اٹھارہویں صدی کے فرانسیسی شاعر روسو کا یہ قول دنیا بھر میں بہت مشہور ہے کہ انسان آزاد ہیدا ہوتا ہے لیکن جہاں دیکھو وہ غلامی کی زنجیروں میں جکڑا نظر آتا ہے روسو کا خیال تھا کہ غلامی کی یہ زنجیریں سماج نے بنائی ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ سماج کے بااثر اور طاقت ور طبقات ہی انسانی غلامی کی بنیاد ہیں کیونکہ وہ طبقات عام انسان کو قابو رکھنے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہوئے عوام سے آواز اُٹھانے کی طاقت چھین لیتے ہیں ۔
وطن عزیر میں بھی ہر دور کے حکمران ۔ہر دور کی اسٹبلشمنٹ ۔ ہر دور کی بیور کریسی اور ہر دور کی اپوزیشن نے اپنی پوری قوت سے عوام کو بے بس بنا کر غلامی کی زندگی گذارنے پر مجبور کیے رکھا ۔گو ہم بظاہر آزاد ہیں لیکن ہماری غلامی ہماری خاموشی سے عیاں ہوتی ہے ہم ہر ظلم۔وزیادتی کو بڑی خاموشی سے سہہ لیتے ہیں آواز اُٹھانے کی کوشش نہیں کرتے ہم اپنے نظام پر نظر ڈالیں تو ہر طرف کیثر القومی کمپنیوں کا پھیلاؤ ان کی وسعت پذیری ۔۔چھوئی بڑی کمپنیوں کے انضمام سے دیو ہیکل کمپنیوں کاظہور نظر آتا ہے ان کمپنیوں کی جانب سے کمیشن کک بیکس بھاری نذرانوں اور تحائف کے نہے
پر پھیلائی کرپشن نے ریاست کی پہلے سےدگرگوں انتظامی صلاحیت کو مزید عوام دشمن بنا دیا ہےنتیجے میں ریاستی مشنری کے اہلکار کرپشن کی دولت سے مالا مال اور عوام کی اکثریت غربت سے نیچے گرتی جارہی ہے حکومت کوئی بھی ہو یہ کمپنیاں اپنی طاقت اور رسوخ سے حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیتی ہیں حکومتوں کی کمزروی کے باعث یہ کمپنیاں عوام کا خون چوستی ہیں تازہ مثال موجود ہے
کہ بین القوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بہت بڑی کمی کے ثمرات صرف اس لیے عوام کو نہیں مل۔سکے کہ آئل کمپنیاں۔نے حکومت کو۔مجبور کردیا کہ کمی سے انہیں نقصان ہوگا لہذا تابعدار حکمرانوں نے سرینڈر کیا ۔نہیں۔پوچھا کہ یکمشت سو روپے سے زائد کے اضافے سے جو اربوں کمائے وہ کیا تھا ؟؟اب گزشتہ شب حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کیا گیا جس سے گھریلو سلینڈر کی سرکاری قیمت 2848 روپے مقرر ہوئی ۔لیکن ملک بھر ہرجگہ سلنڈر کی قیمت 4500 سوروپے وصول کی جارہی ہے ۔وجہ یہ کہ گیس کمپنیاں حکومت سے زیادہ طاقتور ہیں
کیونکہ اس لوٹ میں سب حصہ دار ہیں گیس کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے قبل گھریلو سلنڈر کی سرکاری قیمت3680سو طے تھی لیکن رٹیلر 5000 کا فروخت کرتے رہے حالیہ کمی کے بعد گیس فی کلو میں 67 روپے کی کمی کی گئی جس کے حساب سے سلنڈر کی قیمت میں 794 روپے کی کمی واقع ہوئی یعنی اگر گیس مافیا 5000 ہزار سے حالیہ کمی منہا کرئے تو لوٹ مار پروگرام کے تحت بھی سلنڈر کی قیمت 4206 روہے ہونا چاہیے جو کہ4500 سو میں فروخت کیا جارہا ۔سرکاری نرخ کا۔موزانہ 4500 سے کیا جائے تو عوام سے 2152 روپے فی سلنڈر اضافی وصول کیے جارہے ہیں۔
کمپنیوں کی لوٹ مار پر حکمران طبقہ تو خاموش ہے لیکن اپوزیشن جماعتیں بھی مجرمانہ طور پر خاموش ہیں کیونکہ ان کے مفادات بھی ان کمپنیوں سے جڑے ہوئے ہیں۔۔ہمارا المیہ ہے کہ ہم اپنی اپنی۔پسندیدہ سیاسی جماعت کے کردار پر بات کرنا گناہ سمجھتے ہیں۔حکومت کی غلطیوں کوتاہوں اور لوٹ پر اپوزیشن ہی گرفت کیا کرتی ہے یہاں تو اپوزیشن عوامی مشکلات پر بولنے کے بجائے ذاتی مفادات کی جنگ میں مصروف ہے ۔حکومت کے حمایتی حکومت کا دفاع کررہے ہیں اور اپوزیشن کے فالور اپنی جماعتوں کی بلے بلے میں مصروف ہیں ۔یہی ہماری غلامی کا ثبوت ہے۔۔