
چونترہ کی سرزمین پر آج بھی وقت جیسے ایک ادھوری داستان کی صورت ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ 1980ءکی دہائی میں جب علاقے کی ترقی، زرعی خوشحالی اور عوامی فلاح کے خواب دیکھے جا رہے تھے، اس وقت چونترہ میں ایک ایسی مرکزی زرعی منڈی قائم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا جو پورے علاقے کے کسانوں اور تاجروں کے لیے معاشی سرگرمیوں کا محور بن سکتی تھی۔ یہ منصوبہ محض سرکاری کاغذوں تک محدود نہ تھا بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات بھی کیے گئے۔ کنکریٹ کے بڑے بڑے سلیب اور تھڑے تعمیر کیے گئے تاکہ یہاں باقاعدہ زرعی منڈی کا ڈھانچہ وجود میں آ سکے۔اس منصوبے کی سب سے اہم اور قابلِ فخر بات یہ تھی کہ راجگانِ چونترہ نے خالصتاً عوامی فلاح کے جذبے کے تحت 105 کنال قیمتی اراضی حکومت کے حوالے کی۔ یہ ایک ایسا ایثار تھا جس کی مثال آج کے دور میں کم ہی ملتی ہے۔
اس زمین میں سے 16 کنال اس خاندان کو دی گئی جس نے علاقے میں ہسپتال کے لیے جگہ فراہم کی، جبکہ باقی اراضی گرلز سکول اور مجوزہ زرعی منڈی کے لیے حکومتِ پنجاب کو عطیہ کر دی گئی۔ مقصد واضح تھا: تعلیم، صحت اور زراعت یعنی عوامی زندگی کے تین بنیادی ستونوں کو مضبوط کرنا۔مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ منصوبہ حکومتی غفلت کی نذر ہو گیا۔ چار دہائیوں سے زائد عرصہ بیت چکا ہے
لیکن وہ منڈی جس نے علاقے کے کسانوں کی تقدیر بدلنی تھی، آج بھی ایک خواب ہی بنی ہوئی ہے۔ جن تھڑوں پر کبھی تجارتی رونقوں کی امید تھی، وہاں اب خاموشی اور ویرانی بسی ہوئی ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عوامی مقصد کے لیے دی گئی اس زمین پر ناجائز قبضے قائم ہو چکے ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات نے اس تاریخی منصوبے کی اصل روح کو مجروح کر دیا ہے۔اہلِ علاقہ کا موقف بالکل واضح ہے کہ یہ زمین کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ عوامی فلاح کے لیے دی گئی تھی، اس لیے اسے اسی مقصد کے تحت استعمال ہونا چاہیے۔ اسی سلسلے میں نمبردار راجہ عبدالرحمان نے نہ صرف اس مسئلے کو دوبارہ اجاگر کیا بلکہ انتظامیہ کے سامنے اس کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو بھی تفصیل سے رکھا۔
انہوں نے اے سی راولپنڈی صدر کو بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ راجگانِ چونترہ نے یہ اراضی ایک امانت کے طور پر حکومت کے حوالے کی تھی تاکہ آنے والی نسلیں اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔اہم پیش رفت ا±س وقت سامنے آئی جب اے سی راولپنڈی صدر نے چونترہ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اہلِ علاقہ نے انہیں ا±س مقام کا معائنہ کروایا جہاں زرعی منڈی قائم ہونا تھی۔ نمبردار راجہ عبدالرحمان نے موقع پر کھڑے ہو کر زمین کی تاریخی حیثیت، عطیہ کیے جانے کے پس منظر اور موجودہ ناجائز قبضوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔ ذرائع کے مطابق اے سی راولپنڈی صدر نے عوامی موقف کو غور سے سنا اور یقین دہانی کروائی کہ اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے۔مزید اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے موقع پر ہی لینڈ ریونیو کے اہلکاروں کو ہدایات جاری کیں کہ زمین کی پیمائش، اصل حدود کی نشان دہی اور سرکاری ریکارڈ کی جانچ فوری طور پر کی جائے تاکہ حقیقت واضح ہو سکے
اور ناجائز قبضوں کے خاتمے کے لیے قانونی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔ یہ اقدام اہلِ علاقہ کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہوا کیونکہ کئی برسوں بعد پہلی مرتبہ انتظامیہ نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے عملی پیش رفت کا عندیہ دیا۔چونترہ منڈی کا معاملہ صرف ایک ترقیاتی منصوبے کی ناکامی نہیں بلکہ یہ ریاستی ذمہ داری، عوامی اعتماد اور دیہی ترقی کے تصور کا امتحان بھی ہے۔ اگر حکومت واقعی زرعی شعبے کی ترقی، دیہی معیشت کی مضبوطی اور عوامی فلاح کے دعوو¿ں میں سنجیدہ ہے تو چونترہ جیسے منصوبوں کو دوبارہ زندہ کرنا ناگزیر ہو گا۔ کیونکہ جب لوگ اپنی زمینیں عوامی مفاد کے لیے قربان کرتے ہیں تو ریاست پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس اعتماد کو ٹوٹنے نہ دے۔
آج بھی چونترہ کے لوگ یہی سوال پوچھتے ہیں کہ آخر وہ خواب کب حقیقت بنے گا جس کے لیے ان کے بزرگوں نے اپنی زمینیں وقف کی تھیں؟ کیا وہ مقام کبھی واقعی ایک فعال زرعی منڈی کی شکل اختیار کرے گا یا پھر یہ داستان بھی ہماری بے شمار ادھوری ترقیاتی کہانیوں میں شامل ہو کر رہ جائے گی؟دیر آید، درست آید مگر اب وقت آ گیا ہے کہ چونترہ کے اس دیرینہ مسئلے کا مستقل اور عملی حل نکالا جائے، تاکہ عوامی فلاح کے لیے دی گئی زمین واقعی عوام ہی کے کام آ سکے۔