنسار انسان تھے۔ ہمیشہ صاف ستھرے سفید لباس زیبِ تن کرتے اور سکول یا باہر ہمیشہ سر پر جناح کیپ پہنتے تھے، جو ان کی مستقل شناخت بن چکی تھی۔ جبکہ گھر یا مسجد میں وہ پنجابی کھنڈوا پہنتے تھے۔ ان کی سادہ مگر باوقار شخصیت ہر دیکھنے والے کو متاثر کرتی تھی۔ وہ نمود و نمائش سے کوسوں دور رہتے اور اپنے عمل سے یہ پیغام دیتے تھے کہ اصل عزت انسان کے کردار، تقویٰ اور خدمتِ خلق میں ہے، نہ کہ ظاہری شان و شوکت میں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہوں نے آرام کو ترجیح نہیں دی بلکہ اپنی زندگی کا باقی حصہ دین اور معاشرے کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔ انہوں نے جماعتِ اسلامی کی باقاعدہ رکنیت اختیار کی اور پوری دلجمعی کے ساتھ دعوتِ دین، اصلاحِ معاشرہ اور فلاحی سرگرمیوں میں مصروف ہو گئے۔ ان کے اخلاص، دیانت اور قائدانہ صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں جماعتِ اسلامی ضلع چکوال کا نائب امیر منتخب کیا گیا۔ اس حیثیت سے انہوں نے تنظیمی ذمہ داریاں نہایت حسن و خوبی سے انجام دیں اور کارکنان کی تربیت، دعوتی سرگرمیوں اور عوامی مسائل کے حل میں بھرپور کردار ادا کیا۔

آپ گاؤں ڈھلی کی زکوٰۃ و عشر کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے۔ ان کی دیانت داری، شفاف کردار اور غیر جانبداری پر عوام کا اس قدر اعتماد تھا کہ اس وقت کی بڑی سیاسی جماعتیں، مسلم لیگ اور پاکستان پیپلز پارٹی، دونوں اس بات کی خواہش مند تھیں کہ زکوٰۃ کمیٹی کی سربراہی ملک محمد نواز ہی کے پاس رہے۔ یہ ان کی ساکھ، امانت داری اور عوامی مقبولیت کا عملی اعتراف تھا۔

دینی میدان میں بھی ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ انہوں نے اپنے گاؤں کی مسجد میں تقریباً پینتیس سال تک بلا معاوضہ جمعہ اور عیدین کی امامت و خطابت کے فرائض انجام دیے۔ اسی مسجد میں درسِ قرآن کا باقاعدہ سلسلہ بھی جاری رکھا، جہاں وہ قرآنِ مجید کی تعلیمات کو عام فہم انداز میں بیان کرتے، لوگوں کی دینی رہنمائی کرتے اور نوجوان نسل کی اخلاقی و روحانی تربیت کا اہتمام کرتے تھے۔ ان کی گفتگو میں اخلاص، محبت اور عمل کی دعوت نمایاں ہوتی تھی، جس کی وجہ سے لوگ بڑی توجہ سے ان کے دروس سنتے تھے۔

ملک محمد نواز مرحوم اپنے آبائی گاؤں ڈھلی کے نمبردار بھی رہے۔ اس منصب پر رہتے ہوئے انہوں نے ہمیشہ انصاف، دیانت اور عوامی خدمت کو مقدم رکھا۔ وہ لوگوں کے باہمی تنازعات خوش اسلوبی سے حل کراتے، صلح صفائی کی کوشش کرتے اور ہر شخص کے ساتھ مساوی سلوک روا رکھتے تھے۔ ان کے فیصلوں پر عوام کو اعتماد تھا، کیونکہ وہ ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر صرف حق اور انصاف کی بنیاد پر رائے دیتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اپنے علاقے میں ایک باوقار، معتبر اور ہر دلعزیز شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ملک محمد نواز مرحوم کو چار بیٹوں سے نوازا، تاہم ان کا ایک بیٹا کم سنی ہی میں وفات پا گیا۔ انہوں نے اپنی اولاد کی ایسی دینی، اخلاقی اور تعلیمی تربیت کی جس میں ایمان، دیانت، وطن سے محبت، خدمتِ خلق اور اعلیٰ کردار کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اولاد نے بھی اپنے اپنے شعبوں میں خدمت اور دیانت کی اس روایت کو آگے بڑھایا۔
ان کے دوسرے صاحبزادے شبیر احمد ملک مرحوم جماعتِ اسلامی کے فعال رہنما اور تحریکِ محنت پاکستان ضلع راولپنڈی کے صدر رہے۔ وہ ایک باصلاحیت، مخلص، نڈر اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے کارکن تھے۔ انہوں نے مزدوروں کے حقوق، سماجی انصاف اور دینی و ملی خدمات کے لیے بھرپور کردار ادا کیا، لیکن برین ٹیومر کے باعث 2001ء میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ ان کی وفات جماعتِ اسلامی، تحریکِ محنت اور اہلِ علاقہ کے لیے ایک بڑا صدمہ تھی۔

ان کے بڑے صاحبزادے ملک محمد مسعود اختر حبیب بینک لمیٹڈ میں منیجر کی حیثیت سے باعزت ریٹائرمنٹ کے بعد آج کل تلہ گنگ میں مقیم ہیں اور سماجی و رفاہی سرگرمیوں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جبکہ ان کے سب سے چھوٹے صاحبزادے نذیر احمد ملک پاک فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد راولپنڈی میں مقیم ہیں۔ وہ جماعتِ اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے دینی، سماجی اور فلاحی خدمات میں بھرپور حصہ لے رہے ہیں اور عوامی خدمت کو اپنی زندگی کا شعار بنائے ہوئے ہیں۔

یہ درحقیقت ملک محمد نواز مرحوم کی بہترین تربیت کا نتیجہ ہے کہ ان کی اولاد آج بھی ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے معاشرے کی خدمت میں مصروف ہے۔ ایک باکردار باپ کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ اس کی تربیت آنے والی نسلوں میں بھی نظر آئے، اور ملک محمد نواز مرحوم اس اعتبار سے ایک کامیاب باپ بھی تھے۔
ملک محمد نواز مرحوم کی پوری زندگی اس حقیقت کی آئینہ دار ہے کہ عظمت کا معیار دولت، منصب یا شہرت نہیں بلکہ کردار، دیانت، اخلاص اور خدمتِ خلق ہے۔ انہوں نے ایک بہادر سپاہی کی حیثیت سے وطن کا دفاع کیا، ایک مثالی استاد کی حیثیت سے ہزاروں طلبہ کی تعلیم و تربیت کی، ایک کامیاب تعلیمی منتظم کے طور پر تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے انتھک محنت کی، ایک مخلص دینی رہنما کی حیثیت سے دعوتِ دین اور اصلاحِ معاشرہ میں اپنا کردار ادا کیا، اور ایک سماجی شخصیت کے طور پر ہمیشہ انسانیت کی خدمت کو ترجیح دی۔

ان کی سادہ زندگی، سفید لباس، سر پر جناح کیپ، ہاتھ میں کتاب، زبان پر قرآن و سنت کی بات اور دل میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا جذبہ ان کی شخصیت کا ایسا حسین امتزاج تھا جس نے ہر ملنے والے کو متاثر کیا۔ وہ اپنے قول سے زیادہ اپنے عمل سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے، اسی لیے آج بھی انہیں محبت، احترام اور عقیدت سے یاد کیا جاتا ہے۔

ایسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں جو اپنے کردار سے معاشرے پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ ملک محمد نواز مرحوم بھی انہی شخصیات میں سے ایک تھے۔ ان کی عسکری خدمات، تعلیمی اصلاحات، دینی وابستگی، علمی ذوق، وسیع مطالعہ، انتظامی صلاحیت، دیانت داری، انصاف پسندی اور خدمتِ خلق کا جذبہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی زندگی نوجوان نسل، اساتذہ، سرکاری ملازمین، دینی کارکنوں اور سماجی رہنماؤں کے لیے ایک روشن مثال اور مشعلِ راہ ہے۔

ان کا انتقال اگست 2009 میں ہوا۔ آج اگرچہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کا کردار، ان کی خدمات، ان کی دعائیں، ان کی تربیت اور ان کے چھوڑے ہوئے علمی و اخلاقی نقوش ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہی کسی انسان کا اصل سرمایہ اور بہترین صدقۂ جاریہ ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ملک محمد نواز مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی تمام دینی، تعلیمی، عسکری اور سماجی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت عطا فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی اولاد اور اہلِ خانہ کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں بھی ان جیسی دیانت داری، اخلاص، خدمتِ خلق اور دین سے وابستگی والی زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین