
انسان کی حرص اس کا مزاج اور دوسروں پر حکومت کرنے کا غرور ہمارے سماج کا دستور بن چکا ہے ۔معمولی سا اخیتار رکھنے والا بھی خود کو اس قدر طاقت ور تصور کرتا ہے کہ اسے عام انسان کیڑے مکوڑے نظر آتے ہیں ایسے لوگ کائنات کی خوبصورتی کو اپنے گھناونے اعمال وفعل سے بدصورتی میں بدلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ۔قومی خزانے سے سیاسی رشوتوں ۔نااہلوں اور نالائقوں کی تقرریاں ۔عوام کے لیے عذاب بن چکی ہیں سرکاری ملازمین خادم کے بجائے آقا بنے ہوئے ہیں معمولی سے معمولی سرکاری ملازم بھی خود کو بادشاہ سمجھتا ہے ۔
ایک حالیہ بین القوامی سروے میں پاکستان کے کرپٹ اداروں کی درجہ بندی سامنے آئی ہے جس میں محمکہ پولیس کرپٹ ترین محکمہ بتایا گیا اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پولیس کا کردار معاشرے میں بہتری لانے کے بجائے معاشرے کو برائی میں دھکیلنے کا سبب بن رہا ہے ۔بڑے افسران سے لے کر ایک کانسٹبل تک کرپشن کی دلدل میں دھنسےہوئے ہیں ۔اپنے اختیارت سے تجاوز ان کے لیے قابل فخر بات ہے ۔جس سماج کو بالادست قوتوں نے جہالت کے درناک عذاب میں مبتلا کررکھا ہو وہاں زندگی کا کوئی صحت مند خواب نہیں دیکھا جاسکتا ۔اور نہ عام آدمی اس کا اختیار رکھتا ہے
ماضی سے موزانہ کریں تو آج معاشرتی اقدار بہت بدل چکی ہیں تحمل اور برداشت کا عنصر دم توڑ چکا ہے ماضی میں کہیں ناں کہیں ظلم وزیادتی کے خلاف داد،رسی کا امکان موجود ہوتا تھا آج جزا وسزا کی عملداری نہ ہونے کے برابر ہے یہی وجہ سے کہ سرکاری افسران اور ان کے نیچے تمام سرکاری ملازمین بے خوف وخطر عوام کی تذلیل کرتے نظر آتے ہیں ۔۔لیکن اس پرفتن دور میں بھی کچھ اچھا ہو ہی جاتا ہے گذشتہ دنوں تھانہ گوجرخان میں ایک کانسٹیبل کی جانب سے کسی مسلے پر تھانے بلوائے جانے والے شہری کے منہ پر چپل مارنے کی وڈیو وائرل ہوئی جو انتہائی افسوسناک واقعہ تھا ۔
چپل مارنے والے کانسٹیبل کے انداز سے محسوس ہوتا تھا کہ موصوف خود کو کسی سلطنت کا بادشاہ تصور کیے ہوئے ہے ۔جس کے نزدیک رعایا کی کوئی اہمیت نہیں ۔اس واقعہ کی سوشل میڈیا پر مذمت ہوئی اور اس بھرپور طریقے سے ہوئی کہ ناچاہتے ہوئے بھی بالا افسران کو اس پر انکوائری کروانا پڑی۔سی پی او حسن مشتاق سکھیرا کی جانب سے 30 اگست کے روز شہری کے منہ پر چپل مارنے والے کانسٹیبل احتشام کو فوری معطل کرتے ہوئے لائن حاضر کیا انکوائری میں اختیار کے ناجائز استعمال کا جرم ثابت ہونے پر مذکورہ کانسٹیبل کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ۔اگر قانون اپنا درست راستہ لے تو اور ایسے معاشرتی ناسوروں کو لگام دی جاسکتی .