اقبال کا نام برصغیر کی فکری، روحانی اور سیاسی تاریخ میں ایک ایسے درخشاں ستارے کی حیثیت رکھتا ہے جس کی روشنی وقت گزرنے کے ساتھ مدھم نہیں ہوئی بلکہ مزید نمایاں ہوتی گئی ہے۔ علامہ محمد اقبال نہ صرف ایک عظیم شاعر تھے بلکہ ایک ایسے مفکر بھی تھے جنہوں نے مسلمانوں کو اپنی شناخت، خودی اور فکری آزادی کا شعور دیا۔ ہر سال 21 اپریل کو ان کی برسی منائی جاتی ہے، اور یہ دن ہمیں محض ایک شخصیت کو یاد کرنے کا موقع نہیں دیتا بلکہ ان کے افکار کا جائزہ لینے اور انہیں موجودہ حالات پر منطبق کرنے کی دعوت بھی دیتا ہے۔
آج جب دنیا ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی، جنگی ماحول اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، تو اقبال کے نظریات کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعات نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہ جنگ صرف ہتھیاروں کی نہیں بلکہ نظریات، مفادات اور عالمی طاقت کے توازن کی جنگ ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقبال کا پیغام آج بھی ہمارے لیے رہنمائی فراہم کر سکتا ہے؟
اگر ہم موجودہ عالمی صورتحال کا تجزیہ کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا ایک نئے سرد جنگ جیسے ماحول میں داخل ہو چکی ہے۔ طاقتور ممالک اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے چھوٹے ممالک کو میدانِ جنگ بنا رہے ہیں۔ ایران پر دباؤ، اسرائیل کی عسکری کارروائیاں اور امریکہ کی مداخلت ایک ایسے دائرے کو جنم دے رہی ہیں جس کا اختتام کسی بڑے عالمی بحران پر بھی ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر عام انسان ہو رہا ہے، جس کی زندگی، گھر اور مستقبل سب کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔
اقبال نے اپنی شاعری میں بارہا اس بات پر زور دیا کہ قوموں کی تقدیر ان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو خودی کا درس دیا، جس کا مطلب صرف خود اعتمادی نہیں بلکہ اپنی اصل پہچان، اپنی طاقت اور اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہے۔ آج کے حالات میں اگر ہم اس تصور کو دیکھیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مسلم دنیا اپنی داخلی کمزوریوں، تقسیم اور عدم اتحاد کا شکار ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی سیاست میں ایک مضبوط کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔
موجودہ جنگی صورتحال کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں میڈیا اور معلومات کا کردار انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ ہر فریق اپنی بات کو درست ثابت کرنے کے لیے بیانیہ تشکیل دے رہا ہے۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں، ویڈیوز اور تجزیوں نے حقیقت اور فریب کے درمیان فرق کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ اقبال نے علم اور شعور کی اہمیت پر زور دیا تھا، اور آج کے دور میں یہ بات پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گئی ہے کہ ہم معلومات کو سمجھ کر، پرکھ کر اور تحقیق کے بعد قبول کریں۔
اگر ہم اس تنازعے کا گہرائی سے تجزیہ کریں تو یہ صرف علاقائی جنگ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کی جنگ ہے۔ تیل کے ذخائر، جغرافیائی اہمیت اور سیاسی اثر و رسوخ اس تنازعے کے بنیادی عوامل ہیں۔ امریکہ اپنی عالمی برتری کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر جارحانہ حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ ایران اپنے دفاع اور اثر و رسوخ کے لیے میدان میں ہے۔ اس پورے منظرنامے میں انسانی اقدار، انصاف اور امن کہیں پیچھے رہ گئے ہیں۔
اقبال نے ہمیشہ انسانیت، اخوت اور عدل کی بات کی۔ ان کے نزدیک ایک مثالی معاشرہ وہ تھا جہاں ہر انسان کو برابری، عزت اور انصاف حاصل ہو۔ مگر آج کی دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ طاقتور ممالک کے لیے ایک قانون ہے اور کمزور ممالک کے لیے دوسرا۔ یہی دوہرا معیار عالمی نظام کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
پاکستان کے لیے بھی یہ صورتحال نہایت حساس ہے۔ ایک طرف اس کے ایران کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور جغرافیائی تعلقات ہیں، اور دوسری طرف اسے عالمی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ اس نازک توازن کو برقرار رکھنا ایک بڑا سفارتی چیلنج ہے۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں قابلِ تحسین ہیں، مگر اس کے ساتھ ساتھ اسے اپنے داخلی استحکام پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ ایک فلاحی، خودمختار اور نظریاتی ریاست تھی۔ مگر آج ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم اس خواب کے قریب بھی پہنچ سکے ہیں؟ داخلی سیاسی عدم استحکام، معاشی مشکلات اور سماجی مسائل نے ہماری ترقی کی رفتار کو متاثر کیا ہے۔ اگر ہم واقعی اقبال کے پیغام کو سمجھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنا ہوگا اور ان پر قابو پانے کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
موجودہ جنگی حالات کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس نے دنیا کو ایک بار پھر یہ یاد دلایا ہے کہ امن کتنا نازک ہوتا ہے۔ ایک چھوٹا سا واقعہ بھی بڑے تنازعے کو جنم دے سکتا ہے۔ ایسے میں سفارت کاری، مکالمہ اور برداشت کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اقبال نے بھی مکالمے اور فکری تبادلے کو اہمیت دی، کیونکہ یہی وہ راستہ ہے جو اختلافات کو کم کر سکتا ہے۔
اگر ہم نوجوان نسل کی بات کریں تو ان پر سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ اس جنگی ماحول میں نہ صرف متاثر ہو رہے ہیں بلکہ ان کا مستقبل بھی اس سے جڑا ہوا ہے۔ اقبال نے نوجوانوں کو شاہین سے تشبیہ دی، جو بلند پرواز، خوددار اور باہمت ہوتا ہے۔ آج کے نوجوانوں کو بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور اپنی قوم کی ترقی میں کردار ادا کرنا ہوگا۔
تجزیاتی طور پر دیکھا جائے تو موجودہ عالمی صورتحال ہمیں تین اہم اسباق دیتی ہے۔ پہلا یہ کہ طاقت کا توازن ہمیشہ بدلتا رہتا ہے، اس لیے کسی بھی قوم کو صرف بیرونی طاقتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ دوسرا یہ کہ داخلی اتحاد اور استحکام کسی بھی قوم کی سب سے بڑی طاقت ہوتے ہیں۔ اور تیسرا یہ کہ علم، تحقیق اور شعور کے بغیر کوئی بھی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
اقبال کا فلسفہ ان تینوں اصولوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے خودی، اتحاد اور علم پر زور دیا، جو آج بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے ان کے دور میں تھے۔ اگر ہم ان اصولوں کو اپنی زندگی میں شامل کر لیں تو نہ صرف ہم اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی ایک مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ جنگی صورتحال دراصل ایک امتحان ہے — نہ صرف عالمی طاقتوں کے لیے بلکہ ہر قوم کے لیے۔ یہ امتحان ہے کہ ہم کس حد تک اپنے اصولوں، اپنی اقدار اور اپنی انسانیت کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔ اقبال کا پیغام ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ مشکل حالات میں بھی ہمیں اپنی شناخت اور اپنے اصولوں سے سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ 21 اپریل کا دن ہمیں صرف ماضی کی یاد نہیں دلاتا بلکہ مستقبل کی راہ بھی دکھاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں کہاں جانا ہے۔ موجودہ جنگی حالات کے تناظر میں اقبال کے افکار ہمیں امید، حوصلہ اور رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
اگر ہم واقعی ایک پرامن، مضبوط اور باوقار معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اقبال کے پیغام کو سمجھنا ہوگا اور اسے اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں نہ صرف موجودہ بحرانوں سے نکال سکتا ہے بلکہ ایک روشن مستقبل کی طرف بھی لے جا سکتا ہے۔