آئین میں ممکنہ ترمیم، فیلڈ مارشل کے اختیارات میں اضافے کا امکان محسن بیگ

اسلام آباد (حذیفہ اشرف) سینئر صحافی محسن بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت آئین کے آرٹیکل 243 میں ترمیم کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی تحفظ دینا اور فیصلہ سازی میں ان کا کردار بڑھانا ہے۔محسن بیگ کے مطابق، 27ویں آئینی ترمیم پر تیزی سے ہوم ورک جاری ہے اور حکومت 14 یا 15 نومبر کو اس ترمیم کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی اختیارات کے حوالے سے حکومت سے بارگیننگ میں مصروف ہے، تاہم وہ ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر رضامند ہو چکی ہے۔۔

ان کے مطابق ترمیم کے نتیجے میں تعلیم اور صحت کی وزارتیں دوبارہ صوبوں کے ماتحت کر دی جائیں گی جبکہ ایگزیکٹو مجسٹریسی نظام بھی بحال کیے جانے کا امکان ہے۔محسن بیگ نے مزید دعویٰ کیا کہ حکومت پیپلز پارٹی کے مطالبات پر لچک دکھانے پر تیار ہے، خصوصاً این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ برقرار رکھنے کے معاملے پر۔ ان کا کہنا تھا کہ ترمیم کی منظوری کے بعد پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جس کے لیے “فیصلہ سازوں کی جانب سے گرین سگنل” دیا جا چکا ہے