
میرا گورنمنٹ ہائی اسکول چک بیلی خان سے تعلق 1979ءمیں قائم ہوا جب میں جماعت پنجم کا امتحان پاس کرکے یہاں جماعت ششم میں داخل ہوا اور نڑ کے قلم اور تختی ،سلیٹ اور سلیٹی کو چھوڑ کر کاپی اور روشنائی والے قلم سے آشنا ہواجس میں بچے عموماً نیلے رنگ کی روشنائی استعمال کرتے تھے ۔ہائی سکول میں ہمارا انگریزی اور فارسی زبانوں سے واسطہ پڑا جو ہمیں شروع سے سیکھنا تھیں ان کے علاوہ زرعی تعلیم کے مضمون کا اضافہ ہوا جس کے مندرجات کا تعلق ہماری روزمرہ کی زندگی سے تھا.سکول کی عمارت موجودہ عمارت سے تھوڑی مختلف تھی ۔موجودہ سرسیّد احمد خان بلاک اور چوہدری نثار علی خان بلاک کی جگہ پہلے دو پرانے بلاک تھے مگر ان کے عقب میں خالی جگہ تھی جہاں بلندوبالا درخت لگے تھے اب موجودہ بلا ک میں وہ خالی جگہ بھی شامل کردی گئی ہے ۔جماعت ششم میں سلیمان صاحب ہمیں انگریزی زبان کی تعلیم دیتے تھے اور ہماری حاضری لگاتے تھے آپ میں ایک ایسی خوبی ہے جو بہت کم لوگوں میں ہوتی ہے آپ کو اللہ تعالیٰ نے اچھی یادداشت سے نوازا ہے آج بھی آپ کو اپنے شاگردوں کے نام اور سکول میں پڑھائی کا سال بالکل صحیح یاد ہے اللہ تعالیٰ آپ کو صحت والی لمبی عمر عطاءفرمائے آمین۔پنڈوڑی سے تعلق رکھنے والے ملک محبوب خان پی ٹی آءکے فرائض سرانجام دے رہے تھے آپ کے دور میں طلبہ میں نظم وضبط مثالی تھا صبح اسمبلی میں چند بچے ڈرم بجاتے تھے جیسے فوج میں بجاتے ہیں اور دیگر بچے دعا کے بعد پریڈ کرتے تھے ۔اس وقت ہر جماعت کے ورزش کے پیریڈ بھی ہوتے تھے بچے موجودہ چوہدری نثارعلی خان بلاک کے عقب میں خالی جگہ پر ورزش کرتے تھے جس کی نگرانی ملک محبوب خان خود کرتے تھے۔آپ بچوں کو ہفتے میں ایک روز سکول سے باہر سڑک کے ساتھ ساتھ تین چار کلومیٹر پیدل منظّم انداز میں چلا کر لے جاتے تھے اس کے علاوہ طلبہ سے گزرگاہوں کی درستی کا کام بھی لیتے تھے۔پنڈوڑی کے ملک شیرزمان صاحب بڑے خوب صورت انداز میں سائنس کی تعلیم دیتے تھے اور طلبہ کو عملی طور پر سمجھاتے تھے .فارسی زبان کی تعلیم ہم نے پنڈوڑی کے ہی استادِ محترم مولوی حنیف صاحب سے حاصل کی مجھے یاد ہے کہ جماعت ہشتم کے نوماہی امتحان میں میرے فارسی میں سو میں سے چورانوے نمبر تھے۔جماعت ہفتم میں ہمیں تلہ بجاڑ کے بشیراحمد قریشی صاحب انگریزی پڑھاتے تھے آپ کا اندازِ تکلم بڑا پراثر تھا آپ اسباق کے دوران اکثردلچسپ واقعات اور چٹکلے سناتے رہتے جس کی وجہ سے بچے انہیں بڑا پسند کرتے تھے۔جب میں آٹھویں جماعت میں تھا تو ہمارے اسکول میں بشیر احمدغزالی صاحب اردو کے معلم تعینات ہوئے آپ پاکستان بحریہ کی ملازمت مکمل کرنے کے بعد محکمہءتعلیم میں آئے تھے اور اردو میں فاضل کے سنّدیافتہ تھے۔آپ بڑے دھیمے لہجے میں بات کرتے جس وجہ سے طلبہ بہت جلد ان سے مانوس ہوگئے۔آپ نے طلبہ کو بزمِ ادب کی طرف راغب کیا اس وقت عیدمیلادالنبی ﷺ ،ولادت ووفات علامہ اقبال اور امتحانی نتائج کے مواقع پر جلسہ ہوتا تھا جس میں مجھے بھی شمولیّت کا اعزاز حاصل ہے میں سوال وجواب اور بیت بازی یعنی اشعار سنانے کے مقابلوں میں حصہ لیتا تھا ۔میرے علاوہ میرے ہم جماعت پنڈوڑی کے دو بھائی عابدوسیم اور حامد ندیم کے علاوہ روپڑ کلاں کے مطاءالرحیم بھی شامل ہوتے ،چک بیلی خان کے محمد یعقوب بہت خوب صورت آواز میں نعت پیش کرتے ،بشیراحمد غزالی صاحب مختلف رنگوں کے چارٹ کاٹ کر ان پر سوالات ،جوابات اور اشعار تحریر کرکے لاتے جووہ بچوں سے پوچھتے،آپ کی تحریر پڑھ کر یوں محسوس ہوتا کہ جیسے صفحات میں الفاظ کے موتی پروئے ہوئے ہیں۔ایک بار مردم شماری کے موضوع پر فکاہیہ ڈرامہ پیش کیا گیا ،اس ڈرامے کی امداد علی شاہ صاحب نے تیاری کروائی اس ڈرامے کے کرداروں میں سے نور محمد گجر نے ایک سفید ریش بزرگ کا اور جمیل احمد نے ایک شاعر کے کردار بڑی خوبی سے ادا کئے۔اس زمانے میں جیب خرچ گھر سے بہت کم ملتا تھا ،کبھی کبھی اسکول کے باہر لبِ سڑک صوفی میرافضل سے چار آنے یا آٹھ آنے کی چاول چنے کی پلیٹ کھا لیتے تھے آپ کے چاول چنے جو بھی کھاتا انگلیاں چاٹتا رہ جاتا اور اس کا لمس کافی دیر تک محسوس کرتا ۔جب میٹرک کی سطح تک پہنچے تو چوہدری بشیراحمد صاحب جو ہمارے محلے دار تھے اور مطالعہ پاکستان پڑھاتے تھے ان سے بچے بڑا ڈرتے تھے کیونکہ وہ سنجیدہ طبیعت کے مالک تھے اور سبق یاد نہ ہونے کی صورت میں سخت سزا دیتے تھے البتہ مجھے ان کا سبق یاد ہوجاتا تھا ، پتا نہیں ا±ن کے ڈر سے ہوتا تھا یا ویسے ہی ہو جاتا تھا۔ہمارے سائنس کے استاد محمدخان صاحب بڑی محنت سے پڑھاتے تھے اور کیمیا اور طبیعات کے تجربات خود کرواتے تھے۔گورنمنٹ ہائی اسکول چک بیلی خان میں میرے زمانہ ءطالب علمی میں کھیلوں پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی ، سکول کی کبڈی ٹیم کے مختلف سکولوں کی کبڈی ٹیموں سے میچ کروائے جاتے تھے ، میچ کے ریفری چودھری بشیر احمد صاحب ہوتے تھے جو سکول کی ٹیم کے کوچ بھی تھے ، آپ کی کوچنگ میں ٹیم نے لازوال کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور سکول کا نام روشن کیا ، وہ زمانہ اب بھی میری نظروں کے سامنے ہے اور میں اکثر اس سنہری دور کو یاد کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس ادارے کو اسی طرح آ باد رکھے اور جگ میں اس کی شہرت قائم رہے آ مین